محترم ملک محمد رفیق صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 11؍جولائی 2007ء میں مکرم چودھری شبیر احمد صاحب وکیل المال اوّل نے مکرم ملک محمد رفیق صاحب کا ذکرخیر کیا ہے۔
مضمون بیان کرتے ہیں کہ مجھے کئی ادوار میں محترم ملک محمد رفیق صاحب کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اُن کا اخلاقی پہلو ہمیشہ نمایاں رہا۔ 1948ء میں فرقان فورس میں ہم اکٹھے رہے۔ محترم ملک صاحب اپنی قابلیت اور اخلاص کی بناء پر محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے دست راست تھے جو ہمارے نگرانِ اعلیٰ تھے۔ ایک واقعہ نے مجھے بہت متأثر کیا جب سارے کیمپ کا معائنہ کرتے وقت آپ نے کمبلوں کی کمی محسوس کی۔ آپ نے کسی پر چوری کا الزام لگائے بغیر حکم دیا کہ ہر مجاہد اپنے خیمہ سے سارے کمبل ایک مرکزی مقام پر لاکر جمع کروائے۔ اس کے بعد جب کمبل تقسیم کئے گئے تو کوئی کمی نہ رہی۔
ربوہ میں بحیثیت صدر محلہ لمبا عرصہ خدمت کی توفیق پائی۔ مخالف رائے رکھنے والوں کا بھی احترام کیا کرتے تھے۔ معتمد علیہ ہونے کی بناء پر خلفائے کرام بعض اہم امور بھی آپ کے سپرد فرمایا کرتے تھے۔
ذیلی تنظیموں میں بھی ہم دونوں ہم عصر رہے۔ آپ کے سپرد مال کا شعبہ تھا۔ ایک بار مرکز کی طرف سے ہم دونوں سیالکوٹ کے ایک گاؤں میں بھجوائے گئے۔ بس کے انتظار میں جب ہم بیٹھے ہوئے تھے تو مَیں نے محسوس کیا کہ آپ ایک پاؤں میں تکلیف کی وجہ سے پریشان ہیں۔ مجھے خیال آیا کہ ایسی تکلیف میں تو آپ کو یہ سفر اختیار نہیں کرنا چاہئے تھا لیکن خدمت دین کی لگن تھی کہ آپ کبھی انکار نہیں کیا کرتے تھے۔ ایک اور موقع پر آپ کو سفر کا حکم ملا تو آپ نے ایک منذر خواب دیکھا۔ اس پر آپ نے بکرا صدقہ دیا اور دعا کرتے ہوئے جماعتی سفر کو ترجیح دی۔ اِس خواب کی تعبیر یوں ظاہر ہوئی کہ اگلے روز آپ کا ایک بچہ جو ریلوے لائن پر کھیل رہا تھا لیکن آتی ہوئی گاڑی کو نہ دیکھ سکا چنانچہ گاڑی قریب آئی تو لوگوں کے شور مچانے پر کہ لیٹ جاؤ، وہ نیچے لیٹ گیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 31؍جنوری 2008ء میں مکرم محمد افضل متین صاحب نے مکرم ملک محمد رفیق صاحب کا ذکرخیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مجھے تین سال تک مرحوم کے محلہ کی مسجد سے ملحق کمرہ میں رہنے کا موقع ملا۔ آپ روزانہ بہشتی مقبرہ جاکر گھنٹوں رو رو کر دعائیں کرنے کے عادی تھے۔ بہت غریب پرور تھے۔ اپنے گھر میں چھ سات کوارٹر بنارکھے تھے جو ادنیٰ کرایہ پر غرباء کو دیتے۔ یہ ادنیٰ کرایہ بھی شاید اس لئے تھا کہ غریب کی خودداری کو ٹھیس نہ پہنچے۔ لمبا عرصہ صدر محلہ رہے۔ ایک شام مَیں نے آپ کو بتایا کہ مجھے اگلی صبح چار بجے سکول کے ٹرپ پر لاہور جانا ہے۔ تو اگلی صبح خود ہی آگئے اور کہا کہ آؤ آپ کو سائیکل پر سکول تک چھوڑ آؤں۔ پھر کچھ پیسے دیئے کہ یہ جیب خرچ رکھ لو۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/gO8pl]

اپنا تبصرہ بھیجیں