محترم سید محمد یوسف سہیل شوق صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ یکم اپریل 2002ء میں محترم سید محمد یوسف سہیل شوق صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے مکرم سید منصور احمد بشیر صاحب رقمطراز ہیں کہ مرحوم کے دادا حضرت سید محمد حسین شاہ صاحب ؓ نے پٹواری سے اپنی ملازمت شروع کی اور قانون گو ہوکر ریٹائرڈ ہوئے۔ حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر جب آپؓ نے اپنی خدمات جماعت کو پیش کیں تو حضورؓ نے آپؓ کو اپنی اور دیگر صاحبزادگان کی زمینوں کا مختارعام اور سیکرٹری تحریک جدید مقرر فرمایا۔ ان خدمات کو کئی سال تک آپؓ نے سرانجام دیا۔ محترم شوق صاحب کے والد محترم ڈاکٹر محمد جی احمدی صاحب کو مختلف اضلاع میں ضلعی افسر صحت کے طور پر کام کرنے کی توفیق ملی۔ اس دوران آپ کو احمدیت کی خدمت کی سعادت بھی ملتی رہی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ راولپنڈی میں مقیم ہوئے۔ آپ کی وسیع و عریض کوٹھی میں اُس حلقہ کا مرکز نماز قائم ہوا۔ محترم شوق صاحب کے ایک چھوٹے بھائی محترم ڈاکٹر سید نسیم بابر صاحب کو 1990ء میں شہیدِ احمدیت ہونے کی سعادت عطا ہوئی۔ محترم شوق صاحب خود زندگی وقف کرکے ربوہ آئے اور وفات تک بہت مفید خلائق زندگی گزارنے کی توفیق پائی۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ کے لئے آپ کو کثیر وقت دینا پڑتا لیکن آپ اپنے محلہ کی مقامی جماعت کی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لیتے۔ دو سال سے اپنے محلہ کے زعیم مجلس انصاراللہ بھی تھے۔ اپنی موٹر سائیکل اور کار کو رفاہ عامہ کے لئے ہمیشہ وقف رکھا۔ بہت مہمان نواز تھے اور صلہ رحمی کرنے والے وجود تھے۔
آپ کا ایک خاندانی تربیتی رسالہ شائع ہوتا ہے جسے آپ ہی پایہ تکمیل تک پہنچایا کرتے۔ اسی طرح آپ کے خاندان میں ایک ٹرسٹ قائم ہے جس کے آپ سیکرٹری تھے اور اس کے لئے بڑی محنت کیا کرتے تھے۔ محنت کی شروع ہی سے آپ کو عادت تھی۔ رات گیارہ بارہ بجے تک لکھنے پڑھنے کا کام جاری رہتا۔ جب ’’الفضل‘‘ کا کوئی خاص نمبر نکلنا ہوتا تو کئی راتیں مسلسل کام ہوتا۔ آپ کو دو کتب کے علاوہ کثرت سے مضامین اور نظمیں لکھنے کی توفیق بھی ملی۔ جب ’’الفضل‘‘ کی اشاعت پر پابندی لگ گئی تو فراغت آپ کیلئے ناقابل برداشت ہوگئی۔ آپ کے حضور کی خدمت میں تحریر کرنے پر حضور انور نے آپ کو وکالت اشاعت میں کام کرنے کا ارشاد فرمایا جہاں آپ چند سال کام کرتے رہے۔
مجھے دو سال تک آپ کی ہمسائیگی کا موقع بھی ملا۔ آپ بہترین ہمسائے تھے۔ دعوت الی اللہ کے لئے سب کچھ قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ اس سلسلہ میں کئی سفر کئے۔ بعد میں روحانی اولاد کا مکمل خیال رکھتے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں