فلک پہ ہر جمی نظر سوالیہ نشان ہے – نظم

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 11 دسمبر2020ء)

مجلس انصاراللہ جرمنی کے سہ ماہی رسالے ’’الناصر‘‘ اپریل تا جون 2012ء میں ’’سوالیہ نشان‘‘ کے عنوان سے مکرم خواجہ حنیف تمنّا صاحب کی ایک نظم شائع ہوئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

فلک پہ ہر جمی نظر سوالیہ نشان ہے
کہاں گیا وہ مُنتظَر، سوالیہ نشان ہے
نزول سے گریز پا ہیں کیوں سماوی نصرتیں
کہ اب بقائے ہر بشر سوالیہ نشان ہے
تری نگاہِ لُطف کے بھی مستحق نہیں رہے
ہے ایسا کیوں خدائے بَر، سوالیہ نشان ہے
ہے مُلتفت خدا ہی اب نہ مہربان ہے فلک
دعائیں کیوں ہیں بے اثر، سوالیہ نشان ہے
وطن میں سب ہیں بے اَماں، گلی، محلے، بستیاں
ہر ایک گھر، ہر ایک در، سوالیہ نشان ہے
بقائے قوم کے لیے بقائے ملک فرض ہے
مگر طریقِ خاص و ہر سوالیہ نشان ہے

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/44vwC]

اپنا تبصرہ بھیجیں