محترم محمد نواز صاحب شہید

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 21؍اکتوبر 2022ء)
روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ 8؍اکتوبر2013ء میں مکرمہ ش۔عزیز صاحبہ نے ایک مضمون میں اپنے بہنوئی اور خالہ زاد بھائی مکرم محمد نواز صاحب کا ذکرخیر کیا ہے جنہیں 11؍ستمبر 2012ء کو ڈیوٹی پر جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے شہید کردیا۔ مرحوم محکمہ پولیس میں ملازم تھے اور تھانہ پیرآباد میں متعین تھے۔ اس علاقے میں اُس دَور میں یکے بعد دیگرے کئی احمدی شہید کیے گئے۔ شہیدمرحوم کو بھی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ بہت نڈر تھے۔ ایک بار رات کو جماعت میں سیکیورٹی ڈیوٹی دے رہے تھے کہ کسی نے آپ پر گولی چلادی جو آپ کی ٹانگ میں لگی۔ کافی خون ضائع ہوا۔ لیکن آپ حوصلہ مند رہے اور کپڑا باندھ کر خون روکا۔ خدا نے فضل کیا اور زخم جلدی ٹھیک ہوگیا۔ مسجد کے ساتھ ہی آپ کا گھر تھا اس لیے ہر کام میں پیش پیش رہتے۔ کسی مربی سلسلہ کو لانا ہوتا تو خود اپنی گاڑی میں لے کر آتے۔ حضورانور کا خطبہ باقاعدگی سے سنتے اور دوسروں کو بھی ساتھ بٹھالیتے۔ کہا کرتے تھے کہ خاندان میں حافظ قرآن اور شہید ضرور ہونا چاہیے۔ شہادت کو بہت بڑا رتبہ بتاتے تھے۔ آپ کے جنازے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شامل ہوئے۔ حضورانور نے ایک خطبہ جمعہ میں آپ کا ذکرخیر فرمایا اور نماز جنازہ غائب پڑھائی۔
شہید مرحوم نہ صرف ظاہری طور پر خوبصورت تھے بلکہ اس سے کہیں زیادہ خوب سیرت، نڈر، نیک دل اور انسانیت کا درد رکھنے والے تھے۔ ہر انسان کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے۔ خاندان میں، مقامی جماعت میں یا اپنے علاقے میں کسی کا کوئی مسئلہ ہو تو آپ جان جوکھوں میں ڈال کر اُس کی مدد کرتے۔ اپنے کام کا حرج کرکے دوسروں کی بچیوں کی شادی میں جہیز تیار کرنے اور دیگر انتظامات کرنے میں وقت صَرف کرتے۔ آپ کی شہادت کی اطلاع جب تھانے میں پہنچی تو وہاں موجود قیدی بھی رونے لگے۔
آپ اپنے خاندان کے بڑے بیٹے تھے۔ اپنے والدین کا بہت خیال رکھتے۔ والد کی وفات کے بعد اُن کا ذکر کرتے تو آنکھیں نم ہوجاتیں۔ اپنی والدہ کو اپنے پاس رکھتے اور اگر وہ پنجاب وغیرہ جاتیں تو روزانہ اُن کے ساتھ فون پر رابطہ کرتے۔ اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ یا سسرال میں ہر کسی کے ساتھ وہ ایسا سلوک کرتے کہ مجھے کبھی احساس نہیں ہوا کہ وہ میرے بہنوئی ہیں بلکہ مخلص بھائی کی طرح ہی لگتے۔ہر کوئی اپنا مسئلہ اُن کو بتاتا اور وہ کوئی نہ کوئی حل نکال لیتے۔ گاؤں سے کوئی لڑکا آتا تو اُس کو پیسے بھی دیتے اور ساتھ جاکر کام تلاش کرنے میں مدد کرتے۔درجنوں لڑکوں نے یہ اظہار کیا۔
ہمارا گھر شہید مرحوم کے گھر کے قریب ہی تھا۔ میری جڑواں بیٹیاں ہوئیں جو زیادہ تر بیمار رہتی تھیں تو آپ نے اُنہیں پالنے میں میری بہت مدد کی۔بارہا اپنی جیب سے اُن کا علاج کروایا۔ ایک شفیق باپ اور پیار کرنے والی ماں کی طرح ہمارا خیال رکھتے تھے۔ میری بہن کے ہاں پہلے تین بیٹیاں پیدا ہوئیں تو وہ کافی پریشان رہتی تھیں لیکن شہید مرحوم اُن کو حوصلہ دیتے اور بچیوں کا بہت خیال رکھتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اُن کو دو بیٹوں سے نوازا تو انہوں نے بچوں اور بچیوں میں کبھی فرق نہیں کیا۔ سب کو تعلیم دلوانے میں بہت دلچسپی لی۔ کئی دیگر غریب بچوں کے تعلیمی اخراجات میں بھی مدد کرتے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

ur اردو
X