محترم صاحبزادہ مرزا غلام قادر شہید

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 19؍جولائی 1999ء میں محترم صاحبزادہ مرزا غلام قادر احمد صاحب شہید کے بارہ میں مختلف دوستوں کے تاثرات شائع ہوئے ہیں جنہیں مکرم انتصار احمد نذر صاحب نے مرتب کیا ہے۔
محترم حافظ مظفر احمد صاحب سابق صدر مجلس خدام الاحمدیہ نے بتایا کہ دفتر وصیت کے بعد مجلس خدام الاحمدیہ کے دفاتر میں کمپیوٹر کا استعمال شروع ہوا اور محترم قادر صاحب جو اُس وقت مہتمم تجنید تھے، نے بڑی محنت سے کمپیوٹر کی خریداری سے لے کر کارکنان کو سکھانے تک کے مراحل طے کئے۔ آپ بہت منظم انداز سے کام کرتے تھے۔ جو کام بھی اُن کے سپرد ہوتا تھا اُس کے بارہ میں یہ اطمینان ہوتا تھا کہ یہ کام ہوجائے گا اور یاددہانیاں نہیں کروانی پڑیں گی۔
مکرم سید طاہر احمد صاحب ناظر تعلیم نے بتایا کہ نظارت تعلیم کے لئے کمپیوٹر کی خرید اور اسے سکھانے کے لئے محترم صاحبزادہ صاحب نے بہت تعاون کیا۔ اسی طرح نظارت تعلیم کے انفارمیشن سیل میں بھی بیرون ملک تعلیم کے سلسلہ میں خدمت کی توفیق پائی۔ جب آپ خدام الاحمدیہ میں مہتمم مال اور مَیں محاسب تھا تو آپ محاسبہ کمیٹی کے صدر بھی تھے۔ میرا تجربہ ہے کہ مَیں نے زندگی میں اتنا صائب الرائے آدمی نہیں دیکھا۔ آپ جس طرح Facts and Figures پیش کرتے تھے انہیں ریجیکٹ کرنا مشکل تھا۔ میٹنگ میں Genuine ضرورت کو دیکھتے تھے۔ ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ عاملہ کی میٹنگ میں اپنی رائے دے کر خاموش ہو جاتے تھے اور بے وجہ پیچھا یا اصرار نہیں کرتے تھے۔
مکرم حبیب الرحمان زیروی صاحب لائبریرین خلافت لائبریری ربوہ نے بیان کیا کہ لائبریری میں کمپیوٹر سیکشن کا اجراء محترم صاحبزادہ صاحب کی زیرنگرانی ہی عمل میں آیا اور آپ کمپیوٹر کے عملہ کی کلاسیں بھی لیتے رہے۔
مکرم ڈاکٹر سلطان احمد صاحب مبشر نے بتایا کہ فضل عمر ہسپتال کی فارمیسی کیلئے پروگرامنگ بھی محترم میاں صاحب کے تعاون سے کی گئی اور اس پروگرام کی تکمیل میں سات آٹھ ماہ کا عرصہ لگا۔ اس دوران بعض دفعہ دوپہر کو سوتے ہوئے بھی آپ کو اٹھایا گیا تو بھی فوراً آگئے۔ آپ باحیا انسان تھے اور عام حالات میں بھی نظریں نیچی رکھنے میں مشہور تھے۔ دوست مذاقاً کہا کرتے تھے کہ اگر کبھی سامنے سے کوئی چیز آ رہی ہو تو بھی آپ کو پتہ نہ چلے۔
مکرم صاحبزادہ مرزا عبدالصمد احمد صاحب سیکرٹری مجلس کارپرداز نے بتایا کہ شعبہ وصیت کے لئے پروگرامنگ کرتے وقت محترم غلام قادر صاحب دوسرے تیسرے دن دفتر وصایا میں آتے اور بڑے منظم انداز میں کام کرتے تھے۔ انہوں نے ہماری سہولت کے لئے ایک performa تیار کیا جس سے کام بہت آسان اور جلد ممکن ہوگیا۔ چندوں میں آپ کا ہاتھ غیرمعمولی طور پر کھلا تھا۔ ہر تحریک میں شامل ہوتے اور جو بھی زائد آمد ہوتی تھی اس پر ہر قسم کی مدات میں چندہ دیتے تھے۔
محترم صاحبزادہ صاحب احمدیہ ایسوسی ایشن آف کمپیوٹر پروفیشنلز (AACP) کے چیئرمین اور پیٹرن بھی تھے۔ اس تنظیم کے سیکرٹری مکرم ابراہیم احمد ملک صاحب نے بتایا کہ محترم صاحبزادہ صاحب کے ساتھ ہر ہفتے اور اتوار کو مجھے کام کرنے کا موقع ملتا تھا۔ لیکن آپ ہر سطح کے کاموں میں اس حد تک ہماری مدد کرتے تھے کہ ہمیں پتہ بھی نہیں ہوتا تھا۔ آپ کے ذریعے میگزین کی پرنٹنگ ایک رات میں ممکن ہوسکی تاکہ اگلے روز ایسوسی ایشن کے کنونشن کے موقع پر اسے تقسیم کیا جاسکے۔ آپ کنونشن میں وقت کی پابندی کا بہت خیال رکھتے تھے اور یہ ہدایت بھی کرتے تھے کہ پروگرام کی وجہ سے نمازیں ضائع نہ ہوں۔ آپ کو غض بصر کی عادت تھی۔ جماعت کے لئے کوئی چیز لینا ہوتی تو ہرممکن کوشش کرتے کہ جہاں تک ہوسکے جماعت کا پیسہ کم سے کم خرچ ہو۔
مکرم سید طاہر محمود ماجد صاحب نے بتایا کہ محترم صاحبزادہ صاحب جب مہتمم مال تھے تو کئی دفعہ مَیں اُن کے پاس جاتا اور اگر میز سے کوئی کاغذ اٹھاکر اُس پر لکھنا چاہتا تو آپ وہ کاغذ لے لیتے اور دراز میں سے ایک دوسرا کاغذ نکال کر دے دیتے تھے۔ جماعتی اموال کے بارہ میں وہ بیحد محتاط تھے۔ بعض غرباء کی اس طرح مدد کرتے کہ انہیں احساس تک نہیں ہوتا تھا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/wbL2y]

اپنا تبصرہ بھیجیں