غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی اور بیدارمغزی

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8 و 10اگست 2011ء میں مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غزوات میں حکمت عملی اور بیدارمغزی کو آپؐ کی بہترین قیادت اور رہنمائی کی اعلیٰ خصوصیات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے ساتھی، قریش کے اُس تجارتی قافلہ کو روکنے کے لئے نکلے جس کا منافع جنگی مقاصد میں استعمال ہونا تھا تو مکّہ سے اُس تجارتی قافلہ کی حفاظت کے لئے آنے والے مسلح لشکر سے میدانِ بدر میں مسلمانوں کا اچانک مقابلہ ہوگیا۔ مسلمان ذہنی طور پر اس کے لئے تیار نہ تھے۔ آنحضور ؐ نے ان حالات میں اللہ تعالیٰ کی بشارتوں کے مطابق مومنوں کو خوشخبری دی کہ اگر تم میں بیس ثابت قدم رہنے والے ہوئے تو وہ دوسو پر غالب آئیں گے اور ایک سو ثابت قدم رہنے والے ہوئے تو وہ ایک ہزار پر غالب آئیں گے۔ اس موقع پر مسلمانوں کو دشمن کے مقابلہ پر تیار کرنے کے لئے جو مؤثر خطاب آپؐ نے فرمایا اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورہ آل عمران (آیات 125تا 128)میں فرمایا ہے۔
غزوۂ احد میں بھی رسول اللہؐ نے ایک ماہر قائد کی طرح میدان جنگ میں خود صف بندی کروائی اور میمنہ و میسرہ خود مقرر فرمایا۔ اس کا ذکر بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے۔ الغرض آپؐ نے کمال حکمت سے اپنے کمزور اورتعداد میں کم بے سروسامان ساتھیوں کو ایک طاقتور مسلح قوم کے مقابلہ کے لئے تیار کیا اور فتح پائی۔ اس میں بے شک اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت بھی شامل تھی۔
دشمن کی خبریں حاصل ہونے کا نظام
جنگ میں دشمن کے منصوبوں سے باخبرہونا بہترین حکمت عملی ہے جسے بجاطور پرآدھی فتح کہا جاتا ہے۔ غزوۂ بدر میں پڑاؤ کے وقت رسولؐ اللہ نے چند اصحاب کو مشرکین کی خبرمعلوم کرنے کے لئے بدر کے چشمہ کی جانب بھجوایا ۔ یہ صحابہ قریش کے ایک غلام کو پکڑ لائے اوراُس سے پوچھ گچھ شروع کی ۔ رسولؐ اللہ نماز پڑھ رہے تھے ۔ غلام نے بتایا کہ وہ مکّہ سے آنے والے ابوجہل کے لشکر کے ساتھ تھا اور پانی لینے نکلا ہے۔ مسلمان اس سے باربارابو سفیان کے قافلہ کا پوچھتے، وہ کہتا مجھے اس کا علم نہیں۔ جب ماراپیٹا جاتا تو کہتا ’’اچھا مَیں بتاتا ہوں‘‘۔ چھوڑنے پر پھر کہہ دیتا کہ مجھے علم نہیں۔ رسولؐ اللہ نے نماز سے فارغ ہوکر فرمایا کہ ’’جب وہ سچ بولتا ہے تم اسے مارتے ہو اور جب جھوٹ بولتا ہے تو اسے چھوڑ دیتے ہو‘‘۔ پھر آپؐ نے کمال حکمت سے اس سے پوچھا کہ قریش کی تعداد کیا ہے ؟ اس نے کہا بہت زیادہ۔ معین تعداد پوچھی تو کہا ’’معلوم نہیں۔‘‘آپ ؐ نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ وہ روزانہ کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں؟ کہنے لگا کبھی نو اورکبھی دس۔ آپ ؐ نے کیا خوب اندازہ فرمایا کہ ’’یہ لوگ نوسو سے ایک ہزار تک ہیں۔‘‘ لشکر کی واقعی یہی تعداد تھی۔ پھر آپؐ نے پوچھا لشکر میں کون لوگ شامل ہیں؟ اس نے تمام بڑے بڑے سرداروں کے نام لئے۔ قبل اس کے کہ صحابہؓ ان سورماؤںسے مرعوب ہوتے، رسول اللہؐ نے ایک بات سے ہی سب اثر زائل کر کے ان کے حوصلے بڑھادیئے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’لو مکّہ نے اپنے جگرگوشے تمہارے سامنے لا ڈالے ہیں‘‘۔
بدر کے موقع پر اپنے اخفائے اسلام کی وجہ سے حضرت عباسؓ کو بھی کفارمکہ کے لشکر میں مجبوراً شامل ہونا پڑا تھا۔ رسولؐ اللہ اس سے بھی باخبر تھے اور آپ ؐنے صحابہ کو ہدایت فرمائی کہ بنی ہاشم کے کچھ لوگ بشمول حضرت عباسؓ مجبوراً جنگ کے لئے نکالے گئے ہیں۔ ہمیں اُن سے جنگ کرنے یا مارنے کی ضرورت نہیں۔ حضرت عباسؓ قید ہوئے تو اُن کے ساتھ تمام قیدیوں کی مشکیں ڈھیلی کرنے اور حضرت عباسؓ کے اقرار اسلام کے باوجودبطور عام قیدی فدیہ وصول کرنے میں بھی یہ حکمت عملی کارفرما تھی کہ ان کے اخفائے اسلام کا راز فاش نہ ہوجائے ۔ حضرت عباسؓ کو مکّہ میں رکھنے کی حکمت عملی کی برکت تھی کہ غزوہ احد سے پہلے انہوںنے مکہ سے بنی غفار کے ایک شخص کے ہاتھ خط دے کر رسولؐ ؐاللہ کو کفار کے تین ہزار کے لشکر کے حملہ آور ہونے کی فوری اطلاع کروائی تھی۔
اسی طرح غزوہ خیبر میں مسلمانوں کی شکست کی جھوٹی خبر مکہ میں مشہور ہوجانے پر حضرت عباسؓ رسولؐ اللہ کی احوال پرسی کے لئے مکہ سے نکل کھڑے ہوئے تھے اور رسولؐ اللہ سے ملاقات کر کے خود فتح کی خبر سن کروہ مطمئن ہوئے بلکہ مال غنیمت سے بھی حصہ پایا ۔ پھر فتح مکہ سے قبل مکہ سے نکل کر رسولؐ اللہ کے لشکر میں شامل ہوگئے تھے اور آپ ؐ سے خاتم المہاجرین کا خطاب پایا۔ جس میں اشارہ تھا کہ رسولؐ اللہ کے حکم پر ان کا مکہ میں رہ کر مسلمانوں کے مفاد کے لئے خدمات بجالانا دوسروں کی ہجرت سے بڑھ کر ثواب واجر رکھتا ہے۔
رسول کریمؐ کا فراہمی اطلاعات کا نظام اتنا مکمل تھا کہ غزوۂ احزاب میں مسلمانوں کے حلیف خزاعہ قبیلہ کی طرف سے لشکرِ کفار کی پیشگی اطلاع کے نتیجہ میں ہی مسلمان اپنے دفاع کے لئے بر وقت خندق تیار کرسکے تھے ۔
غزوۂ خیبر میں بھی دشمن کی اطلاعات حاصل کرنے کے عمدہ انتظام تھے۔ آخری قلعہ کی فتح سے پہلے حضرت عمرؓ کے ذریعہ یہودی جاسوس کی گرفتاری بہت مفید ثابت ہوئی۔ دشمن کا ذخیرہ ختم ہونے اور یہود کی پست ہمتی کی اطلاع سے مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوئے۔
مکہ کی عظیم الشان تاریخی فتح میں بھی کشت و خون سے بچاؤ کا سبب مسلمانوں کے نظام اطلاعات کا مؤثر ہونا اور دشمن کے اطلاعی نظام کا ناقص ہونا تھا ۔ دس ہزار کا لشکر مکہ کے سر پر آن پہنچا اور انہیں خبر تک نہ ہوئی۔
سپاہیوں کی حوصلہ افزائی اور دلداری
رسول اللہؐ جنگ میں بھی جہاں اپنے صحابہ کی دلداری کا خیال رکھتے تھے، وہاں راہِ خدا میں جان کی قربانی پیش کرنے والوں کا بہت اعزاز فرماتے تاکہ آئندہ قربانی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مہم سے پسپا ہو کر ہمیں واپس مدینہ آنا پڑا۔ فجر کی نماز میں رسول اللہ ؐ سے ملاقات کرکے ہم نے اپنے کئے پر پشیمانی اور معذرت کا اظہار کیا تو آپ ؐ نے فرمایا ’’تم بھگوڑے نہیں ہو بلکہ تازہ دم ہوکر دشمن پر دوبارہ حملہ کرنے والے ہو ‘‘۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے والہانہ طور پر آگے بڑھ کر رسولؐ اللہ کے ہاتھوں کو چوم لیا۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓبیان فرماتے تھے کہ احد کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ’’اے سعدؓ! تیر چلاؤ۔ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں‘‘۔
میدان احد میں تیر بانٹنے والا جب اپنا ترکش لے کر رسولؐ اللہ کے پاس سے گزرتا تو آپؐ فرماتے‘ ارے !ابو طلحہ کے لئے تیرپھیلادو۔یہ ابوطلحہ کی حوصلہ افزائی تھی۔
غزوہ خیبر میں ایک صحابی حضرت عامرؓ یہودی سردار مرحب سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی ہی تلوار کے کاری زخم سے جانبر نہ ہوسکے۔ اس پر بعض لوگوں نے عامرؓ کی شہادت کو خود کشی گمان کیا۔ عامرؓ کے بھتیجے حضرت سلمہ بن الاکوعؓ لوگوں کے خیال پر بہت غمگین تھے۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا جس نے بھی یہ کہا غلط کہا ہے۔ عامر کے لئے دوہرا اجر ہے۔ وہ تو جہاد کرنے والا ایک عظیم الشان مجاہد تھا۔
غزوۂ احد میں دُوراندیشی
غزوۂ احد کے موقع پر آپؐ نے ایک طرف مدینہ کو حفاظت کی خاطر اپنے پیچھے رکھا تو دوسری طرف اُحد پہاڑ کی آڑ لے کراُسے ڈھال بنایا۔ پھر آپؐ کی نظر اس پہاڑی درّے پر پڑی جہاں سے دشمن کے حملے کا خطرہ ہوسکتا تھا۔ آپ ؐنے وہاں پچاس تیر انداز حضرت عبداللہؓ بن جُبیر کی سرکردگی میں مقرر فرمائے اور انہیں موقع کی نزاکت دیکھ کر یہاں تک فرمایا کہ ’’ اگر تم دیکھو کہ پرندے ہماری لاشوں کو اچک رہے ہیں پھر بھی تم نے درّہ نہیں چھوڑنا سوائے اس کے کہ میرا پیغام تمہیں پہنچے‘‘۔ لیکن اس ہدایت کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کو سخت نقصان اٹھانا پڑا۔
چنانچہ درّہ کو خالی پاکر دشمن نے حملہ کرکے کئی مسلمان شہید کردیئے۔ یہا ں تک کہ رسولؐ اللہ کی شہادت کی خبر مشہور ہوگئی تو اس دوران رسول اللہ نے خاموشی کی حکمت عملی اختیار فرمائی تاکہ اسلامی قیادت اور باقی مسلمانوں کی حفاظت کی جا سکے۔ حضرت کعب ؓ بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلے میں نے رسولؐ اللہ کو (درّہ میں خود پہنے) پہچان کر کہا: یہ رسولؐ اللہ ہیں۔ نبی کریمؐ نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ پھر ازراہ مصلحت اپنی زرّہ مجھے پہنائی اور میری زرّہ خود پہن لی۔ مجھ پر حملہ کرنے والا یہی سمجھتا تھا کہ وہ آپؐ پر حملہ کررہا ہے۔ اس موقع پر جب ابوسفیان نے خوشی کے نعرے لگائے کہ ہم نے محمدؐ کو قتل کردیا، ابوبکرؓ کو قتل کردیا تو رسولؐ اللہ نے اسی حکمت عملی کی بِنا پر نعروں کا جواب دینے سے روک دیا۔ البتہ کفار کی مشرکانہ تعلّی کے نعروں کے جواب میں توحید کے نعرے خود لگوائے۔
غزوہ احد سے واپسی پر ابوسفیان کوخیال آیا کہ نہ تو کوئی جنگی قیدی بنایا اور نہ ہی مال غنیمت لوٹا، مکّہ جاکر کیا منہ دکھائیں گے۔ اس نے مدینہ پردوبارہ حملہ کا ارادہ کیا۔ رسولؐ اللہ کو پتہ چلا تو آپؐ نے لشکرِ ابوسفیان کا تعاقب کرنے کا ارادہ فرمایا۔ اِدھر حالت یہ تھی کہ ستر مسلمان شہید ہو چکے، اکثر زخمی تھے۔ بظاہر ایک جیتے ہوئے لشکر کے تعاقب کا ارادہ مسلمانوں کے لئے بھاری امتحان تھا۔ لوگ متذبذب تھے۔ تب رسولؐ اللہ نے اپنے اس عزم کا یوں اظہار فرمایا کہ ’’ اگر دشمن کے تعاقب کے لئے ایک شخص نے بھی میراساتھ نہ دیا تو میں تن تنہا ابو سفیان کے تعاقب کو جائوں گا اور ضرور جائوں گا‘‘۔ اس پر زخموں سے نڈھال صحابہ نے یوں لبیک کہا کہ خدا نے بھی ان کی تعریف کی۔
غزوہ احزاب میں حکمت عملی
5ھ میں یہود کی سازش کے نتیجہ میں ابوسفیان تمام عرب قبائل کے دس ہزار لشکر کے ساتھ مدینہ پر حملہ کے لئے چلا تو رسول ؐ اللہ نے صحابہ سے مشاورت کے بعد حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورہ کے مطابق خندق تیار کروانے کا فیصلہ فرمایا۔ محدود وقت میں ایک طویل خندق کی کھدائی بہت کٹھن کام تھا۔ لیکن رسولؐ اللہ کی فراست و بصیرت اور دعائوں سے یہ کام آسان ہوگیا۔ آپؐ نے دس دس افراد کی ٹولیوں کے ذمہ 40 فٹ خندق کی کھدائی لگائی اور حوصلہ افزائی کی خاطرخود مٹی ڈھوتے رہے اور فاقہ کی حالت میں بھی رجزیہ اور دعائیہ اشعار پڑھتے ہوئے بظاہر یہ ناممکن کام چھ سے نودن میں مکمل کر ڈالا۔ جس میں کُل 5544 میٹر طویل اوسطاً 15فٹ چوڑی اور ساڑھے دس فٹ گہری خندق تیار کرلی گئی۔ اُدھر کفار کے لشکر اس دفعہ مدینہ کو تر نوالہ سمجھتے ہوئے آئے تو اچانک خندق دیکھ کردنگ رہ گئے ۔ اور بالآخر محاصرہ ناکام ہوجانے، غذائی مسائل نیز شدید سردی اور اچانک آندھی وغیرہ کے باعث پسپا ہوکر لَوٹے۔
حفاظت مدینہ اور گشتی دستوں کی حکمت عملی
مسلمانوں کو شمال سے اہل مکہ کے حملہ کا مستقل خطرہ رہتا تھا تو جنوب سے یہودِ خیبر کا۔ شروع میںمدینہ کے نواحی قبائل بھی مسلمانوں کے حلیف نہیں بنے تھے ۔ اس لئے مسلمانوں کو پہرہ کے سخت حفاظتی اقدامات کرنا پڑتے تھے۔ نیز صلح حدیبیہ تک با خبر رہنے اور نواحی قبائل پر اپنے دفاع کی خاطردھاک بٹھانے کے لئے مختلف اطراف میں مہمات بھجوانے کی ضرورت رہتی تھی۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں کفار مکہ کے حلیف قبائل آبادتھے۔ تاکہ وہ اپنے علاقہ میں مسلمانوں کی موجودگی محسوس کرتے ہوئے انہیں چوکس پاکر مدینہ پر حملہ کی جرأت نہ کرسکیں۔ چنانچہ بعض قبائل تو مدینہ کی کھجور کی گُٹھلیاں اپنے گردونواح میں پاکر دفاعی انداز اختیار کرلیتے۔
مسلمانوں کا ایک گشتی دستہ نجد کی مہم سے اپنے مخالف قبیلہ بنی حنیفہ کے ایک سردار ثمامہ بن اثال کو گرفتار کرکے لے آیا۔ اسے مسجد نبوی میں ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا گیا۔ رسولؐ اللہ نے ثمامہ سے پوچھا کہ تم سے کیا معاملہ کیا جائے؟ اس نے کہا آپؐ احسان کرنے والے ہیں۔ حسن سلوک کریں گے تو ایک شکرگزارانسان کے ساتھ یہ معاملہ کریں گے اوراگر قتل کریں گے تو میرا قبیلہ انتقام لے گا اور اگر آپؐ کو مجھے چھوڑنے کے عوض کوئی مال چاہئے تو مطالبہ پیش کریں۔
اگلے روز پھر نبی کریمؐ نے اس سے وہی سوال کیا۔وہ بولا میرا وہی جواب ہے جو میںپہلے دے چکا ہوں۔ تیسرے روز رسولؐ اللہ نے پھر وہی سوال پوچھا۔ وہ کہنے لگا کہ میں جواب دے چکا ہوں۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ بغیر کسی معاوضہ کے اسے آزاد کردیا جائے۔ ثمامہ رسولؐ اللہ کے حسن سلوک، مسلمانوں کی پنجوقتہ عبادت، اطاعت اور وحدت کے نظارے دیکھ کر اس قدر متاثر ہوچکا تھا کہ آزاد ہوتے ہی قریب کے نخلستان میں گیا، غسل کرکے واپس مسجدنبوی میں آیا اورکلمہ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کرلیا۔ پھر کہنے لگا ’’اے محمدؐ! آپؐ کا چہرہ روئے زمین پر میرے لئے سب سے زیادہ قابل نفرت تھا مگر آج آپؐ مجھے دنیا میں سب سے پیارے ہیں۔خدا کی قسم کوئی مذہب مجھے آپؐ کے مذہب سے زیادہ ناپسندیدہ نہ تھا مگر آج آپؐ کا دین اسلام مجھے تمام دینوں سے زیادہ پیارا ہوچکا ہے۔ خدا کی قسم کوئی شہرآپؐ کے شہر سے زیادہ میرے لئے قابل نفرت نہ تھا۔مگر آج آپؐ کا شہر مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوچکا ہے۔ آپؐ کے دستہ نے جب مجھے گرفتار کیاتو میں عمرہ کے ارادہ سے جارہا تھا۔ اب میرے لئے کیا حکم ہے؟ ‘‘نبی کریمؐ نے خوشنودی کا اظہارکرتے ہوئے ارادہ پورا کرنے کی ہدایت فرمائی۔ وہ مکہ پہنچے۔کسی نے کہہ دیا تم بھی صابی ہوگئے ہو؟انہوں نے کہا نہیں میں مسلمان ہوکر محمد رسولؐ اللہ پر ایمان لایا ہوں اورکان کھول کر سن لو! خدا کی قسم تمہارے پاس میرے علاقہ یمامہ سے غلّہ کا ایک دانہ نہیں آئے گا جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اجازت عطانہ فرمائیں۔ بعد میں کفار قریش نے رسولؐ اللہ کی سفارش کروائی تو ثمامہ نے ان کا غلہ کھول دیا۔
واقعہ افک میں فراست و بصیرت
رسولؐ اللہ کی ذات پر آنے والے ایک شدید ابتلاء میں آپؐ کی حکمت و دانش اور فراست و بصیرت کے اظہار کیسے ہوتا ہے۔ غزوۂ بنومصطلق سے واپسی پر ایک پڑاؤ میں حضرت عائشہؓ علی الصبح قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئیں تو ان کے گلے کا ہار کہیں کھوگیا جس کی تلاش میں اتنی دیر ہوگئی کہ قافلہ کے لوگ (یہ خیال کرکے کہ حضرت عائشہؓ اپنے ہودج میں ہیں) ہودج اونٹ پر رکھ کرروانہ ہوگئے ۔ حضرت عائشہ ؓ بعد میں ایک صحابی صفوانؓ (جن کی قافلے کے پیچھے نگرانی کرتے ہوئے آنے کی ڈیوٹی تھی) کے ساتھ دوپہر کو قافلہ سے آملیں۔ عبداللہ بن ابی کو اپنی بد طینتی سے بدگمانی کا موقع مل گیا اور اس نے حضرت عائشہؓ پر الزام تراشی شروع کردی۔ کئی دیگر سادہ لوح بھی اس رَو میں بَہ گئے۔ اس تمام عرصہ میں رسولؐ اللہ نے اشتعال میں آکر اپنی معصوم بیوی پر الزام لگانے والوں کے خلاف کوئی اقدام کیا اور نہ ہی حضرت عائشہؓ سے کوئی استفسار کیا۔ حالانکہ صورتحال کی نزاکت اور ناموس رسولؐ کی خاطر بعض اصحاب حضرت عائشہؓ کو طلاق دینے کا مشورہ دے چکے تھے۔
پھر جب اس تکلیف دہ الزا م تراشی کا طوفان بدتمیزی اپنی حدوں کو پھلانگنے لگا تو کمال عدل اور دُوراندیشی سے اس بارہ میں گھریلو سطح پر اپنی تسلّی کی کوشش کی اور امّ المومنین حضرت زینب ؓ اور اپنے قریب ترین افرادخانہ حضرت علیؓ اور حضرت اسامہ ؓسے مشاورت کے بعد بغرض اطمینان حضرت عائشہؓ کے بارہ میںان کی خادمہ بریرہ ؓسے بھی رائے لی۔ سب نے عائشہؓ کی صفائی پیش کرتے ہوئے براء ت کا اظہار کیا ۔ مگر وحی میں تاخیر باعث پریشانی تھی۔ رسولؐ اللہ نے حکمت کے تقاضا اور وقت کی ضرورت کا خیال کرتے ہوئے تکلیف میں مبتلا اپنے صحابہ کو اکٹھا کرکے یہ ظاہر فرمادیا کہ یہ سب عبداللہ بن ابی کی سازش ہے اور فرمایا کہ اس شخص (عبداللہ بن ابی)کو لگام دینے کے بارہ میں کون میرا عذر قبول کرے گاجس نے میری اہلیہ کے بارہ میں مجھے اذیت پہنچائی ہے ۔جہاں تک میرے اہل کا تعلق ہے ان کے بارہ میں سوائے خیرو بھلائی کے کچھ ثابت نہیں ہوا اور جس شخص صفوان کے بار ہ میں الزام لگایا گیا ہے اس کے بارے میں بھی سوائے خیرو بھلائی کے کچھ نہیں وہ ہمارے گھر میری موجود گی کے سوا کبھی آیا تک نہیں۔ رسولؐ اللہ کا یہ اظہار ایسا مؤثر تھا کہ اسے سن کرسردارِ اوس حضرت سعد ؓ نے طبعی جوش سے فتنہ کے بانی عبداللہ بن ابی کے قتل کی اجازت چاہی تو اس کے قبیلہ خزرج کے سردار نے قبائلی عصبیت سے مشتعل ہوکر جواب دیا تم اسے قتل نہیں کرسکتے۔ قریب تھا کہ دونوں قبائل کی قدیم عداوت کی چنگاری پھر بھڑک اُٹھتی کہ رسول اللہ نے کمال حکمت سے اس صورتحال کو احسن رنگ میں سنبھال لیا۔
پھر ایک ماہ گزر جانے کے بعد رسولؐ اللہ نے حضرت عائشہؓ سے پہلی اور آخری دفعہ کھول کر یہ اظہارفرمایا کہ اگر تو آپؓ واقعی اس الزام سے بری ہو تو اللہ تعالیٰ ضرور تمہاری بریت ظاہر فرمائے گا اور اگر کسی غلطی کا ارتکاب ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ کر توبہ کرنی چاہئے کہ وہی ہے جو بندہ کے اعتراف گناہ اور توبہ کے بعد رجوع برحمت ہوتا ہے۔ یہ بات پاک دامن حضرت عائشہؓ کے لئے پہلے صدمہ سے بڑھ کر تھی مگر اپنی کم سنی کے باوجود انہوں نے کمال فراست سے جواب دیا کہ مذکورہ الزام سن سن کر آپ لوگوں کے ذہن میں اتنا جم چکا ہے کہ میرے انکار پر میری بریت کوئی نہیں مانے گا۔ پس میرے لئے حضرت یعقوبؑ کی طرح صبرجمیل کے سوا کوئی چارہ نہیں اور مجھے یقین ہے کہ میرا ربّ ضرور میری بریت فرمائے گا۔
اس کے تھوڑی ہی دیر بعد رسولؐ اللہ پر سورۃ نور کی وہ آیات اتریں جن میں حضرت عائشہؓ کی بریت کا ذکر تھا۔ یوں ایک خطرناک فتنہ کاخاتمہ ہوا اور حکم الٰہی کے مطابق جھوٹی الزام تراشی کرنے والوں کوکوڑوں کی سزا دی گئی۔
صلح حدیبیہ میں بیدار مغزی
جنگ بدر، احد اور احزاب میں اپنے مجموعی مالی و جانی نقصان کے علاوہ تجارت کے متأثر ہونے کے بعد اہل مکہ معاشی لحاظ سے بہت کمزور ہوچکے تھے۔ خصوصاً ملک شام سے ان کی تجارت بے حد متاثر ہوئی تھی جس کے راستہ میں مدینہ پڑتا تھا۔ رسول ؐ اللہ کی فراست و بصیرت ان کی اس کمزوری کو بھانپ چکی تھی۔ چنانچہ جب6ھ میں رسول ؐ اللہ نے ایک رؤیا میں دیکھا کہ آپؐ اپنے صحابہ کے ساتھ طواف بیت اللہ کر رہے ہیں تو بظاہر وہاں ایسے دشمن کی موجودگی کے باوجود جنہوں نے مسلمانوں کے حج و عمرہ پر پابندی عائد کررکھی تھی، آپؐ بے دھڑک عازمِ بیت اللہ ہوئے۔ چودہ سو صحابہ امن کی علامت کے طور پر تلواریں میان میںلئے ہمراہ تھے۔ یہ قافلہ حدیبیہ کے مقام پر روک دیا گیا۔ آپؐ نے شروع میں ہی واضح فرمادیاکہ صلح کی خاطراہل مکہ جو لائحہ عمل بھی پیش کریں گے ہم اسے قبول کریں گے اور پھر قریش کے ایلچیوں کی سخت شرائط کے باوجود آپؐ اپنے اس مؤقف پر آخر دم تک ڈٹے رہے۔قریش نے اپنی اَنا کی خاطر آئندہ سال عمرہ کرنے کی تجویز دی تو آپؐ نے حضرت عثمانؓ بن عفان کو بطور سفیر مکّہ بھجوایا تاکہ وہ اپنے اثرورسوخ سے اسی سال عمرہ کے لئے کوئی راہ تلاش کریں۔ جب مذاکرات طویل ہوگئے تو مسلمانوں میں اُن کی شہادت کی خبر مشہور ہوگئی۔ یہ وہ وقت تھا جب مسلمانوں کے جذبات سخت تلاطم میں تھے۔ سفیر کی حفاظت و احترام کا مسئلہ اپنی جگہ اہم تھا۔ رسولؐ اللہ نے ایک بہترین قائد کی طرح صحابہ کے ان جذبات کو ایک نئی سمت دیتے ہوئے ہر قسم کی قربانی کے لئے تیاررہنے اور ہر حال میں اطاعت کے لئے موت پر بیعت لی کہ جان دے دیں گے مگر حضرت عثمانؓ کا بدلہ لئے بغیر یہاں سے نہ ٹلیں گے۔ مسلمانوں کے اخلاص و وفا کی بِنا پر یہ واقعہ بیعت رضوان سے معروف ہے جس نے کفار پر ایسا رعب پیدا کردیا کہ انہوں نے صلح کرنے میں ہی عافیت جانی۔
جب مشرکوں کا سردار سہیل بن عمرو بطور ایلچی شرائطِ صلح طے کرنے پہنچا تو قدم قدم کفار مکہ کی انا صلح میں روک بن کر آڑے آتی تھی لیکن رسولؐ اللہ کی فراست و بصیرت اس گتھی کوسلجھانے میں کا میاب ہوجاتی۔ آپ نے صلح کی خاطر کفار کے اصرار پر بسم اللہ کے ساتھ رحمان ورحیم نہ لکھنے پر اتفاق کیا، محمد رسول اللہ کی بجائے محمدؐ بن عبد اللہ لکھنا قبول فرمایا۔ مگر جب سہیل کے مسلمان بیٹے ابو جندلؓ(جو مسلمان ہونے کے جرم میں مکّہ میںقید تھے اور زنجیریں توڑ کر حدیبیہ پہنچے تھے) کی مکہ واپسی پر اصرار ہوا۔ جبکہ ابوجندل دہائی دے رہا تھا کہ مسلمانو! کیامجھے اس حال میں چھوڑ جاؤ گے (حالانکہ مکہ سے آنے والے مسلمانوں کو واپس لوٹانے کی شرط ابھی طے نہ پائی تھی) تواس رقّت آمیز منظر سے صحابہ کے دل زخمی اور جگر پارہ پارہ تھے ۔اس وقت وہ تازہ عہد اطاعت ہی ان کو سنبھال رہا تھا۔ پھر جب معاہدہ طے ہوجانے کے بعد رسولؐ اللہ نے صحابہ سے فرمایا کہ اب اپنی قربانیاں میدان حدیبیہ میں ہی ذبح کرڈالو تو غم سے نڈھال صحابہ بے حس و حرکت کھڑے رہے۔ رسولؐ خدا نے تین مرتبہ اپنا حکم دہرایا کہ اپنی قربانیاں ذبح کر دو مگر کسی کواس کی ہمت نہ ہوئی۔ پھر جونہی رسولؐ اللہ نے حضرت امّ سلمہؓ کے مشورہ پر اپنی قربانی ذبح کر ڈالی تو صحابہ بھی دھڑا دھڑ قربانیاں ذبح کرنے لگے۔
بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ حدیبیہ واقعی مسلمانوں کے لئے فتح مبین تھی۔ چنانچہ معاہدہ کے نتیجہ میں شمال کی جانب سے مسلمانوں کو امن ہوا تو تھوڑے ہی عرصہ بعدجنوب میں مقیم دشمن یعنی یہود خیبر سے نبٹنا بھی آسان ہوگیا۔ پھر اس شرط کی وجہ سے کہ مکّہ سے کوئی مسلمان بھاگ کر مدینہ نہیں آسکتا تو مکہ سے بھاگ کر آنے والے حضرت ابوبصیرؓ نے مدینہ کی بجائے کچھ فاصلے پر اپنا ڈیرہ جماکر مکہ کے کمزور مسلمانوں کو جمع ہونے کا موقع بہم پہنچادیا اور کفار مکہ کے شام کے راستے میں ایک اور خطرہ پیدا کردیا۔ اس معاہدہ کی ایک اور کامیابی تبلیغی خطوط کے ذریعہ مختلف قبائل اور بادشاہوں سے تبلیغی رابطے ہیں۔ چوتھی بڑی کامیابی اس وقت ہوئی جب قریش کی عہدشکنی پر گرفت کرنے کے لئے رسولؐ اللہ مدینہ سے نکلے اور بالآخرمکہ فتح ہوا۔
غزوات میں خاموش پیش قدمی
مدینہ سے جلاوطنی کے بعد یہود، خیبر میں مضبوط مرکز بناکر مدینہ پر حملہ کی دھمکیاں دینے لگے تھے۔ چنانچہ حکمت کے تقاضا کے پیش نظر رسول اللہ نے اُن کی طرف پیش قدمی اس قدر خاموشی سے کی کہ یہود کے حلیف قبائل بھی ان کی مدد کو نہ پہنچ سکے۔ آپؐ ایک ماہر رہنمائے سفر کے ذریعہ تین ہزار کے لشکر کے ساتھ قریباً ڈیڑھ سو میل کا فاصلہ تین راتوں کے مسلسل تھکا دینے والے سفر میں طے کر کے علی الصبح خیبر پہنچے۔ صحابہ کرامؓ نے اپنی منزل پالینے کی خوشی میں نعرے بلند کرنے شروع کئے تو یہ شور خلاف مصلحت تھا۔ چنانچہ آنحضرتؐ ؐنے فرمایاکہ یہ نعرے تو ذکر الٰہی کے کلمے ہیں اور جس ہستی کو تم پکارتے ہو وہ نہ تو بہرہ ہے نہ غائب بلکہ وہ خوب سنتا ہے۔
خیبرمیں پڑائو کرتے ہوئے دوسری حکمت عملی آپؐ نے یہ اختیار فرمائی کہ لشکر کو پانچ حصوں میں تقسیم کرکے قلعہ ہائے خیبر کے سامنے میدان میں اس طرح پھیلادیا کہ سرسری نگاہ میں وہ ایک لشکر جرار نظر آتا تھا۔ اس حکمت عملی سے حیرت انگیز کامیابی حاصل ہوئی۔ صبح جب یہودی اطمینان سے معمول کی کھیتی باڑی اور کام کاج کے لئے باہر نکلنے لگے تو اچانک چاروں طرف مسلمانوں کے پھیلے ہوئے لشکر کو دیکھ کر ان کے ہوش اڑ گئے۔ مدینہ سے منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی نے یہود کو مٹھی بھر مسلمانوں کے خیبر پر چڑھائی کرنے کی اطلاع کی تھی لیکن اتنابڑالشکر دیکھ کر وہ واپس قلعوں کی طرف دوڑے۔ اور باہر میدان میں نکل کر مقابلہ کی جرأت بھی نہ کی۔ رسول اللہ یکے بعد دیگرے قلعہ ہائے خیبر فتح کرتے چلے گئے اور یہود کو ایک کے بعد دوسرے قلعہ میں محصور ہونا پڑا۔ آخری قلعہ میں یہود نے اپنا پورا زور لگادیا تو اس کی فتح میں مشکل ہوئی۔ آپؐ نے دعاؤں کے بعد اللہ تعالیٰ سے علم پا کر اپنے لشکر کے حوصلے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ کل میں ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں جھنڈا دوں گا جس کے ذریعہ خیبر کی فتح مکمل ہوجائے گی۔ اگلے روز آپؐ نے حضرت علیؓ کو عَلَمِ جنگ عطا کیا اور ان کی قیادت میں مسلمانوں نے آخری قلعہ بھی فتح کر لیا۔
فتح مکّہ میں فراست مندانہ اقدام
رسولؐ اللہ نے تمام غزوات میں نقل و حرکت کی رازداری قائم رکھنے کے اصول سے بہت فائدہ اٹھایا۔ سفر خیبر کی طرح فتح مکہ کے سفر میں بھی رازداری کی حکمت عملی کا مقصد اہل مکہ کو تیاری موقع نہ دے کرانہیں کشت وخون سے بچانا تھا۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حکمت کی بِنا پر نواحِ مدینہ میں یہ پیغام بھجوایا کہ اس دفعہ کا رمضان مدینہ میں گزاریں اور اہل مدینہ کو سفر کی تیاری کی ہدایت فرمائی۔ لیکن یہ ظاہر نہ فرمایا کہ کہاں کا قصد ہے۔
مدینہ سے مکہ کے تین سومیل کے فاصلہ کے درمیان قریش کے جاسوسوں اور حلیف قبائل کی موجودگی میں ایک لشکر جرار کی تیاری او ر نقل و حرکت کی رازداری کو قائم رکھنا بظاہر ایک انہونی سی بات لگتی ہے۔مگر رسولؐ خدا نے اس مقصد کے لئے تدبیر یہ فرمائی کہ مدینہ سے مکّہ جانے والے تمام رستوں پر پہرے بٹھادیئے۔ الغرض دس ہزار کا لشکر تیار ہوگیا مگر کسی سپاہی کو منزل کی خبر نہ تھی۔ ایک صحابی حاطب بن ابی بلتعہ کا قریش کو مدینہ کی ایک مغنیّہ کے ذریعہ بھجوایا جانے والا اطلاعی خط جب پکڑا گیا تو اس میں بھی یہی لکھا تھا کہ رسولؐ اللہ کا لشکر روانہ ہونے کو ہے معلوم نہیں کہاں کا قصد ہے۔ پھر لشکر نے کُوچ کیا تو بجائے سیدھے مکہ کی سمت روانہ ہونے کے آپ دوسری جانب رُخ کرکے نکلے اور مکہ جانے والے عام راستہ کو چھوڑ کر نہایت تیزی سے سفر کرتے ہوئے مکّہ کے عین سر پر پہنچ گئے اور اہل مکہ کو کانوں کان خبر تک نہ ہونے دی۔ اور وہاں مرّالظہران کے وسیع میدان میں آپؐ نے جنگی حکمت عملی کا ایک اَور حیرت انگیز منصوبہ بنایا اور صحابہؓ کو حکم دیا کہ وہ مختلف ٹیلوں پر بکھر جائیں اور ہر شخص آگ کا ایک الائو روشن کرے۔ اس طرح اس رات دس ہزار آگیں روشن ہوکر ایک پُرشکوہ اور ہیبت ناک منظر پیش کرنے لگیں۔ (عربوں کے عام دستور کے مطابق دس آدمی اپنی ایک آگ روشن کیاکرتے تھے۔) اُس رات قریش کے سردار گشت پر نکلے تو حیران رہ گئے کیونکہ اتنی بڑی تعداد کا لشکر کسی عرب قبیلہ میں موجود نہ ہوسکتا تھا اور لشکر اسلام کی ایسی اچانک آمد ان کے وہم وگمان میں بھی نہ تھی۔
اگلے دن اسلامی لشکر مکّہ کی جانب چلا تو رسول اللہ کی ایک اَور حکمت عملی کے تحت ابوسفیان کو ایک بلندجگہ سے لشکر کی شان و شوکت کا نظارہ کرایا جارہا تھا تاکہ وہ مرعوب ہوکر حق قبول کر لے۔ جب انصاری سردار سعد بن عبادہؓ اپنادستہ لے کر ابوسفیان کے پاس سے گزرے تو جوش میں آکر کہہ گئے: آج جنگ و جدال کا دن ہے آج کعبہ کی حرمت کا بھی لحاظ نہیں کیا جائے گا۔ ابو سفیان کی شکایت پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس کمانڈر کو (جو ایک طاقتورقبائلی سردار تھا) معزول کردیا کہ اس نے حرمتِ کعبہ کے بارے میں ایک ناحق بات کہی تھی۔ ساتھ ہی کمال حکمت سے یہ حکم فرمایا کہ سالارِ فوج سعدؓ کے بیٹے قیس بن سعدؓ کو مقرر کیا جاتا ہے۔ اور یوں ہر قبائلی خلفشار کی پیش بندی بھی فرمادی۔
فتح مکہ پر دلوں کی فتح اور بلالؓ کا انتقام
فتح مکہ کے دن رسول کریم ؐ نے اپنے غلام بلالؓ کا انتقام لینا بھی ضروری سمجھا چنانچہ آپؐ نے غلام کو سردار مکہ کے برابر کھڑا کردیا اور ابو سفیان کے گھر میں امان کی منادی کے ساتھ یہ اعلان بھی کروایا کہ جو بلالؓ کے جھنڈے نیچے آگیا اسے بھی امان ہوگی۔
آپؐ نے اپنے جانی دشمنوں کے لئے بھی عام معافی کا اعلان کرکے ان کے دل جیتنے کی راہ نکال لی۔ مکّہ کی حقیقی فتح تودراصل آپؐ کے خلق عظیم کی فتح تھی کہ کفار نے بھی آپؐ کے اس سوال پر کہ تم سے کیا سلوک کیا جائے یہی کہا کہ ہمیں آپ سے نیک سلوک کی امید ہے۔ چنانچہ رحمۃٌللعالمینؐ نے اُن کی توقعات سے کہیں بڑھ کر عفو عام کے نتیجہ میں اہلِ مکّہ کے دلوں پر بھی فتح حاصل کرلی۔ جیسا کہ سرولیم میور کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ ’’محمدؐ نے جلد ہی اس کا انعام بھی پا لیا اور وہ یوں کہ آپؐ کے وطن کی ساری آبادی صدق دل سے آپؐ کے ساتھ ہو گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم چند ہفتوں میں دو ہزار مکہ کے باسیوں کو مسلمانوں کی طرف سے (حنین میں)لڑائی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں‘‘۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/kAU5c]

اپنا تبصرہ بھیجیں