محترم مبارک احمد طاہر صاحب شہید

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 19مئی 2011ء میں مکرم شاہد کریم صاحب کے قلم سے محترم مبارک احمد طاہر صاحب کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے جو 28 مئی 2010ء کو دارالذکر لاہور میں شہید کردیئے گئے۔
مکرم شاہد کریم صاحب لکھتے ہیں کہ محترم مبارک احمد طاہر صاحب قریباً 25 سال میرے پڑوسی رہے۔ آپ عمر میں مجھ سے تقریباً اٹھارہ سال بڑے تھے اور آپ کا مجھ سے سلوک حقیقت میں ایک انتہائی شفیق، ہمدرد اور مہربان بھائی جیسا تھا۔ آپ ایک متقی، رحم دل، ہنس مکھ اور خوف خدا رکھنے والے انسان تھے۔ ان کا وجود شرافت اور اخلاق کا بہترین نمونہ تھا۔ غیراحمدی اہل محلہ بھی ان کی شرافت اور نرم رویّہ کی وجہ سے دل سے ان کے معترف تھے۔
شہید مرحوم آٹھ بہن بھائیوں میں سے دوسرے نمبر پر تھے جبکہ ان سے بڑی ایک بہن تھی۔ یہی وجہ ہے کہ میٹرک کے بعد ایک بینک میں ٹائپسٹ کی حیثیت سے انہیں ملازمت کا آغاز کرنا پڑا تاکہ بڑی فیملی کی معاشی ذمہ داریوں میں اپنے والد محترم کا ہاتھ بٹا سکیں۔ لیکن نامساعد حالات کے باوجود انہوں نے ملازمت کے دوران پہلے بی اے کیا پھر ایم اے کیا اور بینک کے مختلف کورسز بھی کئے۔ اپنی محنت، قابلیت، ایمانداری، پابندیٔ وقت، خدا کی راہ میں مالی قربانی اور والدین کی خدمت کی بدولت ترقی کرتے کرتے وہ وائس پریذیڈنٹ کے عہدہ تک جاپہنچے۔ بینک کے بہترین ملازم کا کیش پرائز بھی حاصل کیا۔ نیز سینئر پریذیڈنٹ کی پروموشن بھی ان کی Due تھی۔
آپ نے اپنے خاندان میں عملی طور پر بڑے بھائی کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے نہ صرف اپنی چھوٹی 5 بہنوں کی تعلیم حاصل کرنے میں بھرپور حوصلہ افزائی کی بلکہ تعلیمی اخراجات بھی خود برداشت کئے اور چھوٹی بہنوں کی شادیوں کے تمام اخراجات بھی بڑی خوشدلی سے ادا کئے۔ نیز اپنے بیوی بچوں کی ذمہ داریاں بھی احسن رنگ میں ادا کیں۔ آپ حضرت مولانا دوست محمد شاہد صاحب کے داماد تھے۔
شہید مرحوم کی والدہ محترمہ انتہائی متقی، پرہیزگار، شفیق اور تہجدگزار بزرگ خاتون ہیں۔ شہید مرحوم اپنی نرم مزاجی، ہمدردانہ رویہ، جماعت احمدیہ سے محبت، تقویٰ اور پرہیزگاری غرض ہر خوبی میں اپنی عظیم والدہ کی ہوبہو تصویر تھے۔ اپنی جماعتی ذمہ داریوں کو بہت محبت کے ساتھ اور احسن رنگ میں ادا کرتے تھے۔ گھر کا ایک حصہ مرکز نماز کے طور پر مخصوص کیا ہوا تھا۔ اپنے بچوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے تھے کہ وہ جماعتی کاموں میں فعال کردار ادا کریں۔ مقامی جماعت کے اکثر اجلاسات ان کے گھر پر ہی منعقد ہوتے تھے۔ وہ جماعت کے کارکنان اور مربی سلسلہ کا بے حد احترام کرتے تھے۔ سماجی بھلائی کے کاموں پر بھی دل کھول کر خرچ کرتے تھے اور موصی ہونے کی حیثیت سے بھی اپنے چندوں کی بروقت اور بھرپور ادائیگی کا ہردم خیال رکھتے تھے۔
جب مبارک صاحب نے موٹر سائیکل خریدا تو اپنا سائیکل بینک کے چوکیدار کو صرف دس روپیہ میں فروخت کردیا۔ جس پر ان کے بھائی نے (جسے سائیکل کی اشد ضرورت تھی) کہا کہ اس سے بہتر تھا کہ آپ سائیکل چوکیدار کو مفت دے دیتے۔ اس پر مبارک صاحب نے کہا کہ میں نے اسی وجہ سے 10 روپیہ میں فروخت کیا ہے کہ اُس کی عزت نفس متأثر نہ ہو۔ وہ یہ سمجھے کہ اس نے سائیکل خریدا ہے نہ کہ یہ سمجھے میں نے اس پر کوئی احسان کیا ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/4B7kq]

اپنا تبصرہ بھیجیں