محترم سیٹھ محمد یوسف صاحب کا ذکرخیر

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23؍اکتوبر2008ء میں مکرم لئیق احمدعاطف صاحب اپنے مضمون میں رقمطراز ہیں کہ 2007 ء کے آغاز میں خاکسار کوایک جماعتی دورے پر نوابشاہ جانے کا موقع ملا۔ محترم امیر صاحب نے اتنا بھرپور تعاون کیا کہ گویا ہر وقت خود خدمت کرتے رہے۔ جس کے ساتھ ہمیں کہیں بھجوایا اُسے بھی یہی ہدایات دیں۔ جہاں ہم پہنچے وہاں کے صدر کو بھی یہی ہدایات تھیں۔ چنانچہ سکرنڈ سے واپسی پر صدر صاحب ہمیں بس سٹاپ تک اپنی کار میں چھوڑ کر بس کا انتظار کرتے رہے تاکہ ہم پہلے روانہ ہوں۔ میرے اصرار پر کہ آپ چلے جائیں اُن کا کہنا تھا کہ امیر صاحب نے انہیں یہی ارشاد فرمایا ہے۔ جب ہم واپس نوابشاہ پہنچے تو مکرم امیر صاحب ہمارا انتظار کررہے تھے۔ پھر ہمیں ساتھ لے کر ایک ہوٹل میں کھانے کے لئے گئے مگر اپنے لئے کھانا نہ منگوایا۔ خاکسار کے پوچھنے پر کہنے لگے کہ میں نے پرہیزی کھانا کھانا ہوتا ہے، آپ کھائیں۔ کھانے کے بعد مکرم امیر صاحب کافی دیر تک ہمارے ساتھ گفتگو فرماتے رہے اور رات کو آرام کے لئے خود بستر کا انتظام فرمایا اور تمام اشیاء کا انتظام کرنے کے بعد گھر تشریف لے گئے، حالانکہ آپ خادم مسجد کو بھی کہہ سکتے تھے لیکن مرکزی مہمان کے لئے خود انتظامات فرماتے رہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/djr4G]

اپنا تبصرہ بھیجیں