محترمہ بشریٰ خاتون صاحبہ

روزنامہ الفضل ربوہ 17مارچ 2012ء میں شامل ِ اشاعت مکرمہ ص۔اشرف صاحبہ نے اپنے مضمون میں اپنی بہن محترمہ بشریٰ خاتون صاحبہ کا ذکرخیر کیا ہے۔
محترمہ بشریٰ خاتون صاحبہ اہلیہ مکرم چوہدری محمدالدین انور صاحب قادیان میں حضرت بھائی محمود احمد صاحبؓ کے ہاں پیدا ہوئیں۔ قادیان سے ہی میٹرک کیا۔ آپ محترم ڈاکٹر حافظ مسعود احمد صاحب مرحوم آف سرگودھا اور مکرم ودود احمد صاحب آف آلڈرشاٹ (یُوکے) کی ہمشیرہ تھیں۔
مضمون نگار لکھتی ہیں کہ ہمارے والد کو بچوں کی تربیت کا بے حد خیال رہتا تھا۔ وہ خود بھی نماز روزے اور تہجّد کے بہت پابند تھے اور بچوں سے بھی نماز کے بارہ میں کوتاہی برداشت نہ کرتے تھے۔ چنانچہ مَیں اور بشریٰ بھی تیرہ چودہ سال کی عمر سے تہجد کی عادی ہوگئی تھیں۔ بشریٰ کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔ ذہین بھی بہت تھی۔ حضرت مسیح موعودؑکی کئی چھوٹی کتب زبانی یاد تھیں۔ شادی کے بعد دعوت الی اللہ کا خاص جذبہ پیدا ہوگیا تھا اور بہت سی خواتین کی بیعتیں کروانے کی توفیق بھی پائی۔
بشریٰ بہت فراخ دل، ہمدرد اور خدمتِ خلق کا جذبہ رکھنے والی تھی۔ اس کا گھر بلاامتیاز ہر ضرورتمند کے لئے کھلا رہتا تھا۔ مہمان نواز بہت تھی۔ اس کا گھر لمبے عرصہ تک نماز کا مرکز رہا اور لجنہ کے جلسے اجلاس بھی یہیں ہوتے تھے۔ اَن گنت بچوں کو قرآن کریم پڑھایا۔ ہم سب بھائی بہن تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں شامل ہیں۔ بشریٰ ہر تحریک میں نہ صرف خود شامل ہوتی بلکہ اپنے بچوں کو بھی اسی راستہ پر چلایا۔
ہم دونوں کا عمر کا فرق بہت کم تھا اس لئے شروع سے اکٹھی رہتیں۔ ہماری بسم اللہ بھی حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے دفتر میں اکٹھی کروائی۔ بعد میں ہم دونوں سرگودھا میں رہیں۔ مَیں جب بھی اُس کے گھر جاتی تو کئی ضرورتمند عورتیں اُس کے پاس بیٹھی نظر آتیں۔ وہ خدمت خلق کے کاموں سے اپنی بیماریوں میں بھی دُور نہیں رہ سکتی تھی۔ ہم دونوں کبھی کبھی 1947ء ، 1953ء اور 1974ء کے حالات کو یاد کرتیں جب سفّاک درندوں سے بچ کر گزرنا پڑا۔ وہ واقعات یاد کرکے کبھی ہم روتیں اور کبھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتیں۔ 1974ء کے سانحے کے بعد حضرت مرزا طاہر احمد صاحبؒ کئی بار ہماری دلجوئی کے لئے ہمارے گھروں میں تشریف لائے۔ بشریٰ کے بچوں کی تربیت دیکھ کر آپؒ بہت خوش ہوتے۔ دراصل تربیت کا طریق ہمیں ہماری والدہ سے ملا ہے۔ ہماری والدہ کی وفات پر حضرت صاحبزادی امۃالحکیم صاحبہ بھی ہمارے ہاں تعزیت کے لئے تشریف لائی تھیں اور بتایا تھا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے اُن کو ارشاد فرمایا ہے کہ بہت کم عورتیں ہیں جنہوں نے ہماری والدہ جیسی اپنی اولاد کی بہترین تربیت کی ہے۔
بشریٰ موصیہ تھیں۔ لاہور میں وفات ہوئی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین عمل میں آئی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ نے ازراہ شفقت لندن میں بھی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/mcYrL]

اپنا تبصرہ بھیجیں