محترم مولوی محمد عمر علی صاحب درویش

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان (درویش نمبر 2011ء) میں محترم مولوی عمر علی صاحب کے مختصر خودنوشت حالاتِ زندگی شامل اشاعت ہیں جو انہوں نے 2003ء میں ایڈیٹر ’’مشکوٰۃ‘‘ کو لکھ کر بھجوائے تھے۔
محترم محمد عمر علی صاحب ابن مکرم بشیرالدین مرحوم کھاٹوا (براہمن بڑیہ۔ بنگلہ دیش) میں 1931ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے گاؤں میں احمدیت کا پیغام مکرم مولانا عبدالواحد صاحب کے ذریعہ پہنچا تو آپ کی نانی صاحبہ اور والدہ محترمہ نے سب سے پہلے بیعت کی اور کچھ عرصہ بعد آپ کے والد صاحب اور بھائیوں نے بھی بیعت کرلی۔ آپ کے والد صاحب نے گاؤں کی احمدیہ مسجد کے لئے ایک مکان بھی دیا۔ 1945ء میں آپ کے علاقہ سے حصول تعلیم کی غرض سے چار طلباء قادیان آئے جن میں آپ بھی شامل تھے۔ تقسیم ہند کے بعد دورِ درویشی میں آپ کو مدرسہ احمدیہ میں مدرس کے فرائض سرانجام دینے کی توفیق ملی۔ مسجد مبارک اور مسجد اقصیٰ میں درس کی سعادت بھی حاصل ہوتی رہی ۔ آپ کو فقہ پر کافی عبور تھا۔ آپ کے مضامین اخبار بدر کی زینت بنتے رہے ہیں ۔ آخری عمر میں عالم کی حیثیت سے صدر انجمن احمدیہ کے ممبر بھی رہے۔
آپ کی ایک نمایاں خصوصیت طلباء سے شفقت و محبت تھی۔ امتحان کا پرچہ ڈالنا ہو یا چیک کرنا ہو، ہمیشہ نرمی کا پہلو اختیار کرتے۔ آپ سادہ مزاج اور نمازوں کے بہت پابند تھے۔ آپ کی وفات 26 دسمبر 2007ء کو ہوئی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/NxF7k]

اپنا تبصرہ بھیجیں