محترم سیّد عبدالحی شاہ صاحب

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، الفضل انٹرنیشنل 11 ستمبر 2020ء)

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ ستمبر واکتوبر 2012ء کا شمارہ مکرم سیّد عبدالحی شاہ صاحب مرحوم کی یاد میں خصوصی اشاعت کے طور پر شائع کیا گیا ہے۔
مکرم محمد یوسف شاہد صاحب (کارکن نظارت اشاعت) بیان کرتے ہیں کہ محترم سیّد عبدالحی شاہ صاحب ایک فانی فی اللہ وجود تھے۔ کئی بار تنہائی میں منہ پر ہاتھ رکھے آپ کو دعا میں مصروف دیکھا۔ یہ سلسلہ آپ کی اہلیہ محترمہ کی وفات کے بعد زیادہ ہوگیا تھا۔
خاکسارنومبر1995ء میں آپ کے پاس آیا۔ جن دنوں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کے درس القرآن کے لیے نوٹس تیار کیے جاتے تھے تو آپ اردو، عربی اور انگریزی کے تمام نوٹس کا بغور جائزہ لیتے، اصلاح کی ضرورت ہوتی تو کردیتے اور پھر مصروفیت کے باوجود ان نوٹس کو خوشخط لکھنے میں ہمارے ساتھ ہوجاتے۔ خوشخط ہونے کی وجہ سے آپ کا خط سب سے نمایاں اور نفیس ہوتا۔ نوٹس فیکس کروانے تک آپ دفتر میں اپنی ٹیم کےساتھ موجود رہتے۔ احتیاط یہاں تک کرتے کہ جس حوالے کے بارے میں شرح صدر نہ ہوتا وہ کبھی حضور کی خدمت میں ارسال نہ کرتے۔ کئی دفعہ کہتے کہ فلاں حوالہ حضور کے مزاج کے خلاف ہے یا فلاں حوالہ فلاں موقع پر پیش ہوا تھا لیکن حضور نے پسند نہیں فرمایا تھا۔
محترم شاہ صاحب اپنی ٹیم کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور اُن کی ضروریات کا خیال رکھتے۔ میری رہائش کرایہ کے مکان میں تھی۔ مجھے کوارٹر دلوانے میں بھی آپ کی خصوصی شفقت ہی کارفرما تھی۔ عیدالاضحی پر اگر قربانی کی توفیق ملی تو اپنے ہاتھ سے پرچیاں لکھ کر اپنے دفتر کے کارکنوں کو گوشت کا تحفہ بھجواتے۔عیدالفطر پر اگر دفتر کے کارکنوں کے بچے ملتے تو ان کو عیدی بھی دیتے۔بچوں کےتعلیمی نتائج کے بارے میں دریافت کرتے اور دعا بھی کرتے۔
آپ اَنتھک محنتی وجود تھے۔ حوالہ جات کو اصل ماخذ سے تلاش کرنے کا کام بہت احتیاط اور محنت سے کرتے اور حوالہ مل جاتا تو بہت خوش ہوتے۔ تحقیق کرنے کے ڈھنگ بھی ہمیں سکھاتے اور حوصلہ افزائی کرتے۔ ایک دفعہ خاکسار نے کسی کام کے سلسلے میں ایک دوسرے ادارے سے مدد لینے کا عرض کیا تو فرمایا کہ کام وہی ہے جو خود کرلیں، دوسروں سے مدد مانگنا تو بیساکھیاں لے کر چلنے کی طرح ہے۔
بارہا آپ کشمیر کی دلکش یادوں میں کھو جاتے، وہاں کے پھولوں کی خوشبو اور سیب کے ذائقے کا ذکر کرتے اور دلچسپ واقعات سناتے۔ آپ بتاتے تھے کہ زعفران کی چنائی کے دنوں میں زعفران کی ڈنڈیاں اگر گائیں کھا لیتیں تو اُن کے دودھ سے بھی زعفران کی خوشبو آنے لگتی بلکہ جو مکھن اور گھی اس دودھ سے تیار ہوتا اس سے بھی زعفران کی خوشبو آتی اور گھی کا رنگ بھی خوب زرد ہوتا۔گلاب کے پھول کی ایک خاص قسم کے بارے میں بتایا کہ کئی فرلانگ سے اُس پھول کی خوشبو محسوس کی جاسکتی تھی۔
آپ بتایا کرتے تھے کہ حضرت امّاں جانؓ بھی حضرت مصلح موعودؓ کے ہمراہ کشمیر کے سفروں میں دو بار وہاں گئی تھیں اور محترم شاہ صاحب کے بزرگوں کے ہاں قیام فرمایا تھا۔ آپؓ کو کھمبیوں کی ترکاری بہت پسند تھی خصوصاً کشمیر کی کھمبیاں جو بڑی بڑی ہوتی تھیں۔
کسی دوست کی تحریک پر آپ نے احمدیہ مسجد آسنور کے لیے نہ صرف خود چندہ دیا بلکہ اپنے کئی اقرباء سے اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے دوستوں سے بھی چندہ جمع کرکے بھجوایا۔ دفتری امور کا بھرپور احساس تھا۔ وفات سے ایک دن پہلے کئی دفتری کام کرنے اور دکھانے کی ہدایت دی۔ بے شک زندگی کے آخری دن تک دفتری کاموں کا فکر رہا اور ہدایات بھی دیتے رہے۔آخری دن سانس کی شدید تکلیف تھی کہ بات کرنا بھی مشکل تھا۔ بوقت رخصت، الوداع کی طرز پر ہاتھ ہلایا اور کچھ دیر بعد اللہ کو پیارے ہوگئے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/nhor0]

اپنا تبصرہ بھیجیں