ماہ فروری … ایک عظیم المرتبت وجود کی یادوں کا مہینہ

اداریہ رسالہ ’’انصارالدین‘‘ لندن، جنوری فروری 2021ء

جماعت احمدیہ میں یہ روایت جاری ہے کہ فروری کے مہینے میں ایک ایسے بابرکت وجود کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے جس کے بارے میں خبریں صحفِ سابقہ میں ہزاروں سال سے محفوظ چلی آتی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس وجود باسعود سے متعلق اصدق الصادقین حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ میں بھی پیش خبریاں سینکڑوں سال سے محفوظ ہیں۔ اور پھر گزشتہ ڈیڑھ ہزار سال کے دوران میں آنے والے اولیائے اُمّت بھی ان خوشخبریوں کی تصدیق کرتے چلے آئے ہیں۔ اور پھر یہ بھی کہ اُس عظیم المرتبت وجود، امام الزّمان سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرزند دلبند اور گرامی ارجمند کے وہ فضائل حسنہ جو پیشگوئی مصلح موعود میں بیان کیے گئے ہیں اُن سے ایک ایسے مطہّر وجود کی تصویر سامنے آتی ہے جو اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی ایسے روحانی مراتب عالیہ پر فائز ہوگا کہ گویا

مَظْھَرُالْحَقِّ وَالْعَلآء کَاَنَّ اللہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَآءِ

کا نمونہ ہوگا اور آسمانی تائیدات اُس کی ذات اقدس میں اپنی بھرپور شان کے ساتھ جلوہ گر نظر آئیں گی اور ایک عالَم کو گواہ ٹھہرائیں گی۔
اگرچہ سیّدنا مصلح موعودؓ کی سیرتِ مطہرہ اور پاکیزہ افکار و واقعات کے حوالے سے درجنوں کتب اور سینکڑوں مضامین شائع ہوچکے ہیں۔ تاہم اس امر میں کوئی شک نہیں کہ ’مصلح موعود‘ جیسے عظیم الشان منصب پر فائز ہونے والی ذی جاہ شخصیت کے بارے میں لب کشائی کرنے، اُس کے عالیشان مناقب اور فضائل حسنہ پرکچھ رقم کرنے سے ایک ماہرِ گفتار اور پختہ قلمکار بھی خود کو زبان و بیان میں عاجز، قلّتِ الفاظ سے دوچار اور اظہار میں بے بس پائے گا۔
سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ کی زندگی کا ایک نہایت خوبصورت باب اللہ تعالیٰ پر ایمان اور کامل توکّل کا اظہار تھا۔ اللہ تعالیٰ پر حضرت مصلح موعودؓ کو جو ایمان تھا، اس کی ابتدا بیان کرتے ہوئے آپؓ خود فرماتے ہیں کہ
’’1900ء میں جب مَیں گیارہ سال کا ہوا تو میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ مَیں خداتعالیٰ پر ایمان کیوں لاتا ہوں؟ مَیں دیر تک اس مسئلہ پر سوچتا رہا۔ آخر میرے دل نے فیصلہ کیا کہ ہاں ایک خدا ہے۔ وہ گھڑی میرے لئے کیسی خوشی کی گھڑی تھی جس طرح ایک بچے کو اُس کی ماں مل جائے اسی طرح مجھے خوشی تھی کہ میرا پیدا کرنے والا مجھے مل گیا۔ سماعی ایمان علمی ایمان سے تبدیل ہوگیا۔ مَیں نے اُس وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور ایک عرصہ تک کرتا رہا کہ خدایا مجھے تیری ذات کے متعلق کبھی شک پیدا نہ ہو۔ اُس وقت مَیں بچہ تھا اب مَیں اس قدر زیادتی کرتا ہوں کہ خدایا مجھے تیری ذات کے متعلق حق الیقین پیدا ہو۔‘‘
تاریخ خلافتِ ثانیہ شاہد ہے کہ آپؓ کسی بڑے سے بڑے ابتلاء پر نہیں گھبرائے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو الہاماً بتادیا کہ آپؓ ہی مصلح موعود ہیں تو آپؓ نے فرمایا:
’’خدا نے مجھے اس غرض کے لئے کھڑا کیا ہے کہ مَیں محمد رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں اور اسلام کے مقابلہ میں دنیا کے تمام باطل ادیان کو ہمیشہ کی شکست دے دوں۔ دنیا زور لگالے، وہ اپنی طاقتوں اور جمعیتوں کو اکٹھا کرلے، عیسائی بادشاہ بھی اور اُن کی حکومتیں بھی مل جائیں، یورپ بھی اور امریکہ بھی اکٹھا ہوجائے، پھر بھی مَیں خداتعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ وہ میرے مقابلہ میں ناکام رہیں گی اور خدا میری دعاؤں اور تدابیر کے سامنے اُن کے تمام منصوبوں اور مکروں اور فریبوں کو ملیامیٹ کردے گا۔‘‘

(گلہائے محبت صفحہ 21-23)

پس سیّدنا مصلح موعودؓ کی ذات گرامی جسے خداتعالیٰ نے زکی غلام فرماتے ہوئے اپنا قرب خاص عطا کرنے کی بشارت دی تھی، واقعتاً زندگی بھر اپنے پیارے ربّ پر توکّل کا ایسا نمونہ تھی جس نے دیکھنے والوں کے دلوں کو بھی ایمان اور ثباتِ قدم میں روزافزوں بنائے رکھا۔ ہزاروں افراد اُن خوش قسمت افراد میں شامل ہیں جنہوں نے سراپا متوکّل اور کامل الایمان وجود کے حُسن و احسان کے پُرکیف نظارے شب و روز ملاحظہ کئے اور پھر ہماری تقویّتِ ایمان کے لئے اپنی زبان و قلم سے اُن کا اظہار بھی فرمادیا۔ ایسی تحریروں میں سے انتخاب اس شمارے کی زینت ہے۔
مزید یہ کہ سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ نے مذکورہ بالا الفاظ میں اپنے آنے کا مقصد بیان کرتے ہوئے، دعوت الی اللہ کی اُس جوت کا بھی اظہار فرمایا ہے جو خداتعالیٰ نے آپؓ کے دل میں لگائی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اپنے زمانے میں انسانی نفسیات کا بہترین ادراک رکھنے والے اس بابرکت وجود نے غلامانِ مسیح میں عشق و ولولہ کی اس تپش کو منتقل کرنے کے لئے بے شمار عملی اقدامات فرمائے جن میں خلافت احمدیہ کے نظام کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا اور ذیلی تنظیموں کا قیام بھی تھا۔ پس مجلس انصاراللہ کے اراکین ہوتے ہوئے ہمارا فرض ہے کہ ہم ہمیشہ اپنے اُس عہد کو پیش نظر رکھیں جو ہم اپنے اجلاسات میں کھڑے ہوکر دہراتے ہیں یعنی خلافتِ عظمیٰ کی حفاظت اور اطاعت میں ہمیشہ سرتسلیم خم رکھیں۔ مجلس انصاراللہ کے بانی کے احسانات کو یاد رکھنے اور آپؓ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا یہی بہترین ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(محمود احمد ملک)
100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں