غبارہ

آجکل غباروں میں سفر کرنا بہت سے لوگوں کا شوق اور مشغلہ ہے۔ جہاز عام طور پر 33 سے 40 ہزار فُٹ کی بلندی پر سفر کرتے ہیں جبکہ غبارہ کی بلندی ایک لاکھ تیرہ ہزار فٹ تک ریکارڈ کی جاچکی ہے۔ اس سے اوپر چونکہ خلا شروع ہو جاتا ہے اس لئے مزید اوپر جانا غبارہ کے لئے ممکن نہیں تھا۔ آغاز میں جو غبارے بنائے گئے اُن کے منہ کے نیچے آگ جلائی جاتی تھی اور جب اُن کے اندر کی ہوا گرم ہوکر پھیلتی تھی تو غبارہ اوپر اُٹھ جاتا تھا۔ سب سے پہلا غبارہ کاغذ اور کپڑے سے تیار کیا گیا تھا، جو5؍جون 1783ء کو چھوڑا گیا۔ یہ کئی سو فٹ تک بلند ہو ااور پھر باحفاظت زمین پر اتر آیا۔ کچھ تجربات کے بعد انسانوں نے بھی غبارے میں سفر کرنا شروع کردیا۔ لیکن چونکہ ان غباروں میں آگ لگنے کا خطرہ موجود ہوا کرتا تھا اس لئے ہائیڈروجن گیس کا تجربہ کیا گیا ۔ یہی گیس اُن غباروں میں بھری جاتی ہے جو گیسی غباروں کے نام سے مشہور ہیں۔ ایسے غباروں کے اوپر ایک والو ہوتا تھا تاکہ جب زمین پر اترنا ہو تو آہستہ آہستہ گیس خارج کردی جائے۔ ایسے ہی ایک غبارے میں دو سائنسدانوں نے 7؍جنوری 1785ء کو رودبار انگلستان عبور کیا اور 1797ء میں ایک فرانسیسی سائنسدان نے دو ہزار فٹ بلند غبارے میں سے پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگاکردیکھنے والوں کو حیران اور خوفزدہ کردیا۔
غباروں کی مدد سے بہت سی تحقیقات کی گئی ہیں۔ مثلاً پانچ ہزار فٹ کی بلندی پر انسانی دل کی دھڑکن آکسیجن کی ہوا میں کمی کے باعث بڑھ جاتی ہے اور انیس ہزار فٹ کی بلندی پر درجہ حرارت صفر ہو جاتا ہے جس سے پانی منجمد ہوکر برف بن جاتا ہے۔ اکتیس ہزار فٹ پر درجہ حرارت منفی 32 ہو جاتا ہے لیکن اس کے بعد مزید بلندی پر درجہ حرارت مسلسل بڑھنے لگتا ہے۔
ان غباروں کے سفر کے نتیجے میں بعض افسوسناک حادثات بھی ہوتے رہے ہیں۔ 15؍اپریل 1875ء کو تین فرانسیسی سائنسدان ایک غبارے میں سفر پر نکلے لیکن 25 ہزار فٹ کی بلندی پر آکسیجن اچانک اتنی کم ہوگئی کہ دو بیہوش ہوگئے اور تیسرے نے گرتے گرتے والو سے گیس نکالنے والی رسی کو کھینچ دیا۔ جب غبارہ نیچے آیا تو دو سائنسدان مر چکے تھے۔ پھر 1927ء میں بھی ایک امریکی فوجی غبارہ میں 44 ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچ کر بیہوش ہوگیا لیکن گرنے سے قبل اُس نے رسی کو کھینچ دیا۔ تاہم جب غبارہ نیچے اترا تو وہ بھی مر چکا تھا۔ چنانچہ پھر ایسے غبارے تیار ہونے لگے جن کے نیچے مسافروں کی سواری کے لئے لٹکنے والا گنڈولا ایلومینیم کا بنایا جانے لگا جو بند ہوتا تھا اور اس میں آکسیجن کا پریشر برقرار رکھا جاتا تھا۔ ایسے ہی ایک غبارے میں 1935ء میں دو امریکی کپتان 72 ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچے اور پھر 1960ء میں امریکی بحریہ کے دو افسر ایک کھلے گنڈولے میں ایک لاکھ 13 ہزار 740 فٹ کی بلندی تک پہنچے لیکن انہیں خلائی لباس میسر تھے۔ یہ دراصل اِن لباسوں کا ٹسٹ تھا تاکہ انہیں آئندہ خلا کے سفر میں استعمال کیا جاسکے۔
12؍اگست 1960ء کو ایک ایسا راکٹ خلا میں بھیجا گیا جس کے ساتھ (ایکو1 نامی) ایک غبارہ لگایا گیا تھا۔ جب راکٹ اپنے مدار میں داخل ہوا تو اِس غبارہ کو خلا میں داغ دیا گیا۔ اسی طرح موسمی اطلاعات اور سائنسی تحقیقات کے لئے اب تک لاتعداد غبارے فضا میں چھوڑے جا چکے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں