مجلس انصاراللہ سوئٹزرلینڈ

سوئٹزرلینڈ میں جماعت احمدیہ کا باقاعدہ قیام 1946ء میں عمل میں آیا جب مکرم شیخ ناصر احمد صاحب بطور مبلغ وہاں تشریف لے گئے۔ 1962ء میں زیورک میں پہلی احمدیہ مسجد کا سنگ بنیاد حضرت سیدہ نواب امۃالحفیظ بیگم صاحبہؓ نے رکھا جبکہ افتتاح حضرت چودھری محمد ظفراللہ خان صاحبؓ نے کیا۔
1985ء سے مجلس انصاراللہ کی عملاً بنیاد ڈالی گئی اور مکرم کلیم اللہ خان صاحب کے بعد 1991ء میں مکرم بشیر احمد طاہر صاحب مجلس انصاراللہ سوئٹزرلینڈ کے صدر مقرر ہوئے۔ اُس وقت ملک بھر میں انصار کی تعداد بیس تھی۔ 1992ء میں مجلس انصاراللہ کا پہلا دو روزہ سالانہ اجتماع مقرر ہوا اور حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ نے افتتاحی اور اختتامی خطاب فرمائے۔ تعداد کی کمی کے باعث ہر سہ تنظیموں کے لئے صرف ایک افتتاحی اجلاس رکھا گیا تھا لیکن حضور انور نے منع فرمایا کہ ایسے مشترکہ اجتماعات منعقد نہ کئے جائیں بلکہ ہر تنظیم علیحدہ اجتماع کا انتظام کرے، دن بے شک ایک ہی ہوں۔ چنانچہ انصاراللہ کے اجتماع کا اختتامی اجلاس الگ منعقد کیا گیا جس پر حضور انور نے خوشنودی کا اظہار فرمایا۔
اس اجتماع کے موقع پر حضور انور نے یہ ہدایت بھی فرمائی کہ جب کوئی رُکن ایک تنظیم میں سے کسی دوسری تنظیم میں داخل ہو تو قرآن مجید کی دعا رَبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ کے مطابق اس کا استقبال کیا جائے اور باعزت طریق سے اُس کی دینی حالت کا جائزہ لے کر پھر اُس کیلئے سُلۡطٰنًا نَّصِیۡرًا کے طور پر مددگار مقرر کیا جائے۔
اس وقت سوئٹزرلینڈ میں انصار کی تعداد تقریباً چالیس ہے۔
(سن اشاعت 2000ء)

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/3Im0m]

اپنا تبصرہ بھیجیں