محترم محمود احمد بشیر صاحب
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 25 مئی 2026ء)
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ یکم اپریل 2014ء میں مکرم مسعود احمد صاحب کے قلم سے اُن کے والد محترم محمود احمد بشیر صاحب کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
مکرم محمود احمد بشیر صاحب موضع جانیوال ضلع فیصل آباد میں 5؍دسمبر1924ء کو مکرم چودھری عبدالواحد صاحب مولوی فاضل (آف دھاریوال) کے ہاں پیدا ہوئے جو وہاں کے مڈل سکول میں ٹیچر تھے اور واجبی سی زرعی زمین بھی تھی۔ ابتدائی تعلیم دلاکر آپ کو قادیان کے مدرسہ احمدیہ میں داخل کروادیا گیا جہاں سے پرائمری پاس کرنے کے بعد آپ کو آپ کے بھائی اپنے ہمراہ لاہور لے آئے۔ آپ کے دونوں بڑے بھائی میٹرک کرکے لاہور میں ملازم تھے۔
ایف اے کرنے کے بعد آپ انڈین آرمی میں بھرتی ہوگئے۔ پھر اپنے والدین کی وفات کے بعد اپنے ماموں ڈاکٹر چودھری محمد صدیق صاحب کے ہمراہ اٹھوال ضلع گورداسپور چلے گئے جن کا وسیع کاروبار تھا۔ اپنی ملازمت کے ساتھ اُن کے کاروبار میں بھی ہاتھ بٹاتے رہے۔ پھر اُن کی بڑی بیٹی سے آپ کی شادی ہوگئی اور 1946ء میں خاکسار (مضمون نگار) کی پیدائش ہوئی۔ تقسیم ہند کے بعد ہمارا خاندان ضلع سیالکوٹ کے گاؤں جامکے چیمہ میں رہائش پذیر ہوگیا جہاں واجبی سی زمین بھی مل گئی۔ والد صاحب بطور سویلین اکاؤنٹنٹ پاکستان کی مختلف چھاؤنیوں میں 45؍سال نہایت دیانتداری اور دلیری سے ملازمت کرتے رہے۔
خاکسار نے سیالکوٹ سے میٹرک کرلیا تو مزید تعلیم کے لیے ہمارا گھرانہ مستقل رہائش کے لیے ربوہ آبسا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد والد صاحب بھی ربوہ آگئے اور مختلف دفاتر میں دس سال اعزازی خدمت کی توفیق پائی۔ میں نے گریجوایشن کے بعد 26سال تحریک جدید میں ملازمت کرکے پنشن پائی۔
میری شادی کی تو مجھ سے پوچھا کہ کیا ہم میاں بیوی کو آپ نے کبھی تکرار کرتے دیکھا ہے؟ میرا جواب نفی میں پاکر کہا کہ یہی طریقہ تم نے اپنانا ہے، تمہاری بیوی میری اکلوتی ہمشیرہ کی بیٹی ہے، اس کا بہت خیال رکھا کرو۔
آپ نماز فجر کے بعد تلاوت قرآن کریم کرتے اور پھر ذکرالٰہی میں مصروف رہتے۔ خلیفہ وقت کا ذکر زبان پر آتا تو آبدیدہ ہوجاتے۔ آپ دعاگو اور مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔ میرا بڑا بیٹا منڈی بہاؤالدین میں اور دونوں چھوٹے بیٹے لاہور میں ملازم تھے۔ ایک بار مَیں نے اُن دونوں کے لیے خاص دعا کی درخواست کی تو دو تین دن بعد بتایا کہ تمہارے دونوں چھوٹے بیٹوں کو جرمنی میں دیکھتا ہوں۔ پھر خداتعالیٰ نے غیب سے دونوں بیٹوں کے جرمنی پہنچنے کا انتظام فرمادیا۔ 1993ء میں ہماری والدہ محترمہ کی وفات ہوئی تو والد صاحب اپنے چھوٹے بیٹے کے پاس کینیڈا چلے گئے اور وہاں بھی اعزازی طور پر اکاؤنٹس کے شعبہ میں دس سال خدمات سرانجام دیں۔ اس دوران آپ کو حج بیت اللہ کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
آپ موصی تھے۔ ہمیشہ نمازباجماعت اور چندہ جات کی ادائیگی کے لیے بےحد فکرمند رہتے۔ 2007ء میں حصہ جائیداد کی مکمل ادائیگی کرکے بےحد خوش اور پُرسکون ہوگئے۔ بوقت وفات آپ کا اداشدہ چندہ فاضلہ تھا۔ آپ 18؍ستمبر2013ء کو وفات پاکر بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہوئے۔ آپ نے دو بیٹے اور تین بیٹیاں یادگار چھوڑے ہیں۔
