محترم مولانا بشیر احمد قمر صا حب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17؍جولائی 2009ء میں محترم مولانا بشیر احمد صاحب قمر کا ذکرخیر کرتے ہوئے مکرم محمد اکرم عمر صاحب مبلغ سلسلہ و کارکن دفتر نظارت تعلیم القرآن اپنے ذاتی مشاہدات کی روشنی میں بیان کرتے ہیں کہ محترم مولوی صاحب دفتر میں آتے ہی کام شروع کر دیتے۔ ڈاک چیک کرتے تو ہر خط کو بغور پڑھتے اور اس کے اوپر تبصرہ یا جواب بھی لکھتے جاتے۔اس تیزی کے ساتھ خطوط پڑھتے اور جواب دیتے کہ انتہائی حیرت ہوتی ۔بعض جواب اس قدر لمبے لمبے تحریر فرماتے کہ تعجب ہوتا کہ اتنا جلدی کیسے لکھ لیتے ہیں۔ ہر رپورٹ اور ہر ایک خط کا جواب دینا پسند کرتے۔ بہت ساری ڈاک چند گھنٹوں میں چیک کرکے جوابات اور تبصروں کے ساتھ دفتر والوں کے سپرد کر دیتے اور خود حوالہ جات کی چھان بین اور مزید کتب کی تیاری میں لگ جاتے اور چھٹی تک مسلسل تحریر کے کام میں منہمک رہتے۔اس دوران زائرین اور ملنے والوں کو بھی وقت دیتے اور مختصر جامع الفاظ کے ساتھ نصائح فرماتے۔
آپ اپنے کام سے پوری دیانتداری برتتے۔ دفتری اوقات میں مفوضہ جماعتی کام کرنے کو ترجیح دیتے۔ کارکنان سے بھی یہی توقع رکھتے کہ ہر کارکن دفتر میں رہے اور متعلقہ شعبہ کا ہی کام کرے اور دوسرے شعبوں کا کام دفتری اوقات میں نہ کرے۔
آپ بر وقت کا م کرنے کے عادی تھے کسی جگہ تاخیر سے پہنچنے کو پسند نہ فرماتے۔ دفتر میں بھی وقت پر پہنچنے کی سعی فرماتے اور وقت کی پابندی کرنے والے کارکنان سے خوش ہوتے۔ نظام سلسلہ کی طرف سے آنے والی ہدایات پر خود بھی عمل کرتے اور عملہ سے بھی پابندی کرواتے تھے۔ خصوصاً ٹوپی پہننے کی ہدایت پر اس قدر زور دیتے کہ اپنے ایک دو کارکنوں کو ٹوپی خرید کر دی۔ اسی طرح داڑھی رکھنے کی بھی خصوصی تاکید کرتے۔ طبیعت میں مزاح اور شگفتگی تھی۔ دفتر میں شگفتہ باتوں سے عملہ کا دل بہلائے رکھتے اور انہیں ذمہ داریوں کی طرف احسن رنگ میں متوجہ بھی کر دیتے۔
آپ نے کئی کتب مرتب کیں۔ حقیقۃالصلوٰۃ، توبہ و استغفار کی حقیقت، حقیقتہ الدعا، محاسن قرآن کریم، پُرحکمت نصائح، مشکل الفاظ کے معنی (اردو و انگریزی)، انتخاب منظوم کلام، اسماء المہدی، تلاوت قرآن کریم کے آداب وغیرہ۔ ملنے کے لئے آنے والوں کو زیادہ تر اپنی کتب کا تحفہ ہی دیا کرتے تھے۔
آپ ایک نہایت دعا گو عبادت گزار بزرگ تھے۔ نمازیں مسجد میں ادا کرنے کو ترجیح دیتے۔ دفتر سے روانہ ہونے سے قبل نماز ظہر کی سنتیں دفتر ہی میں خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے۔ جو لوگ انہیں دعاؤں کے خط لکھتے یا دعا کا کہتے تو ہر ایک کو یہ تلقین فرماتے کہ خلیفۂ وقت سے تعلق پیدا کریں اور حضور کو دعا کا خط ضرور لکھیں اور خود بھی دعا کرتے۔
آپ تکلیف کا اظہار نہیں کرتے تھے ۔بیماری کے دنوں میں بھی بڑے صبر سے تکلیف برداشت کی۔
شلوار قمیص زیب تن کرتے ۔دفتر آتے ہوئے یا جمعہ اور تقریبات پر جاتے ہوئے پگڑی اور اچکن بھی استعمال کرتے ۔ کسی قسم کا تکبر اور ریا نہیں تھا۔ سادگی اور انکسار ی آپ کے وجود سے نمایاں جھلکتی تھی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/BcaRe]

اپنا تبصرہ بھیجیں