محترم مرزا سیف اللہ خان فاروق صاحب

سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کے دورِخلافت میں جن شعرائے احمدیت کو ممتاز مقام حاصل ہوا اُن میں محترم مرزا سیف اللہ خان فاروق صاحب بھی شامل ہیں۔ آپ ایک قادرالکلام شاعر تھے جن کی دلآویز نظمیں جماعت احمدیہ کے جرائد و رسائل کے علاوہ برصغیر کے مشہور اخبارورسائل میں بھی بکثرت شائع ہوئیں اور مقبول ہوئیں۔ آپ کے بلند پایہ اشعار کے چار مجموعے ’’درّشہوار‘‘، ’’رات اور شاعر‘‘، ’’کلام فاروقؔ‘‘ اور ’’مزمورعجم‘‘ آپ کی زندگی میں ہی منظر عام پر آگئے۔ آپ کے شعری مجموعہ ’’مزمورعجم‘‘ کے بارہ میں ایک مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27؍جون 2001ء میں محترم مولانا دوست محمد شاہد صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
’’مزمورعجم‘‘ جون 1933ء میں قادیان سے طبع ہوا۔ یہ مجموعہ نواب اکبر یار جنگ بہادر جج ہائی کورٹ حیدرآباد دکن کے نام سے معنون ہے۔ اس کا دیباچہ حضرت علامہ عبیداللہ بسملؓ نے لکھا جس کا ایک اقتباس ہے:
’’ان کے تخیّل کی بلند پروازی اور خیالات کی پاکیزگی فصاحت، بلاغت اور فارسی کی چست بندشیں … یہی وجہ ہے کہ آجکل ان کا کلام ہندوستان کے مشہور اخبارات اور ادبی رسالہ جات کے علاوہ بڑے بڑے سیاسی روزنامہ اخباروں میں بھی سرورق پر جلی قلم اور از قلم معجز رقم کے الفاظ کے ساتھ، بڑے شکریہ کے ساتھ شائع کیا جاتا ہے۔‘‘
’’مزمور عجم‘‘ سے بطور نمونہ کلام نعت النبیﷺ ملاحظہ فرمائیں:

اے سفیر ذوالمنن اے جانِ جانِ زندگی
اے کہ تیری ذات پہ نازاں ہے حق کی ذات بھی
اے کہ تیری ذات میں پنہاں خدا کی ذات ہے
اے کہ تیری بات بھی گویا خدا کی بات ہے
اے کہ تیرے نور نے ذرّوں کو سینا کردیا
قطرۂ شبنم کو تُو نے بحر بے پایاں کیا

محترم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کی امتحان میں کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہتے ہیں:

دی صدا فاروق نے تجھ کو مبارک باد کی
گود میں ہے آج تیری کامیابی کھیلتی
پردۂ امروز میں مضمر نشان برتری
دو جہاں میں سرخرو ہو اے مظفر ہر گھڑی
تُو جہان رنگ و بو میں ہر طرح سے شاد ہو
ارتقاء میں گامزن مانند برق و باد ہو

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں