محترمہ رشیدہ تسنیم خان صاحبہ

روزنامہ الفضل ربوہ 7مارچ 2012ء میں مکرم پروفیسر محمد شریف خان صاحب کے قلم سے اُن کی اہلیہ محترمہ رشیدہ تسنیم صاحبہ کا تفصیلی ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
محترمہ رشیدہ تسنیم صاحبہ ضلع سیالکوٹ کے گاؤں بڈھے گورا ئے میں 1937ء میں پیدا ہوئیں۔ نصرت گرلز پرائمری سکول قادیان کی طالبہ تھیں کہ پارٹیشن ہوگئی۔ بعدازاں شاہکوٹ سے مڈل کے امتحان میں ضلع بھر میں اوّل رہیں۔ 1954ء میں نصرت گرلز ہائی سکول ربوہ سے میٹرک پاس کیا۔ جامعہ نصرت ربوہ سے 1957ء میں F.A. اور 1959ء میں B.A. کیا۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے 1962ء میں M.A. فارسی کیا اور جامعہ نصرت ربوہ میں پڑھانا شروع کیا۔ اردو سے اچھا شغف تھا، اکثر اردو بھی پڑھاتی رہیں۔ 1996ء میں ریٹائر ہوئیں۔
مرحومہ کے اچھے اخلاق، خوش طبعی اور شرافت کے معترف اُن کے رفقائے کار بھی تھے۔ چنانچہ کالج کی پرنسپل اور سٹاف نے اپنی تعزیتی قرارداد میں لکھا: آپ جامعہ نصرت کے شعبہ فارسی کی ایک قابل استاد کے طور پر 34 سال تدریسی فرائض سرانجام دیتی رہیں۔ آپ کا شمار ادارے کے بے حد ذمّہ دار اور قابل اساتذہ میں ہوتا ہے۔ نہایت فرض شناس، محبت کرنے والی، ہمدرد اور مہربان ہستی تھیں۔ ہمیشہ اپنے رفقاء کے ساتھ دوستانہ مراسم رکھتی تھیں۔ رنجشوں کو دور کرنے میں ہمیشہ پہل کرنے والی اور جلد معاف کرنے والی تھیں۔ آپ نہایت شگفتہ مزاج اور باغ و بہار شخصیت کی مالک تھیں۔ اپنے سٹودنٹس کے ساتھ قریبی تعلق رکھتی تھیں اور ان کے ذاتی مسائل کو حل کرنے میں کو شا ں رہتی تھیں۔ علم و ادب کے موضوعات پر آپ کا عمیق مطالعہ تھا۔ علمی مو ضوعات پر آپ کی رائے معتبر سمجھی جاتی۔ نہایت غریب پرور، کھلے ذہن اور صاف دل کی مالک تھیں۔ ایک اچھی منتظم، بہترین دوست اور ایک فرض شناس استاد تھیں۔۔
کالج میں وائس پر نسپل کی ذمہ داریوں کے علاوہ سٹاف سیکرٹری، نگران امورطلباء، انچارج باغبانی اور صدر لجنہ حلقہ کالج وغیرہ کے فرائض بھی نبھاتی رہیں۔ بچیوں سے اُن کی زندگی کے دیگرمعاملات پر بھی ڈسکشن کرتیں اور اُن کی بھرپور راہنمائی کرتیں۔
باوجودیکہ ہماری شادی بالکل اجنبی خاندانوں کے درمیان تھی اور جب آپ بیاہ کر آئیں، بوڑھے ساس سسر کے علاوہ، نندوں وغیرہ سے واسطہ پڑا لیکن اپنی خداداد استعداد کے ساتھ جلد ہی کمبائنڈ فیملی میں جگہ بنالی۔ آپ ماہ بماہ اپنی تنخواہ مجھے لاکر دیتیں، معاہدہ یہ تھا چندہ دو، گھر کا خرچہ چلاؤ، بچوں کی ضروریات پوری کرو، اچانک ضرورتوں کے لئے بچت ہونی چاہئے اور چندہ کا بقایا نہیں ہونا چاہئے۔
مرحومہ بہت مہمان نواز تھیں۔ جلسہ پر آنے والے مہمانوں کے آرام اور قیام و طعام کا فکر سے ا نتظام کر تیں۔ دور کے رشتے داروں سے پرانی رنجشوں کو نظرانداز کرتے ہوئے محبت اور احترام سے پھر سے رشتے داریاں استوار کیں، نہ کسی سے کبھی کوئی شکوہ نہ شکایت۔ مہمانداری کے شوق میں طرح طرح کے کھانے پکانے سیکھ لئے۔
محترمہ امتہ المجید ناصر صاحبہ (بیگم مکرم ڈاکٹر پرویز پروازی صاحب) رشیدہ کی میٹرک سے ایم۔اے تک کلاس فیلو رہیں اور دونوں نے تیس سال سے زائد کا عرصہ جامعہ نصرت میں اکٹھے پڑھاتے گزارا۔ دونوں کا بہناپا سگی بہنوں سے سوا تھا۔ حتّی کہ رشیدہ اُن کے والدین حضرت مولانا محمد احمد صاحب جلیل اور اُن کی بیگم صاحبہ کو ابّاجی اور امّی جی کہتیں، اور یہ بزرگ بھی رشیدہ کا بیٹیوں کی طرح خیال رکھتے تھے۔ دونوں سہیلیاں ہردم ضرورتمندوں کی خدمت کے لئے کمربستہ رہتی تھیں۔ مریضوں کی تیمارداری کرنا، اُن کو کھانا بناکر دینا اور نوجوان بچیوں کے رشتے کوشش اور فکر سے کروانا دونوں کی مشترکہ خوبیاں تھیں۔
رشیدہ مر حومہ کی طبیعت میں خداداد متانت، خوش طبعی اور ایک وقار تھا۔ خوش لباس تھیں لیکن کپڑے بنانے کا زیادہ شوق نہیں تھا، اکثر اپنی بہنوں سے کپڑے مستعار لے کر شادیوں اور تہواروں پر پہن کر جانے میں کوئی عار نہیں تھا۔ اپنے ایک بار سلوائے ہوئے کپڑے سالوں چلتے۔ پردے کا خاص خیال رکھتیں، باہر بر قعہ اور گھر میں سر پر ہمیشہ دوپٹہ رکھتیں۔ زیور بنوانے اور بدلوانے کا شوق بالکل نہیں تھا۔ سا ری عمر اپنی شادی کے زیور سے گزارا کیا۔ محلے میں غرباء اور یتامیٰ کی نقدی، جنس اور کپڑوں سے مدد کر تی رہتیں۔ اس کے علاوہ معمول تھا کہ اپنا سونے کا ایک کڑا توڑ لیتیں اور جب کوئی عورت ا مداد لینے کے لئے آتی تو اس کڑے سے انگلی کے پورے کے برابر ٹکڑا کاٹ کر دے دیتیں، اس طرح دو تین کڑے خیرات کر دیئے ہوں گے۔
بچوں کی شادیوں پر اپنا سارا زیور انہیں ڈال دیا سوائے ایک ہار اور کانٹوں کی جوڑی کے جو میری والدہ مرحومہ نے تحفہ میں دیا تھا۔ یہ باقی زیور فلاڈلفیا میں مسجد کی تعمیر کے لئے پیش کرنے کی توفیق پائی۔ اسی طرح ہماری امریکہ میں آمد کے ابتدائی دنوں میں میامی میں قیام کے دوران وہاں کی مسجد کی تعمیر کے لئے باوجود تنگدستی کے ایک بھاری رقم چندہ میں دے دی۔
آپ کو یہ احساس تھا کہ ملازمت کی وجہ سے جماعتی کاموں میں بھرپور حصّہ نہ لے سکی تھیں۔ چنانچہ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ لجنہ ربوہ سے منسلک ہوگئیں۔ درستگی تلفظ قرآن کی کلاس میں شا مل ہو کر صحیح تلاوت بھی سیکھی۔ اس کے علاوہ لجنہ کی طرف سے محلّہ جات کی لجنات کے اجلاسات میں حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کا خلاصہ سنانے اور نفس مضمون سمجھانے کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی جسے بڑی خوبی اور خوشدلی سے نبھایا۔ دین کے بارے میں سخت غیرتمند تھیں۔ کوئی غیراحمدی لڑکی یا ٹیچر احمدیت پر اعتراض کرتی تو فوراً دلیل کے ساتھ جواب دیتیں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ جب حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ نے وصیت کی تحریک کی تو اپنے بیٹوں، بیٹی اور بہووں کو نظام وصیت میں شامل کروایا۔ اس کے علاوہ مرکز کی ہر تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتیں اور باقاعدہ ہر ماہ چندہ ادا کر تیں۔ نماز اور روزے کی پا بند، دینی اجلاسات اور جلسہ سالانہ میں بڑی ذمہ داری سے ڈیوٹی دیتیں۔ خلافت سے بے پناہ عقیدت تھی۔ ہمیشہ گھر میں دینی ماحول رکھا۔ قرآن کریم کی باقاعدہ تلاوت کرتیں اور مہینے میں دو تین بار قرآن کریم کا دور مکمل کرلیتیں۔ بچوں کو باقاعدہ نماز پڑھنے کی تلقین کرتیں۔ پوتوں، پوتیوں، نواسوں اور نواسی کو جب موقع ملا قرآن کریم پڑھایا۔
رشیدہ کوطبعاً قدرتی نظاروں اور پھولوں سے پیار تھا۔ ربوہ کی زمین کا کلّر تو ضرب المثل تھا۔ جامعہ نصرت میں آپ نے مالی سے پلاٹ بندی کرا ئی، پانی کی ٹوٹیوں کا انتظام کیا۔ بھل اور کھاد ڈال کر زمین کو تیار کروا کر پھولوں کو کاشت کر نے کے قابل بنایا۔ ہر سال فیصل آباد نرسریوں سے پھولدار درخت اور پودے لے کر آ تیں اور کچھ ہی عرصے میں کالج میں جگہ جگہ پھول کھلا دیئے۔ اپنے گھر میں بھی پھلدار پودوں کے علاوہ موسمی پھول لگانے کا انتظام کرتیں۔ پودوں کے تیار گملے دوستوں کو تحفہ کرتیں۔
ستمبر1999ء میں ہم امریکہ شفٹ ہوئے تو نئے ماحول میں بھی رشیدہ کا گھرداری کے علاوہ دینی شوق جاری رہا۔ رشتہ داروں کے بچوں کو قاعدہ یسرنا القرآن اور قرآن کریم پڑھاتیں۔ قریب رہنے والی مستورات کو ان کی خواہش پر قرآن کریم گھر جاکر پڑھاتیں۔ ایم ٹی اے پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی قرآن کلاس میں باقاعدہ شامل ہوئیں، قرآن کریم ہاتھ میں رکھتیں اور مشکل آیات پر اپنے پہلے سے لئے ہو ئے نوٹس میں اضافہ کرتی جاتیں۔ لجنہ کے اجلاسات میں جاتیں اور خواتین کے سوالات کے جواب دیتیں۔ جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کا قرآن کریم کا ترجمہ چھپا تو خرید کر عزیزوں کو تحفہ دیا اور فون پر اس سے استفادہ کرنے کی تلقین کرتی رہتیں۔
جب آنکھوں میں cataract کی تکلیف شروع ہوئی تو قر آن کریم نہ پڑھ سکنے سے بہت افسردہ تھیں۔ بڑی تقطیع میں لکھا قرآن کریم کچھ عرصہ پڑھا، تکلیف زیادہ ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپریشن کے بعد نظر بحال ہوگئی، بہت خوش تھیں۔ پھر تلاوت اور کتب کے مطالعہ میں زیادہ وقت گزار تیں۔ درّثمین وغیرہ سے دعائیہ شعر اونچی آواز میں گنگناتیں۔
نازک طبع ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے صحت مند زندگی گزاری۔ چند سال پہلے اچانک کینسر کے خلیات پائے گئے تو متاثرہ گردہ نکال دیا گیا اور کیموتھراپی کے علاج سے فائدہ ہوا۔ لیکن ہر وقت کمزوری رہتی۔ راضی برضا تھیں۔ جب تک ہمت رہتی قرآن کریم پڑھتی رہتیں۔ عزیزوں، شاگردوں کے فون آتے تو کبھی اپنی بیماری کا نہ بتاتیں، بلکہ انہیں تسلّی دلا تیں۔
اردو زبان کے محاورے اور الفاظ کے چناو اور معانی کے لئے رشیدہ میرے لئے Living Dictionary تھی۔ میری یادداشت میں بھی وہ میری ممدومعاون رہی۔
جب ڈاکٹر نے آخری وقت کا بتایا تو اُسی دن سے گھر آکر کئی کئی گھنٹے لکھنے میں گزاردیتیں۔ پہلا مضمون حضرت مولانا محمد احمد صاحب جلیل کی یاد میں لکھا، دوسرا اپنے والد ماجد ڈاکٹر خیرالدین بٹ صاحب مرحوم پر لکھا اور تیسرا اپنے مرحوم بھائی مظہرالحق بٹ صاحب پر لکھا۔ اس کے بعد بادبان کے عنوان سے اپنی زندگی کے حالات لکھنے شروع کئے لیکن بیس پچیس صفحے لکھے ہوں گے کہ کمزوری بیحد بڑھ گئی اور پھر مجھے کہا کہ اب باقی تم خود لکھ لینا ۔ یہ مضامین شائع ہوئے تو قارئین نے ان کی زبان دانی اور سیرت نگاری کو بہت سرا ہا۔
رشیدہ نے 23اپریل2011ء کو وفات پائی اور برلنگٹن (نیوجرسی۔ امریکہ) کے قبرستان کے قطعہ موصیان میں تدفین ہوئی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/4agMD]

اپنا تبصرہ بھیجیں