قرآن کریم سے صادقانہ محبت

ماہنامہ’’ انصاراللہ‘‘ ربوہ اگست 2011ء میں جماعت احمدیہ میں قرآن کریم کے پڑھنے، پڑھانے کی سچی لگن کے چند دلکش واقعات مکرم عبدالسمیع خان صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہیں جن میں سے انتخاب درج ذیل ہے:
٭……حضرت مولوی رحیم بخش صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ قادیان میں خاکسار اُس کمرہ کے باہر سویا ہوا تھا جس میں حضرت مسیح موعودؑ تشریف رکھتے تھے۔ رات کو عاجز کی آنکھ کھلی تو حضورؑ اس طرح چلّاچلّاکر قرآن شریف کی تلاوت فرمارہے تھے جیسے کوئی عاشق اپنے محبوب سے عشق کا اظہار کرتا ہے۔ حضورؑ کے عشق کی کیفیت بیان سے باہر ہے۔
٭…حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ فرماتے ہیں کہ جنہوں نے حضور علیہ السلام کو تلاوت قرآن کرتے ہوئے سنا ہے وہ جانتے ہیں کہ آپؑ کے کلام میں ایک درد، رقّت اور محبت کی لہر ہوتی تھی، باوجودیکہ اس میں موسیقی کا رنگ نہ ہوتا تھا مگر اس میں بے انتہا جذب اور کیف آور لہر ہوتی تھی۔ آپؑ کے قرآن مجید پڑھنے کے کئی طریق تھے۔ بعض اوقات اس نیت سے پڑھتے تھے جبکہ آپؑ کو کوئی مضمون لکھنا ہوتا تھا۔ اس کا رنگ بالکل الگ تھا۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ سے محبت و عشق کی کیفیت میں ایک ہنگامہ خیز کیف پیدا کرنے کے لیے تلاوت کرتے تھے اور یہ علی العموم آپؑ رات کو فرمایا کرتے تھے جبکہ دنیا سوئی ہوتی تھی۔ اس وقت آپؑ گنگناکر قرآن مجید پڑھتے اور آپؑ پر ایک وجد کی کیفیت طاری ہوتی تھی۔
٭…حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل ؓ فرماتے ہیں کہ تقریر کے لیے اثر پیدا کرنا اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ پھر خداتعالیٰ اس شخص کی بات کو ضائع نہیں جانے دیتا۔ ایک شخص یہاں آیا جو میری محبت سے معمور نظر آتا تھا۔ اُس نے کہا کہ آپؓ نے ایک دفعہ درس میں فرمایا تھا کہ اگر کوئی شخص قُلۡ ھُوَاللّٰہ جتنا قرآن ہر روز یاد کرے تو سات سال میں حافظ ہوجائے گا۔ مَیں نے اس پر عمل شروع کیا، اب ستائیسواں پارہ حفظ کرتا ہوں۔
٭…حضرت مصلح موعودؓ پر 1954ء میں قاتلانہ حملہ ہوا جس کے بعد آپؓ کی صحت مسلسل گرتی گئی۔ 1956ء میں حضورؓ نے ایک بڑے لائق ڈاکٹر کو بلوایا اور اپنی کیفیت یوں بیان فرمائی کہ مَیں نے قرآن شریف کا ایک سیپارہ ہی پڑھا تھا کہ میری طبیعت گھبراگئی۔ وہ کہنے لگا ایک سیپارہ تو بڑی چیز ہے۔ حضورؓ نے فرمایا کہ اُس بے چارے کو تو قرآن شریف پڑھنے کی عادت نہیں تھی۔ مَیں نے کہا مَیں نے تندرستی میں بعض دفعہ رمضان شریف میں پندرہ سولہ سیپارے ایک سانس میں پڑھے ہیں۔ پس میری تو ایک سیپارہ پر گھبراہٹ سے جان نکلتی ہے کہ مجھے ہوکیا گیاہے۔
٭…حضرت مصلح موعودؓ نے جلسہ سالانہ 1958ء کے افتتاحی خطاب میں فرمایا کہ اب یہ حالت ہے کہ کھڑا ہونا بھی میرے لیے مشکل ہوتا ہے، بیٹھنا بھی مشکل ہوتا ہے اور رات کو لیٹنا بھی میرے لیے مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ احسان رہاہے کہ باوجود بیماری کے حملہ کے اور اس پر ایک لمبی مدت گزر جانے کے مجھے قرآن کریم نہیں بھولا۔ جب بھی کوئی آیت پڑھتا ہوں تو اس کے نئے معارف میرے دل میں آتے ہیں۔ اور اس سال تو قرآن کریم کے کثرت سے پڑھنے کی اتنی توفیق ملی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ملی یعنی جون سے اب تک چوبیس پچیس دفعہ قرآن کریم ختم کرچکا ہوں۔
٭…روٹری کلب لاہور کے صدر جناب سعید کے حق کی دعوت پر حضرت مصلح موعودؓ نے کلب میں Service above Self کے موضوع پر قریباً ایک گھنٹہ نہایت پُراثر انگریزی میں خطاب فرمایا جس کو ہر ایک نے خوب سراہا۔ جنہوں نے حضورؓ کو مدعو کرنے کی مخالفت کی تھی وہ بھی کہنے لگے کہ حضور کو دوبارہ بھی بلائیں۔ غیرملکی مہمانوں میں سے کسی نے پوچھا کہ آپ کس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں؟ حضورؓ نے جواب دیا کہ مَیں قرآن کی یونیورسٹی سے پڑھا ہوں اور تمام علوم قرآن سے ہی حاصل کیے ہیں۔ کسی کالج یا یونیورسٹی کا پڑھا ہوا نہیں ہوں۔
٭…حضرت شیخ یعقوب علی عرفانیؓ لکھتے ہیں کہ حضرت مولوی غلام نبی صاحبؓ کو قرآن کریم سے عشق ہے۔ بیماریوں کی وجہ سے سارا قرآن حفظ نہ کرسکے تاہم بہت حد تک حافظ ہیں۔ اپنے طالب علموں کو فرماتے ہیں کہ ہر روز دو تین آیات حفظ کرکے اور ان کو سنن اور نوافل اور وتروں میں پڑھتے رہیں۔ جب خوب حفظ ہوجائیں تو آگے کی آیات حفظ کرلیں۔ جب مَیں بچہ تھا تو مَیں نے دیکھا کہ مولانا اپنی شادی کے دو تین دن بعد ہی اپنی بیوی کو قرآن کریم ترجمے سے پڑھانے لگ گئے تھے۔
٭…حضرت سیّد محموداللہ شاہ صاحبؓ حافظِ قرآن تھے اور بچپن میں حضرت مسیح موعودؑ کو قرآن کریم سناکر حضورؑ سے پیار بھی لے چکے تھے۔ جب آپؓ ہیڈماسٹر تھے تو ہر کلاس کو ترتیب سے قرآن کریم کا کچھ حصہ حفظ کرنے کے لیے دیا ہوا تھا اور اس طرح اگر سکول کے سارے طلبائ جمع ہوں تو سارا قرآن مجید زبانی سنا جاسکتا تھا۔
٭…حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحبؓ کے بھتیجے مکرم عبدالشکور اسلم صاحب لکھتے ہیں کہ میٹرک میں زیرتعلیم رہتے ہوئے مجھے چھ ماہ کے قریب تایا جان کے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔ آپؓ کو قرآن کریم سے عشق تھا۔ صبح تین بجے مجھے جگادیتے۔ نیم گرم پانی تیار ملتا۔ وضو کرکے آپؓ کے ساتھ نماز تہجد میں شامل ہوتا۔ پھر نماز فجر ادا کی جاتی جس کے بعد قرآن مجید کا دَور شروع ہوتا۔ آپؓ مجھے تفسیر سمجھاتے اور آیات کے باہم ربط پر روشنی ڈالتے۔ قرآن کریم کے مضامین بیان کرنا اُن کا محبوب مشغلہ تھا۔ جب مَیں ملازمت کے سلسلہ میں ربوہ سے باہر چلاگیا تو خط کے ذریعے قرآن کریم کے تازہ مضامین بھجواتے اور اس بات کا خیال رکھتے کہ مَیں علمائ کے درسوں میں شامل ہوں اور نئے نکات بیان ہوں تو ان کا ذکر بھی آپؓ سے کروں۔
٭…حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مولوی غلام حسن صاحبؓ کی عمر ستّر سال کے قریب تھی مگر جوش ایسا تھا کہ اگر کوئی کہہ دے کہ مَیں قرآن شریف یا حدیث یا عربی پڑھنا چاہتا ہوں تو خواہ اس کا مکان چار میل دُور ہو، بِلاایک پیسہ معاوضہ لیے بلاناغہ اس کے مکان پر پہنچ جاتے تھے۔
٭…مکرم محمد شفیق قیصر صاحب کے والد محترم چودھری محمد حسین صاحب ضلع راجن پور کے ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ اپنے خاندان میں پہلا احمدی ہونے کی سعادت پائی اور آپ کی تبلیغ سے دیگر افرادِ خاندان احمدیت کی آغوش میں آئے۔ قرآن کریم کے عاشق تھے اور ایک چھوٹے سائز کا نسخہ ہمیشہ اپنے پاس رکھتے۔ زمینداری کے دوران جب بھی وقت ملتا تو دوسروں کی طرح گپ شپ کرنے یا حقّہ پینے کی بجائے تلاوت میں مصروف ہوجاتے۔اگر ایسا وقت ہوتا جب روشنی کم ہونے کی وجہ سے قرآن کریم پڑھ نہ سکتے تو قرآن کریم کی مسنون دعائیں بلند آواز سے پڑھتے رہتے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں