محترم حافظ ڈاکٹر صالح محمد الٰہ دین صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4جون 2011ء میں مکرم سلطان محمد الٰہ دین صاحب کے قلم سے اُن کے والد محترم حافظ ڈاکٹر صالح محمد الٰہ دین صاحب کا ذکرخیر شائع ہوا ہے۔ قبل ازیں 19؍جون 2015ء کے اخبار کے اسی کالم میں مرحوم کا مختصر ذکرخیر کیا جاچکا ہے۔ ذیل میں مذکورہ مضمون سے چند اضافی امور پیش ہیں۔
محترم ڈاکٹر صالح محمد الٰہ دین صاحب 3 مارچ 1931ء کو الٰہ دین بلڈنگ سکندرآباد میں پیدا ہوئے۔ آپ حضرت سیٹھ عبداللہ الٰہ دین صاحب کے پوتے اور مکرم سیٹھ علی محمد الٰہ دین صاحب کے بیٹے تھے۔ آپ حافظ قرآن تھے اور آپ نے یونیورسٹی آف شکاگو (امریکہ) سے Astronomy & Astrophysics میں Ph.D. کی ڈگری حاصل کی ہوئی تھی۔
آپ نماز کے عاشق تھے۔ نماز کا شوق آپ کی والدہ صاحبہ نے بچپن میں اجاگر کیا تھا۔ آپ دن کا بیشتر حصہ نماز و ذکر الٰہی میں صرف کرتے تھے۔ قادیان کی سخت سردی میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرکے نماز تہجد ادا کیا کرتے۔ ہمیشہ باوضو رہتے۔ مغرب تا عشاء مسجد مبارک میں یا اپنے دفتر میں ذکر الٰہی میں مشغول رہتے اور نماز عشاء کے بعد گھر آتے۔ اپنے بچوں کی نمازوں کی بھی بے حد فکر رہتی اور ہمیشہ توجہ دلاتے رہتے۔
جب آپ عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں ہندوؤں کے محلہ میں رہتے تھے تو فجر، مغرب اور عشاء کی نمازیں گھر پر باجماعت ادا کرتے اور درس کا اہتمام کرتے۔ نماز جمعہ کا خاص اہتمام کرتے۔ محلہ کے لوگ بھی آپ کی بڑی عزت کرتے تھے۔ آپ کی اہلیہ فرحت الٰہ دین صاحبہ مرحومہ محترم مولانا عبدالمالک خان صاحب مرحوم ناظر اصلاح و ارشاد ربوہ پاکستان کی بڑی بیٹی تھیں۔
محترم ڈاکٹر صاحب کو قرآن مجید سے بے پناہ عشق تھا۔ بچپن میں اپنے والد محترم کی خواہش کی اتّباع میں آپ نے قرآن کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی تھی۔ آپ کی تربیت میں گھر والوں کے علاوہ حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ کا بھی اہم کردار تھا جو درس قرآن دیا کرتے تھے اور آپ کی تربیت اپنے جانشین کے رنگ میں کرنے کی کوشش کرتے تھے۔چنانچہ اُن کی وفات کے بعد آپ نے سکندر آباد میں التزام کے ساتھ درسِ قرآن جاری کیا۔ حضرت عرفانی صاحبؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کی تصانیف فتح اسلام، توضیح مرام اور ازالہ اوہام کے حضرت اقدسؑ کے ہاتھ سے لکھے ہوئے مسوّدات بھی آپ کو عطا فرمائے تھے جو آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے سپرد کردیئے۔
آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نیز خلفاء سے بے پناہ محبت و عشق تھا اور اپنی اولاد اور احبا ب کے دلوں میں بھی یہ محبت پیدا کرنے کی جستجو میں رہتے۔ خلیفہ وقت کی ہر بات پتھر کی لکیر ہوتی اور اس وقت تک چین نہ آتا جب تک کہ وہ کام پورا نہ ہو جائے۔ جب بھی اسلام کے خلاف کوئی مضمون آپ کی نظر سے گزرتا تو بے چین ہو جاتے اور اس کا فوری جواب دیتے۔
ناظر صاحب اعلیٰ کو حضرت امیر صاحب کہہ کر مخاطب ہوتے اور خود جا کر انہیں ملتے اور ان کے ہر فرمان کی اطاعت کرتے۔ دوسروں کو ہمیشہ خلیفۂ وقت سے محبت و عقیدت کی اور اُن کی صحبت میں رہنے کی تلقین کرتے۔ اطاعت نظام کے بہت پابند تھے اور اپنے نمونہ سے اسے ظاہر کرتے۔ خاکسار کو جب امیر جماعت سکندر آباد مقرر کیا گیا تو آپ بھی مجھے امیرصاحب کہہ کر مخاطب ہوتے اور مجھے نماز پڑھانے کے لئے کہتے۔
آپ کو بچپن سے Astronomy کا بہت شوق تھا اور اکثر اپنے مکان کے Terrace سے کائنات کا مشاہدہ کرکے لطف اندوز ہوتے۔ آپ کے دادا حضرت سیٹھ عبداللہ الٰہ دین صاحب نے حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں ایک بار عرض کیا کہ صالح محمد کو مَیں وقف کرنا چاہتا ہوں تو حضورؓ نے فرمایا کہ اِسے پڑھنے دیں، یہ ہندوستان میں ہی رہے، اس کی تربیت آپ اس طرح کریں کہ یہ ہندوؤں میں تبلیغ کرے۔ نیز فرمایا کہ مَیں نے اپنا ایک بیٹا اس وادی ذی زرع میں بسا دیا ہے۔ اللہ کرے کہ آپ کی اولاد اور اُس کی اولاد اس وسیع ملک کے باوا آدم ثابت ہوں۔
حضورؓ کے مذکورہ ارشاد کے پیش نظر محترم ڈاکٹر صاحب ہمیشہ ہندوستان میں ہی رہے بلکہ امریکہ سے ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد بھی واپس آگئے اور اپنے بیٹوں کو بھی ہندوستان میں ہی رہنے کی تلقین کرتے۔
محترم ڈاکٹر صاحب تنخواہ ملنے پر پہلے چندہ ادا کرتے اور بعد میں گھر کا خرچ دیتے۔ ہر کسی کی حتی المقدور مدد کرتے۔ کثرت سے لٹریچر خرید کر لائبریریوں میں رکھواتے۔ دعوت الی اللہ کا جنون تھا۔ وقف عارضی پر اکثر جاتے۔ قرآن مجید کی بکثرت تلاوت کرتے، بہت غوروفکر کرتے، عمل کرتے اور دوسروں کو بھی توجہ دلاتے۔ آپ کہا کرتے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا قول ہے اور سائنس اللہ تعالیٰ کا فعل ہے اس لئے ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں۔ بعض آیات پر غور کرکے سائنسی تحقیق کرتے اور جو معارف سمجھ آتے وہ خلیفۃالمسیح کی خدمت میں ارسال کردیتے۔
یہ قرآن ہی کی عظمت ہے کہ آپ کی ریسرچ بہت مقبول ہوئی اور آپ کو متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ ہندوستان کا سب سے بڑا سائنسی ایوارڈ “Meghnath Saha Award” بھی آپ کو دیا گیا۔ یہ اعزاز ملنے سے قبل حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے رؤیا دیکھی تھی کہ آپ کو کوئی بڑا علمی اعزاز ملا ہے۔ آپ نے حضورؒ کی خدمت میں لکھا کہ حضور کی رؤیا پوری ہوئی ہے جس پر حضور نے فرمایا کہ ابھی تعبیر نہ کریں، مَیں نے اس سے بڑا اعزاز دیکھا ہے۔ پھر جب 1994ء میں کسوف و خسوف کے نشان کے سو سال پورے ہونے پر آپ کی نہایت عمدہ تحقیق پر حضورؒ نے آپ کو لندن مدعو کیا اور اپنی تقریر میں آپ کا خاص ذکر کرتے ہوئے بہت عزت افزائی کی۔ اس پر آپ نے حضورؒ کو لکھا کہ اب حضور کی رؤیا پوری ہوئی ہے۔ اس پر حضورؒ نے فرمایا: ’’ماشاء اللہ خوب تعبیر کی ہے‘‘۔
آپ بیان کیا کرتے تھے کہ حضرت مصلح موعودؓ نے بھی اپنی ایک رؤیا آپ سے بیان کرکے فرمایا تھا کہ اسے اپنے دل میں رکھنا، اللہ پر توکل رکھنا، اللہ آپ کو کامیاب کرے گا۔
جب آپ بیس برس کے تھے تو حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ نے خواب میں دیکھا تھا کہ صالح محمد حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی کرسی پر بیٹھے ہیں۔ جب آپ صدر انجمن احمدیہ کے صدر مقرر ہوئے تو یہ رؤیا پوری ہوگئی کیونکہ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ ہی انجمن کے پہلے صدر تھے۔
حضرت مرزا وسیم احمد صاحب نے اپنی وفات سے چند ماہ قبل آپ کو سکندرآباد سے قادیان ہجرت کرنے کی تحریک کی جس پر آپ نے عمل کیا۔ پہلے قادیان میں اپنی بیٹی اور داماد کے گھر منتقل ہو گئے۔ بعدازاں اپنا گھر بنایا۔ آپ نے تین بیٹیاں اور دو بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔یعنی خاکسار سلطان محمد الٰہ دین مائننگ انجینئر (امیر جماعت احمدیہ سکندرآباد)۔ ڈاکٹر مبارکہ نصرت صاحبہ Ph.D.۔ مکرمہ صالحہ عتیقہ صاحبہ ، ہومیوڈاکٹر منصورہ طارق صاحبہ اور مکرم خالد احمد الٰہ دین صاحب۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/qtxV7]

اپنا تبصرہ بھیجیں