محترم سیّد عبدالحی شاہ صاحب

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، الفضل انٹرنیشنل 11 ستمبر 2020ء)

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ ستمبر واکتوبر 2012ء کا شمارہ مکرم سیّد عبدالحی شاہ صاحب مرحوم کی یاد میں خصوصی اشاعت کے طور پر شائع کیا گیا ہے۔
مکرم منیر احمد بسمل صاحب ایڈیشنل ناظراشاعت رقمطراز ہیں کہ کئی سال محترم شاہ صاحب کی براہ راست ماتحتی میں کام کرنے کا موقع میسر آیا۔ آپ جب کوئی کام کرتےتو اتنے انہماک، لگن اور ذوق شوق سے کرتے کہ گویا ان کو اس کام کا چسکا ہے۔ ان کے کام کرنے کا طریقہ ایسا ہوتا کہ دوسروں میں بھی کام کرنے کا غیرمعمولی ولولہ پیدا ہوجاتا۔ لطیف حس مزاح سے بھی مالامال تھے۔کام کے دوران ظریفانہ گفتگو سے ماحول کو خوشگوار رکھتے اور اپنے رفقائے کار کا ہر طرح خیال رکھتے۔ بعض اوقات رات ایک دو بجے تک کام جاری رہتا۔ آپ برابر شریک رہتے۔ سخت گوئی سے نفرت تھی۔ گفتگو میں آپ بیتی شاذ ہی آتی۔ تردید کے انداز میں تردید نہ کرتے۔ غلطی کی اصلاح غلط کہہ کر نہ کرتے۔ طبیعت میں شرم و حیا بہت تھی۔ نہ خود پریشان ہوتے نہ دوسروں کو پریشان کرتے۔ کام کتنا ہی اعصاب شکن ہو کبھی ہمت نہ ہارتے۔ مروّت بہت تھی۔ سخت مصروفیت ہوتی تو ایسے میں لوگ آتے اور باتوں میں وقت ضائع کرتے مگر آپ محض دلآزاری کے خیال سے کبھی یہ نہ کہتے کہ مَیں نے کام کرنا ہے، پھر ملیں گے۔ درگزر کا یہ عالم تھا کہ کوئی کیسی ہی بدسلوکی کیوں نہ کرے جواب نہ دیتے۔ عزیزوں کے ساتھ بہت اُلفت تھی۔ جب بھی قادیان جاتے تو کشمیر سے آنے والے عزیزوں کے لیے سوغاتیں لے کر جاتے۔ وفات سے پہلے بیماری کے باعث نہ جاسکے تو ایک دوست کے ذریعے ایک بڑا بکس تحائف اور نقدی کا اپنے عزیزوں کو بھجوایا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/AUofd]

اپنا تبصرہ بھیجیں