قبولیت دعا کے چند نظارے

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 30؍اکتوبر 2009ء میں شامل اشاعت ایک مضمون میں مکرم ڈاکٹر عبدالوحید صاحب کے قلم سے چند ایسے واقعات شامل اشاعت ہیں جن میں خلیفۂ وقت کی دعاؤں کی قبولیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ 1999ء میں خاکسار بینن کے شہر پورتونوو میں متعین تھا۔ ایک سات ماہ کا بچہ رات ڈیڑھ بجے ہسپتال لایا گیا۔ اس کو تشنج کی بیماری تھی اور قریباً دو گھنٹے سے جھٹکے لگ رہے تھے۔ اس کی والدہ نے کہا کہ یہ بچہ آٹھ سال بعد پیدا ہوا ہے ڈاکٹر صاحب اسے بچالیں۔ مَیں نے کہا کہ یہ خدا کا کام ہے۔ بچہ کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ خاکسار بھی دعا کرنے لگا اور حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کو خط میں دعا کے لئے عرض کیا۔ صبح پانچ بجے گھر جاکر جب آٹھ بجے دوبارہ واپس آیا اور جلدی سے بچے کے بستر کی طرف گیا تو دیکھا کہ بستر خالی تھا۔ سٹاف نے بتایا کہ بچہ ٹھیک ہے اور دودھ پی رہا ہے۔ آٹھ روز بعد اللہ تعالیٰ نے اُس بچہ کو مکمل طور پر شفا دیدی۔
خاکسار ہر ہفتہ اُن مریضوں کی فہرست تیار کرکے دعا کے لئے حضورؒ کی خدمت میں بھجواتا جو بہت زیادہ بیمار ہوتے یا اُن کے آپریشن کئے گئے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے 95 فیصد مریض غیرمعمولی طور پر صحت یاب ہوجاتے۔
خاکسار کا بیٹا عبدالواسع ایک بار اتنا بیمار ہوا کہ چند دن ہسپتال میں داخل رہنے کے بعد ڈاکٹروں نے جواب دیدیا۔ میری اہلیہ رونے لگی، دوسرا بیٹا بھی رونے لگا اور مَیں نے انتہائی کرب کی حالت میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی خدمت میں دعا کے لئے خط تحریر کرنا شروع کیا۔ لیکن ابھی خط مکمل نہیں ہوا تھا کہ تین دن سے بیہوش پڑے ہوئے بچہ نے اپنی آنکھیں کھول دیں اور اپنا سر پھیرنا شروع کیا اور پھر ایک دو منٹ میں اپنی والدہ سے کہا کہ ماما! آپ کیوں رو رہی ہیں؟ مَیں ٹھیک ہوں۔ پھر وہ معجزانہ طور پر صحت یاب ہوتا چلاگیا۔ مَیں نے اپنے نامکمل خط میں شفایابی کا یہ سارا معجزہ لکھ کر اپنا خط مکمل کیا اور حضورؒ کی خدمت میں ارسال کردیا۔
یوگنڈا میں ایک بار اچانک میری طبیعت ناساز ہوگئی۔ ہسپتال میں سارے ٹیسٹ ہوئے لیکن طبیعت بگڑتی چلی گئی۔ پھر جسم میں ارتعاش شروع ہوگیا۔ نیورالوجی کے ایک پروفیسر کے کہنے پر حضورؒ کی اجازت سے خاکسار نے کینیا جاکر MRI سکین کروایا تو دماغ کی ایسی بیماری کا پتہ چلا جس پر مَیں پریشان ہوگیا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی خدمت میں حالت بتاکر دعا کے لئے عرض کرتے رہے۔ ایک رات تہجد کے بعد لیٹا تو ایک خواب دیکھا ۔ صبح یہ خواب حضورؒ کی خدمت میں لکھ دیا۔ حضورؒ نے جواباً فرمایا کہ آپ مع فیملی پاکستان چلے جائیں، خدا تعالیٰ صحت دے گا…۔
چنانچہ خاکسار پاکستان آگیا یہاں تمام ٹیسٹ کئے گئے ۔ ریڑھ کی ہڈی کا MRI کروایا مگر مرض کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔ ڈاکٹر حیران تھے کہ وہ پوائنٹ موجود تھا مگر خدا تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے معجزانہ شفا دی اور تین ماہ میں بالکل ٹھیک ہوگیا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/fdChd]

اپنا تبصرہ بھیجیں