لوئی بریل۔بریل سسٹم کا موجد

روزنامہ الفضل ربوہ کے سالانہ نمبر 2011ء میں خدمت خلق کے عالمی اداروں اور شخصیات کے حوالہ سے بھی متفرق معلومات شامل ہیں-
لوئی بریل 4؍ جنوری 1809ء کو پیرس کے نزدیک کادپرے نامی مقام پر پیدا ہوا۔ وہ ایک سائیس کا بیٹا تھا۔ تین برس کی عمر میں ایک حادثے کے نتیجے میں اس کی بینائی شدید متأثر ہوئی اور آئندہ چند ہی برسوںمیں وہ بصارت سے بالکل محروم ہو گیا۔ لوئی بریل نے نابینا بچوںکے ایک مدرسے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار بلائنڈ چلڈرن میں تعلیم حاصل کی اور بعد میںوہیں مدرّس کے فرائض بھی انجام دینے لگا۔ اسی دوران اسے ایک ایسے طریقہ تعلیم کے بارے میں علم ہوا جو سپاہیوں کو رات کے وقت تعلیم دینے کے لئے اختیار کیا جاتا تھا۔ یہ طریقہ تعلیم توپخانہ کے ایک افسر چارلس باربیر Charles barbier کی اختراع تھا۔ جس میں 12 اُبھرے ہوئے نقطوں (Dots)سے حروف شناسی سکھائی جاتی تھی۔ بریل نے اس نظام پر مزید کام کیا اور اسے مزید آسان بنا دیا۔ اس نے حروف کی شناخت کے لئے چھ نقطوں پر مشتمل ایک سسٹم ترتیب دیا۔ جسے اس کے نام سے ہی موسوم کیا گیا اور اب یہ ’’بریل سسٹم‘‘ کے نام سے معروف ہے۔
بریل نے یہ سسٹم 1834ء میں ایجاد کیا تھامگر اسے شروع میں کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی اور نابینائوں کے سکولوں کے منتظمین نے اس سسٹم کو ناقابل عمل قرار دے دیا۔ 6 جنوری 1852ء کو 43برس کی عمر میں بریل کا انتقال ہو گیا۔ اُس کی وفات کے دو برس بعد 1854ء میں بریل کا ایجاد کردہ یہ سسٹم، نابینائوں کی تعلیم کے لئے منظور کرلیا گیا اور آج تک لاکھوں نابینا افراد اس سے مستفید ہوچکے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں