محترم عبد الرحمن صاحب دہلوی

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 31اگست 2009ء میں مکرم محمد زکریا ورک صاحب کے قلم سے محترم عبدالرحمن صاحب دہلوی کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔ قبل ازیں 17جون 2011ء کے شمارہ کے اسی کالم میں بھی مرحوم کا تفصیلی ذکر کیا جاچکا ہے۔
محترم عبد الرحمن صاحب دہلوی ایک منکسرالمزاج عالم دین، پُرجوش داعی الی اللہ تھے جو 15 فروری 2009ء کو 99 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ دقیقہ رس عالم تھے۔ کتابوں کے رسیا ، نہ صرف خود مطالعہ کا شوق تھا بلکہ چھوٹے چھوٹے رسالے اور پمفلٹ چھپواکر لوگوں میں تقسیم فرماتے تھے۔ نصیحت آموز عمدہ مضامین کی فوٹوکاپیاں بھی احباب میں تقسیم فرماتے تھے۔ جس تقریب میں جاتے اپنے بیگ میں رسالے، کاغذات ساتھ رکھے ہوتے تھے۔ کئی احباب کو اپنی جیب سے رقم دے کر ان کی کتابیں چھپوائیں۔ جب بھی میں آپ سے ملاقات کے لئے جاتا آپ نے ذہن میں میرے لئے کسی نہ کسی علمی کام کا پراجیکٹ تیار کیا ہوتا تھا۔ ایک بار کسی عزیزنے آپ کو پر وفیسر کرشنا راؤ کا آنحضرت نبی کریم ﷺ پر انگریزی میں مضمون امریکہ سے بھجوایا۔ آپ کو بہت پسند آیا اور مجھے کہا کہ فوراََ اس کا اردو میں ترجمہ کردو۔ میں نے اردو ترجمہ دنیا کا سب سے عظیم انسان کے عنوان سے کردیا۔ یہ23 صفحات کا کتابچہ آپ نے ایک ہزار کی تعداد میں خود اپنے خرچ پر شائع کرایا اور ہرکس و ناکس کو تحفہ میں دیا۔ اسی طرح میں نے مائیکل ہارٹ کی کتاب میں سے آنحضرت ﷺ کی ذات والا صفات پر جو مضمون ہے اس کا ترجمہ آپ کو کرکے دیا تو آپ نے اردو اور انگریزی میں یہ مضمون کتابچے کی صورت میں تقسیم کی غرض سے چھپوایا۔
اردو زبان پر مسلمہ قدرت حاصل تھی۔ ادب اور شاعری سے بھی لگاؤ تھا۔ میں نے ایک بار امتحان کے طور پر آپ سے غالب کی ایک غزل کے چند دقیق اشعارکی شرح کرنے کو کہا تو آپ نے ان اشعار کی سادہ الفاظ میں شرح میرے گوش گزار کردی۔
غالب کے فارسی کلام پربھی مکمل عبور حاصل تھا۔ بتلاتے تھے کہ وہ برطانوی راج کے دوران انگریز افسروں کو اردوکی تعلیم دیا کرتے تھے۔ میں نے ان کو کبھی تقریر کرتے نہیں دیکھا لیکن ایک دفعہ مجھے بتلایا کہ قیام پا کستان سے قبل وہ مسلم لیگ کے جلسوں میں تقریریں کیا کرتے تھے۔
ہر ملاقات میں رسول کریم ﷺ کی پاک و مطہر زندگی کے واقعات سناتے۔ جب واقعہ سنا رہے ہوتے تو آنسوؤں سے آنکھیں نمناک ہوتیں۔ آنحضرت ﷺ کا نام لبوں پر آتا تو ہونٹ تھرتھرانا شروع کر دیتے، جسم پر کپکپی طاری ہوجاتی، گویا غم سے نڈھال ہوئے جا رہے ہیں۔
نیک دل، دوست نواز،حد درجہ مہمان نواز اور عبادت گزار انسان تھے ۔ خوش مزاجی اور خوش خلقی کا ثبوت دیتے ہوئے مہمانوں کی حد درجہ تواضع کرتے۔ سادہ مگر صاف ستھرا لباس زیب تن فرماتے۔ گھر پر اکثر میں نے ان کو ململ کی قمیص میں دیکھا مگر باہر جاتے تو سیاہ رنگ کی شیروانی اور جناح کیپ ضرور پہنتے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں