محترم سیٹھ محمد یوسف صاحب کی سیرت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 29دسمبر 2008ء میں مکرم نصیر احمد کھرل صاحب بیان کرتے ہیں کہ 2004ء میں خاکسار دوڑ ضلع نوابشاہ میں بطور مربی سلسلہ مقرر ہوا اور 2007ء سے محمود ہال نوابشاہ میں خدمت کی توفیق پا رہا ہے۔ اس طرح محترم سیٹھ صاحب سے روزانہ ملاقات ہوتی تھی اور محترم امیرصاحب کی یہ خوبی تھی کہ وہ ہر جماعتی کام میں ضرور دو چار دوستو ں سے مشورہ کر لیا کرتے تھے۔ آپ نہایت سادہ، شفیق، غرباء کا خیال رکھنے والے، دوسروں کی تکلیف کو دُور کرنے والے تھے۔ مہمان نوازی تو آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ واقفین زندگی کے ساتھ بہت عزت و احترام سے پیش آتے تھے اور ایک مہربان باپ کی طرح ان کی ضروریات کو پورا کیا کرتے تھے۔
محترم امیر صاحب بہت مہمان نواز اور غرباء کا خیال رکھا کرتے تھے۔ ایک بار قریباً 40 مہمان آنے تھے اور کھانے کا انتظام 100 افراد کے لئے تھا۔ خاکسار نے کہا کہ تھوڑے پیسوں میں انتظام ہوسکتا تھا تو آپ نے فرمایا کہ بعض ہمارے احمدی غریب بھائی ہیں اس طرح ان کے گھروں میں کھانے بھیج دیتے ہیں اور وہ بھی اچھا کھانا کھا لیتے ہیں ۔
ایک دفعہ ربوہ سے دو مرکزی مہمان نوابشاہ تشریف لائے تو محترم امیر صاحب بھی اُن کو سٹیشن پر چھوڑنے گئے۔ ٹرین نے شام پانچ بجے آنا تھا لیکن لیٹ ہوگئی۔ آپ کی طبیعت ناساز تھی اور مہمانان بھی آپ سے گھر جاکر آرام کرنے کے لئے بار بار کہہ رہے تھے۔ لیکن اُن کے اصرار کے باوجود آپ گھر نہ گئے اور سٹیشن پر گاڑی کا انتظار کرتے رہے جو اگلی صبح 4 بجے آئی۔ بہت منکسرالمزاج تھے۔ اپنی ایک چھوٹی سی دکان میں آپ جماعتی کام کیا کرتے تھے۔ جب کوئی دوست وہاں آپ سے ملنے آتے تو آپ مہمان کوکرسی پیش کرتے اور خود بینچ پر بیٹھ جاتے اور مہمان کے اصرار پر بھی بینچ سے نہ اٹھتے۔
آپ کو مطالعہ کا بہت شوق تھا اور آپ کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ ادب سے بھی بہت دلچسپی تھی۔ درثمین کلام محمود، کلام طاہر اور احمدی و دیگر شعراء کے آپ کو بے شمار شعر یاد تھے اور آپ ان کو موقع محل پر سنایا بھی کرتے تھے۔ شہادت سے چند روز قبل یہ شعر اکثر سناتے اور اُس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جایا کرتے تھے۔ ؎

عدل کریں تے تھر تھر کمن اچیاں شاناں والے
فضل کریں تے بخشے جاون میرے جے منہ کالے

محترم ڈاکٹر عبدالمنان صاحب صدیقی کی شہادت پر آپ بہت افسردہ تھے لیکن آپ ہمیں حوصلہ دیتے ہوئے کہتے کہ اس سے گھبرانا نہیں چاہئے یہ ہماری زندگیوں کا حصہ ہیں۔ اگر کسی آدمی کو ایک مہینہ کا کام دیا جائے اور وہ اسے ایک ہفتہ میں مکمل کر لے فرمایا یہی حال ڈاکٹر صاحب کا ہے کہ انہوں نے اپنا کام ایسے ہی مکمل کیا ہے اوربڑی تیزی سے کیا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں