محترم رانا محمد خاں صاحب

مکرم نذیر احمد سانول صاحب مربی سلسلہ بیان کرتے ہیں کہ مکرم رانا محمد خان صاحب کے ساتھ خاکسار کو چھ سال جماعتی خدمات کرنے کا موقع ملا۔
گوآپ کی رہائش بہاولنگر شہر میں تھی مگر آپ کا آبائی گھر، خاندان، رقبہ جات، چک نمبر168مراد میں تھے جہاں خاکسار تعینات تھا۔ آپ کے بزرگ آباؤ اجداد پھلروان راجپوت تھے اور ’’رائے پور‘‘ ضلع سیالکوٹ سے 1927ء میں ہجرت کرکے ریاست بہاولپور آ گئے جہاں اُنہیں حکومت کی طرف سے زمین الاٹ کی گئی تھی۔ یہ علاقہ بنجر و بیابان تھا۔ ریت کے ٹیلے، پانی کی کمیابی اور مشکل حالات تھے تاہم خلفاء کی دعاؤں اور رہنمائی سے نہ صرف رقبہ جات کو آباد کرایا بلکہ احمدیت کو بھی علاقہ میں مضبوط کیا۔ اپنے خاندان کے علاوہ دیگر افراد کو بھی یہاں آباد کرایا۔ آپ کے والد محترم چودھری احمد خانصاحب وسیع زمیندارہ سنبھالنے کے علاوہ سمجھدار، بیدار مغز اور اثر و رُسوخ والی بارعب نڈر شخصیت کے مالک تھے۔ بالائی افسران بھی آپ کو عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ مقامی لوگوں کے تنازعات کے فیصلے کرتے اور مشکل معاملات فہم و فراست سے حل کردیتے۔ وہ بھی ایک لمبا عرصہ ریاست بہاولپور کے امیر جماعت رہے۔
مکرم رانا محمد خان صاحب کامیاب وکیل تھے جماعتی مقدمات کو بڑی باریک بینی سے دیکھتے اور خوب تیاری کرتے اور اپنے تمام کام تج کے جماعتی کیس حل کیا کرتے۔ آپ کا بلاکا حافظہ تھا۔ ربوہ میں جلسہ ہائے سالانہ کے مواقع پر خلیفہ وقت سے افراد جماعت کی ملاقات و تعارف کے وقت ضلع کے ہرفرد جماعت کا حضور انور سے ذاتی تعارف کرواتے۔ نام، ولدیت اور جماعت کا بتادیا کرتے اور اس میں لمحہ بھر بھی سوچنے کی ضرورت محسوس نہ کرتے۔
خلفاء عظام کے ساتھ جنون کی حد تک عشق تھا۔ اکثر جلسوں، اجتماعات و دیگر دینی منصوبوں کے پروگرام ضلع کی دیہاتی جماعتوں میں جمعۃ المبارک کے روز ہوا کرتے تھے، ان پروگراموں سے عہدہ برآ ہونے کے بعد واپسی کا سفر کرتے تو گاڑی چلانے والے کو بار بار تاکید کرتے کہ دیکھنا حضور انور کے خطبہ جمعہ سے پہلے گھر پہنچنا۔ اسی طرح گزشتہ خطبہ کا خلاصہ اپنے ذہن میں تیار کر لیتے اور پورا ہفتہ لوگوں کو یہ خلاصہ سناتے رہتے، جماعتوں کے دورہ جات کے دوران ڈش سنٹرز کی معلومات لیتے اور تاکید کرتے کہ کوئی فرد ایسا نہ ہو جس نے خطبہ جمعہ نہ سنا ہو اور ایم ٹی اے پر حضور پر نور کی زیارت نہ کی ہو۔ جماعتوں میں جائزہ کے دوران معصوم بچوں سے خطبہ جمعہ کا پوچھتے اور جو بچے بتاتے اُن کو انعام دیتے۔
جملہ عہدیداران کو کہتے کہ ہر فرد مرکز کے حکم کا پابند ہے۔ حکم بڑا ہو یا چھوٹا کسی کو معمولی نہ سمجھنا۔ یہ نہ سمجھو کہ یہ پیغام کس کے ذریعہ اور کس کے ہاتھ آیا ہے۔ ہر جماعت پر نظر رہتی، بروقت بجٹ، حصول وعدہ جات، ادائیگی اور وصول شدہ چندہ جات بلاتاخیر مرکز ارسال کرنے پر زور دیتے، کسی جماعت نے سستی دکھائی تو اس میں متعلقین کو بار بار بھجواتے اور جب تک کام کی تکمیل نہ ہو جائے چین سے نہ بیٹھتے۔
مکرم رانا صاحب کے دل میں مرکز احمدیت کا بیحد ادب و احترام تھا، وہ مرکز خواہ قادیان ہو، ربوہ ہو یا لندن ہو۔ جب مرکز میں کوئی قافلہ، وفد، یا کوئی فرد جارہا ہوتا تو اسے مرکز کے آداب کی پابندی کی تلقین کرتے۔ عموماً یہ باتیں تکرار سے کہتے، سرعام سگریٹ نہ پینا ، ننگے سر نہ گھومنا، بلند آواز سے نہ بولنا، بلااجازت کسی دفتر میں داخل نہ ہونا، مجلس سے بزرگان سے اجازت لے کر اٹھنا، مقامات مقدسہ کی زیارت کرنا اور کثرت سے درود شریف اور دعائیں کرنا۔
جب کوئی مرکز سے واپس آکر ملاقات کرتا تو اس سے دریافت فرماتے کہ آپ نے مسجد مبارک میں کتنی نمازیں ادا کی ہیں؟ کتنے نوافل پڑھے ہیں اور کس کس بزرگ سے شرف ملاقات حاصل کیا ہے؟
مکرم رانا صاحب باجماعت نماز کے پابند تھے۔ کسی ذاتی تقریب میں بھی تشریف لے جاتے تو نماز باجماعت کے وقت کا اعلان کرا دیتے۔ مصروفیت ، علالت ، سفر یا تقریبات آپ کی نماز باجماعت میں مخل نہ ہوتیں۔ سفر کے دوران کار میں ہی اذان دیتے، اقامت کہتے اور نماز باجماعت ادا کرتے۔ سفر کے دوران تلاوت کرتے یا دعائیں پڑھتے رہتے۔
فجر کے بعد تلاوت بلاناغہ کرتے اور اُس وقت کوئی قریب بیٹھا ہوتا تو اسے بھی ایک نسخہ قرآن پاک کا پکڑا دیتے اور تلاوت کے لئے کہتے۔
افراد جماعت اور بزرگان سلسلہ کے علاوہ کئی سیاسی ، سماجی ، مذہبی شخصیات اور لیڈران مشورہ جات اور معاملات کے لئے آپ سے ملاقات کرتے اور آپ کی مہمان نوازی کی صفت کو ضرور محسوس کرتے۔
کئی ضرورتمندوں کے ماہانہ وظائف مقرر کئے ہوئے تھے۔ اس نیکی کو ہمیشہ اخفاء میں رکھتے۔ اپنے ملازمین سے بہت حسن سلوک کرتے۔ آپ کے ایک ملازم نے بیان کیا کہ مَیں نے رانا صاحب کی 30سال تک اس طرح ملازمت کی ہے کہ آپ کے والد نے میری ڈیوٹی لگائی ہوئی تھی کہ جب رانا صاحب کچہری سے واپس تشریف لائیں تو بندہ اڈہ پر موجود ہوا کرے اور آپ کا بیگ اٹھا کر لایا کرے۔ مَیں بارش، آندھی، طوفان کے باوجود بھی اڈہ پر حاضر ہوتا اور آپ کا سامان اٹھا کر گھر لاتا۔ میں ایک بالکل معمولی نوکر تھا آپ کے سامنے میری کوئی حیثیت نہ تھی۔ جب آپ نے بہاولنگر شہر میں رہائش اختیار کرلی تو پھر اگر کبھی مَیں کسی کام کے لئے آپ کی کوٹھی پر حاضری دیتا تو آپ مجھے عزت سے کمرہ میں بٹھاتے، گھر سے خود کھانا اٹھا کر لاتے۔ مَیں شرم اور ڈر سے پانی پانی ہو جایا کرتا اور کہتا صاحب! مَیں خود ہی گھر سے کھانا لے کر اور نیچے بیٹھ کر کھا لیتا ہوں۔ مگر آپ اصرار سے منع فرماتے کہ ’’نہ ولی محمد! آپ نے میری تیس سال خدمت کی ہے، ہمارا فرض بنتا ہے ہم آپ کی خدمت کو یاد رکھیں‘‘۔ مَیں جس ضرورت کیلئے گیا آپ نے مجھے کبھی خالی ہاتھ نہ بھیجا۔
مکرم رانا صاحب واقفین زندگی کا خاص خیال رکھتے، گھر پر ہوں یا دفتر میں ہمیشہ کرسی سے اٹھ کر ملتے اور کرسی پیش کرتے۔ جب تک واقف زندگی کرسی نشین نہ ہوجاتا خود کرسی پر تشریف نہ رکھتے۔
دورہ جات اور اجلاسات میں مربیان کو علیحدہ لے جاکر اُن کی مشکلات دریافت کرتے۔ افراد جماعت کو واقفین زندگی کے ادب و احترام اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنے کا ارشاد فرماتے رہتے تھے۔ ایک بار کہا کہ مجھے اپنی اولاد سے بہت پیار ہے مگر میرا ایک بیٹا ندیم احمد خالد (پرنسپل نصرت جہاں سیکنڈری سکول کمپالہ) واقف زندگی ہے اس لئے اولاد میں سے مَیں اس سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔
بہت اعلیٰ خطیب تھے۔ دلوں کو جھنجوڑ دیتے اور محفل کو گرما دیتے۔ پڑھے لکھے طبقہ میں فن تقریر کی اصطلاحات سے الفاظ کو مزین کرتے اور عوام الناس کے جلسہ میں سادہ اور سلیس سحر خطابت سے حاضرین و سامعین پر چھا جاتے تھے۔ گفتگو اس انداز سے کرتے کہ مخاطبین کا دل موہ لیتے۔ تقریر میں آیات، احادیث اور حضرت مسیح موعودؑ اور خلفاء احمدیت کے اشعار، عربی، فارسی اور اردو شامل ہوتے جس سے انداز بیان خوب سے خوب تر ہوجاتا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/1AqYw]

اپنا تبصرہ بھیجیں