محترم سیّد عبدالحی شاہ صاحب

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، الفضل انٹرنیشنل 11 ستمبر 2020ء)

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ ستمبر واکتوبر 2012ء کا شمارہ مکرم سیّد عبدالحی شاہ صاحب مرحوم کی یاد میں خصوصی اشاعت کے طور پر شائع کیا گیا ہے۔
مکرم نذیر احمد سانول صاحب لکھتے ہیں کہ میرے والد محترم حافظ صوفی محمد یار صاحب 1978ء میں اپنے شاگردوں کی ایک جماعت کے ساتھ احمدیت کے نُور سے منور ہوئے۔ آپ اڈہ چوپڑہٹہ ضلع خانیوال کے قریب دینی مدرسہ چلاتے تھے اور پیری مریدی کرتے تھے۔ آپ کا ذاتی دارالمطالعہ بھی تھا ۔ذوق مطالعہ کی بِنا پر محترم شاہ صاحب کے ساتھ آپ کے برادرانہ مراسم تھے۔ آپ جب بھی ربوہ آتے، شاہ صاحب سے پسند کی کتب لے کر جاتے۔ شاہ صاحب نے والد صاحب کو 7؍اکتوبر 1992ء کو یہ تحریر اپنے دستخط کے ساتھ دی تھی کہ: ’’آج بزرگوار محترم جناب حافظ صوفی محمد یار صاحب سے ملاقات ہوئی۔ آپ حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃاللہ علیہ کے مریدوں میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے خاص کلام سے حضرت مرزا ناصر احمد خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ سے ملنے کا ارشاد فرمایا۔ آپ جب بھی نظارت اشاعت میں آئیں تو انہیں ہر کتاب بِلاقیمت دی جایا کرے۔ خاکسار سیّد عبدالحئی۔‘‘
خاکسار جب بھی یہ تحریر محترم شاہ صاحب کو پیش کرتا تو آپ ایک چِٹ بناکر دے دیتے اور مطلوبہ کتاب عطا ہوجاتی۔
خاکسار زیارتِ مرکز کے لیے اکثر چند دوستوں کو بھی ہمراہ لایا کرتا۔ ہم آپ کے ہاں بھی ضرور حاضری دیتے۔ آپ کا دسترخوان کشادہ تھا۔ چنانچہ گرمیوں کے موسم میں ایک بار ربوہ گیا تو ایک کتاب لینے کے لیے پسینے سے شرابور آپ کے دفتر پہنچا۔ محترم شاہ صاحب فرمانے لگے کہ کتاب لے کر مجھے دکھاکر جانا۔ خاکسار نے کتاب لاکر پیش کی تو آپ نے اس میں سو روپے کا نوٹ رکھ کر کتاب بند کرکے مجھے تھمادی اور فرمایا:گرمی کا موسم ہے اور لمبا سفر ہے، راستے میں پانی پی لینا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/FRlPK]

اپنا تبصرہ بھیجیں