محترم میاں محمد صدیق صاحب بانی

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10 جون 2010ء میں مکرم شریف احمد بانی صاحب نے اپنے والد محترم میاں محمد صدیق صاحب بانی کی سیرت پر روشنی ڈالی ہے۔ قبل ازیں آپ کا ذکر خیر 13 اکتوبر 1995ء، 2 فروری 1996ء، 4 اپریل 2003ء اور 3ستمبر 2010ء کے شماروں میں اسی کالم کی زینت بن چکا ہے۔ اس لئے عموماً ذیل میں وہی امور بیان کئے جارہے ہیں جو مذکورہ مضامین سے اضافی ہیں۔
محترم میاں محمد صدیق بانی صاحب چنیوٹ کی مشہور شیخ برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ خود فرماتے ہیں کہ اُن ایام میں ہماری برادری کے اکثر افراد غریب اور مفلوک الحال تھے۔ مگر چند خاندان کلکتہ میں چمڑے کی تجارت کرتے تھے اور خوشحال تھے۔ میرے والد صاحب نے کلکتہ جا کر کچھ عرصہ ملازمت کی اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنا کاروبار شروع کیا جس میں بہت برکت پڑی۔ تو آپ نے اپنے چھوٹے بھائی حاجی میاں تاج محمود صاحب کو بھی چنیوٹ سے بلا کر کاروبار میں شریک کر لیا۔ یہ دونوں بھائی اہلحدیث تھے اور بہت دیندار تھے۔ کاروبار میں اتنی ترقی ہوئی کہ آپ نے اپنے والدین کو ہمراہ لیا اور حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔ دو تین سال بعد چھوٹے بھائی (میرے چچا) نے بھی حج کرلیا۔ چچا حاجی تاج محمود صاحب بہت متقی انسان تھے اور قرآن مجید کی تلاوت آپ کی غذا تھی۔ 1902ء میں ان کی توجہ احمدیت کی طرف ہوئی تو تحقیق کے بعد انہوں نے تحریری بیعت کرلی۔ اس پر والد صاحب نے بھی تحقیق شروع کی لیکن عمر نے وفا نہ کی اور وہ 1910ء میں وفات پاگئے۔
حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب کشمیری نے (جن کے نیک نمونہ سے کٹک، اڑیسہ میں ہزاروں افراد احمدیت میں شامل ہوچکے تھے) 1918ء میں کلکتہ تشریف لاکر درس قرآن مجید کا سلسلہ شروع کیا۔ چچا حاجی میاں تاج محمود صاحب باقاعدگی سے درس میں شامل ہوتے تھے۔ مَیں اُس وقت تک احمدی نہیں تھا لیکن آپؓ کے ہمراہ جاتا۔ ایک دن وہ آیت آئی جس میں حضرت رسول کریمؐ کو ارشاد ہوا ہے کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو نصیحت کرو اور یہ ارشاد ربانی آنحضورؐ کی اتباع میں سب کے لئے ہے۔ اس پر چچا نے مجھے فرمایا کہ تمہیں احمدیت کے موافق اور مخالف دلائل سنتے ہوئے عرصہ ہو گیا ہے، اب کس نتیجہ پر پہنچے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ صداقتِ احمدیت تو بالکل واضح ہے۔ فرمایا کہ نیک کام میں دیر نہیں کرنی چاہئے، بیعت کا خط فوراً لکھ دو۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
میرے قبولِ احمدیت کی خبر برادری میں پھیلی تو میرے ایک ماموں نے مجھے اپنے گھر بلا کر پہلے تو سخت سست کہا اور پھر دو چار تھپڑ رسید کئے۔ اگر ممانی جان درمیان میں نہ آ جاتیں تو میری مزید پٹائی ہوتی۔ دوسری صبح میرے چاروں ماموں غصہ میں دکان پر آئے اور چچا کو کہا کہ تم خود تو گمراہ ہوئے ہی تھے ہمارے اس بھانجے کا بیڑہ کیوں غرق کیا ہے۔ پھر ایک مخالف مولوی کے پاس جانے کا کہا۔ ہم دو دو نفل پڑھ کر گئے مگر خدا کے فضل سے مولوی لاجواب ہوگیا۔
احمدی ہونے کے چند ماہ بعد میں چنیوٹ لَوٹا۔ رات دیر گئے گھر پہنچا مگر والدہ صاحبہ نے دروازہ کھولنے سے انکار کر دیا۔ وہ رات مَیں نے باہر گزاردی۔ صبح دروازہ کھلنے پر اندر گیا تو والدہ صاحبہ نے بات چیت سے انکار کر دیا اور سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔
1918ء کا جلسہ سالانہ مارچ 1919ء میں منعقد ہوا تو مَیں نے قادیان حاضر ہوکر حضرت مصلح موعودؓ کے دست مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔ پھر میری عملی حالت میں مثبت تبدیلی کو محسوس کرتے ہوئے والدہ صاحبہ نے پہلے مخالفت کم کردی اور پھر کچھ عرصہ بعد میرے چھوٹے بھائی کے ہمراہ قادیان آکر کچھ عرصہ دارالمسیح میں بطور مہمان قیام کیا۔ حضرت اماں جانؓ اور خاندان کے رہن سہن کو قریب سے دیکھا اور مکمل اطمینان حاصل کرکے بیعت کرلی۔
مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ میرے والد محترم محمد صدیق بانی صاحب کو حضرت مسیح موعودؑ، خلفائے کرام اور خاندان مسیح موعودؑ سے عشق کی حد تک محبت تھی۔ محترم مولوی بشیر احمدصاحب سابق امیر کلکتہ لکھتے ہیں کہ جن احباب نے اطاعت امیر کا بہترین نمونہ دکھایا ان میں آپ کا نام سرفہرست تھا۔ جو شخص مقامی امیر کی اطاعت میں سرفہرست ہو، ظاہر ہے کہ اس میں اطاعتِ خلافت کا جذبہ کس قدر ہو گا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ آپؑ کو ایسے خدام عطا فرمائے گا جو سلسلہ کی خدمت پر کمر بستہ رہیں گے۔ محترم بانی صاحب بھی اس پیشگوئی کے پورا ہونے کی ایک روشن مثال تھے۔ آپ کسی خارجی تحریک کے بغیر اپنے دل کی آواز پر سکیمیں بنا کر مرکز کی خدمت میں بھجواتے اور بے دریغ اپنے اموال خرچ کرتے۔ خلیفۂ وقت کی طرف سے تحریک جدید اور وقف جدید کے نئے سال کے اعلان کے ہمیشہ منتظر رہتے تھے اور اطلاع ملتے ہی بذریعہ تار اپنا وعدہ بھجواتے اور جلد ہی ادائیگی بھی کردیتے۔
آپ خود نہایت سادہ زندگی گزارتے تھے۔ آپ کے لباس اور رہن سہن کو دیکھ کر کوئی شخص اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنی فراخی عطا فرمائی ہے لیکن غربا کی خدمت کو فریضہ سمجھتے تھے۔ بے شمار غربا کے وظائف آپ نے مقرر کر رکھے تھے۔ ماہانہ وظائف کے علاوہ ان تمام لوگوں کو رمضان المبارک میں مقامی رواج کے مطابق ملبوسات اور بچوں کے لئے تحائف بھجواتے اور اس کارِخیر میں اتنی استقامت اور باقاعدگی تھی کہ کبھی تاخیر نہ ہوتی۔
1940ء میں آپ چنیوٹ سے ہجرت کرکے قادیان آ گئے اور محلہ دارالبرکات میں اپنا گھر خرید لیا۔ دوست احباب نے مٹھائی تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی۔ آپ نے مٹھائی پر خرچ کا اندازہ لگواکر فرمایا: کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ یہ مٹھائی ہمیں اللہ تعالیٰ جنت میں عطا فرمائے اور پھر وہ رقم دارالبرکات کی مسجد میں پنکھے لگوانے پر صَرف کردی۔ اسی طرح ایک ا ور خوشی کے موقعہ پر دارالفضل کی مسجد میں پنکھے لگوائے۔ دارالشیوخ کے یتیم اور مدرسہ احمدیہ کے غریب بچوں کے لئے سویٹروں، جرابوں اور گرم ملبوسات کا انتظام کرتے۔
1964ء میں کلکتہ کے سولہ احمدیوں نے حج کا ارادہ کیا۔ ان افراد میں آپ اور آپ کی اہلیہ بھی شامل تھے۔ یہ لوگ اپنی سفری دستاویزات مکمل کروانے کے بعد کلکتہ سے بذریعہ ہوائی جہاز بمبئی پہنچے لیکن بعض لوگوں کی شرارت کی وجہ سے سعودی کونسل نے ویزا دینے سے انکار کردیا۔ اس پر آپ نے تمام رقم جو حج کے لئے خرچ ہونی تھی راہ خدا میں دیدی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس قربانی کو قبول کیا اور آٹھ سال بعد آپ دونوں (میاں بیوی) کو حج کی سعادت عطا کی۔
فضل عمر ہسپتال ربوہ کی بنیاد رکھی گئی تو آپ نے تین کمروں کی تعمیر کا پورا خرچ ادا کیا اور ایک ایمبولینس خرید کر ہسپتال کے لئے دی۔
مکرم سید نور عالم صاحب سابق امیر جماعت کلکتہ محترم بانی صاحب کے بارہ میں لکھتے ہیں کہ خدمت خلق کے جذبہ نے آپ کو اتنے بلند مقام پر پہنچا دیا تھا جہاں ہر ایک کی رسائی مشکل ہے۔ آپ صرف راہنمائی نہیں بلکہ رہبری کرتے تھے۔ مثلاً اڑیسہ کے ایک غریب لڑکے نے آپ کو لکھا کہ اُس کی ایک ٹانگ کسی حادثہ کی وجہ سے ڈاکٹروں نے کاٹ دی ہے اور وہ ایک معطل زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ آپ نے اس کو کلکتہ بلواکر خود ڈاکٹروں کو دکھایا او ر بعد مشورہ آرڈر دے کر مصنوعی ٹانگ بنوائی۔ دورانِ قیام اس لڑکے کے تمام مصارف کے متکفل رہے۔ بالآخر نئی ٹانگ کے ساتھ اسے سٹیشن پر پہنچایا۔ ہاتھ میں ٹکٹ دے کر ٹرین میں بٹھایا اور خدا حافظ کہہ کر گھر آئے۔
مکرم سید نور عالم صاحب نے ایک بار آپ سے پوچھا کہ آپ نے اپنے بیٹے کی شادی قادیان جاکر کیوں کی حالانکہ کلکتہ میں تمام انتظامات آسانی سے مہیا ہو سکتے تھے۔ فرمایا کلکتہ میں بڑے لو گ اس طرح کے کھانے ہمیشہ کھاتے ہیں مگر در ویش بھائیوں کو اس قسم کی تقریبات میں شمولیت کا کہاں موقعہ ملتا ہے۔
مہمان نوازی کا وصف آپ میں نمایاں تھا۔ مولوی بشیر احمد صاحب نے لکھا کہ کلکتہ میں احمدیہ مسجد کی تعمیر سے قبل ہر مہمان کے قیام و طعام کا انتظام محترم بانی صاحب ہی کرتے تھے۔ 1963ء میں پاکستان سے حافظ عزیز احمد صاحب کو نماز تراویح پڑھانے کے لئے منگوایا تو اُن دنوں اچانک کلکتہ میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوگئے۔ ٹیکسی لے کر بڑی مشکل سے مَیں اور حافظ صاحب حضرت سیٹھ صاحب کے مکان پر پہنچے۔ آپ نے ہمارے قیام اور نماز تراویح کا انتظام گھر پر کیا۔ ایک ماہ ہم دونوں کی مہمان نوازی کے علاوہ اپنے خرچ پر آپ نے حافظ صاحب کو بذریعہ ہوائی جہاز کلکتہ سے واپس کراچی بھجوانے کا بھی اہتمام کیا۔
جلسہ سالانہ قادیان کے لئے کلکتہ سے آنے والے مہمانوں کو اپنے گھر میں ٹھہراتے۔ اور مہمانوں کی خاطر جلسہ کے دنوں میں اپنے طور پر ایک باورچی کا بندوبست کرتے جو مہمانوں کی پسند کے موافق کھانے تیار کرتا۔ آپ کا گھر ریلوے سٹیشن کے قریب تھا اور رات کی ٹرین سے آنے والے مسافر گھر کے سامنے سے گزرتے تھے۔ آپ نے گھر کے باہر تیز روشنی والے بلب لگوائے اور گھر والوں کو تاکیدی ہدایت دی کہ ٹرین آنے کے اوقات میں یہ بلب روشن رکھے جائیں۔
آپ کی عادات حسنہ میں سے ایک یہ بھی تھی کہ اگر کسی فرد کی امداد کرنا مقصود ہوتی تو متعلقہ دفتر کو اُس فرد کے بعض اوصاف تحریر کرکے لکھتے کہ اس لئے اُن کو میری رقم میں سے اس قدر رقم دے دی جائے۔ یہ آپ کی تواضع اور فروتنی کا ایک خوبصورت رنگ تھا نیز اس بھائی کو احساس کمتری سے بچانے کا احسن طریق بھی۔
آپ اڑیسہ اور بہار کے چالیس پچاس مستحق افراد کو باقاعدگی کے ساتھ ماہانہ وظیفہ دیا کرتے تھے جن میں اکثریت بیوگان و یتامیٰ کی ہوتی تھی۔ مرکزی افسران جب دورے پر کلکتہ تشریف لاتے تو آپ ان کو ایسے افراد کی فہرست دے کر یہ جائزہ لینے کی درخواست کرتے کہ اس فہرست میں کسی ردّوبدل کی ضرورت تو نہیں۔ یہ بھی تاکید فرماتے کہ ایسا نہ ہو کہ کوئی مستحق محروم ہو جائے اور غیر مستحق کو وظیفہ ملتا رہے۔ لفظ ’مستحق‘ کے معروف معنی سے آپ بخوبی آگاہ تھے۔ چنانچہ اگر کسی احمدی کی امداد کا معاملہ سامنے آتا تو آپ کے نزدیک مستحق وہ ہوتا جو نظام سلسلہ سے اخلاص کا تعلق رکھتا ہو، صوم و صلوٰۃ کا پابند ہو اور اپنے اچھے دنوں میںحتی المقدور مرکزی چندے ادا کرتا رہا ہو۔ کسی باہر کی جماعت کا کوئی احمدی آپ سے امداد طلب کرتا تو آپ اس کو مرکز سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتے اور یقین دلاتے کہ مرکز نے اگر سفارش کر دی تو وہ ضرور امداد کریں گے اور اگر مقامی جماعت کا کوئی فرد آپ سے امداد کا طلبگار ہوتا تو آپ فرماتے کہ امیر جماعت سے چٹھی لے کر آئیں۔ اس قسم کی پابندی اس لئے تھی کہ جماعت کے اندر دست سوال دراز کرنے کا طریق رواج نہ پائے نیز غیر ذمہ دارانہ طور پر امداد کرنے سے جماعتی تنظیم کو صدمہ نہ پہنچے۔
برطانیہ کے ولی عہد شہزادہ ویلز دسمبر 1921ء میں ہندوستان آئے تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے ’’تحفہ شہزادہ ویلز‘‘ کے نام سے ایک کتاب تصنیف فرمائی۔ حضورؓ کی تجویز کے مطابق 32208 احمدیوں نے ایک آنہ فی کس جمع کرکے اس کتاب کی اشاعت کا انتظام کیا او رجماعت احمدیہ کے ایک وفد نے لاہور میں 27فروری 1922ء کو پرنس کی خدمت میں یہ کتاب پیش کی۔ شہزادہ نے تحفہ قبول کرتے ہوئے اپنے چیف سیکرٹری کے ذریعہ اس کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر چالیس معزز افراد احمدیہ وفد میں شامل تھے جن میں محترم بانی صاحب کا نام بھی شامل تھا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے مارچ 1944ء سے نماز مغرب کے بعد مسجد مبارک قادیان میں مجلس علم و عرفان کا آغاز فرمایا۔ یہ مجلس دینی حقائق اور قرآنی معارف کی ایک بے مثال درسگاہ بن گئی جس میں احباب اس کثرت سے شامل ہوتے کہ لائوڈسپیکر کی ضرورت شدّت سے محسوس ہوتی۔ یہ اہم ضرورت محترم بانی صاحب نے پوری کردی اور 16 جون 1946ء سے لائوڈ سپیکر کا انتظام ہو گیا ۔ جس پر حضور نے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے دعا کروائی۔
مولوی شریف احمد امینی صاحب مربی کلکتہ بیان کرتے ہیں کہ محترم بانی صاحب کا معمول تھا کہ روزانہ شام کو دکان بند کرکے اپنے بیٹوں کے ہمراہ سیدھے مسجد میں آتے اور نماز عشاء باجماعت ادا کرکے گھر جاتے۔ ہر اتوار کو درس القرآن اور دیگر جماعتی تقریبات میں افراد خاندان سمیت شریک ہوتے۔ مسجد کی ضروریات کو بھی خندہ پیشانی سے پورا کرتے۔ آپ نے ایک دفعہ یہ ذکر کیا کہ مَیں نے اپنی زندگی کا نصب العین یہ قرار دے لیا ہے کہ مَیں حتی الوسع اپنے درویش بھائیوں کا جو قادیان میں مقیم ہیں، ہر طرح سے خیال رکھوں گا۔
مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ 1974ء میں جب سینکڑوں احمدیوں نے ربوہ میں پناہ لی تو اُن مہاجرین کی خدمت کی محترم والد صاحب کو بہت توفیق ملی اور ہزار ہا روپیہ سے مدد کی حالانکہ ان دنوں آپ شدید بیمار تھے اور اسی بیماری میںہی آپ کی وفات ہوئی۔ لیکن بستر مرگ پر بھی آپ کو مہاجرین کا خیال تھا اور خاکسار کو امدادی رقوم بھجوانے کے بارہ میں تاکید فرماتے تھے۔ آپ کی وفات کے بعد بھی حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحبؒ نے ہماری والدہ صاحبہ کو خط لکھا کہ ’’ہمارے بعض مہاجر بھائی انتہائی تکلیف میں ہیں۔ نقصان کا حلقہ اس قدر وسیع تھا اور شدّت اتنی تھی کہ جماعت کے لئے یہ ناممکن تھا کہ نقصان کا دسواں حصہ تو درکنار پچاسواں حصہ بھی پورا کرسکے۔ ان کے حالات کو دیکھ کر سخت روحانی اذیت ہوتی ہے۔ مکرم و محترم سیٹھ صاحب مرحوم چونکہ ہمیشہ خدمت خلق کے لئے وقف رہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ ان کے نیک کاموں کو جاری رکھنے کے لئے آپ کی خدمت میں حسب ذیل تجویز پیش کرنی چاہتا ہوں۔ بے گھر اور بے سامان لٹے پٹے مہاجرین کی امداد کے سلسلہ میں آپ جتنی رقم شرح صدر کے ساتھ خرچ کر سکتی ہیں۔ خاکسار کو مطلع فرمائیں۔ امید ہے میری اس تجویز پر ہمدردانہ غور فرمائیں گی۔ اللہ تعالیٰ دین و دنیا میں اس کی جزا عطا فرمائے اور بہت بڑھ چڑھ کر خدمت دین اور خدمت بنی نوع انسان کی توفیق بخشے۔ آمین‘‘۔
چنانچہ خدا تعالیٰ نے والدہ صاحبہ کو بھی اس حوالہ سے نمایاں رقم پیش کرنے کی توفیق دی۔
محترم والد صاحب کی مرض الموت میں ایک عام آدمی یہ اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ آپ سخت تکلیف میں ہیں۔ آپ نے بڑے صبر کے ساتھ اپنے مرض کی تکلیف کو برداشت کیا اور اس حالت میں بھی اپنے شناسا غیر ازجماعت احباب کو تبلیغی خطوط لکھوائے۔
مکرم چوہدری انور ا حمد کاہلوں صاحب لکھتے ہیں کہ میں جب کلکتہ میں امیر تھا تو سیٹھ صدیق بانی صاحب اور ان کے بھائی محمد یوسف بانی صاحب نے احمدیہ مسجد کی تعمیر کی تجویز پیش کی اور دونوں بھائیوں نے پچیس ہزار روپے کی خطیر رقم ادا کرنے کا وعدہ کیا۔ یہ اتنی بڑی رقم تھی جو میری تین سال کی تنخواہ سے بھی زیادہ تھی۔ دیگر احمدیوں نے بھی دل کھول کر چندہ دیا۔ جس سے مسجد کے لئے زمین خرید لی گئی۔
محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے محترم بانی صاحب کے بارہ میں تحریر فرمایا کہ تقسیم ملک کے بعد آپ کے دل میں یہ جذبہ موجزن ہوا کہ مرکز میں قیام کرکے اس کی خدمت کرنا ہر ایک احمدی پر فرض ہے۔ اگر ہم ذاتی طور پر ایسا نہیں کر سکے تو ہم پر لازم ہے کہ درویشان کو اپنا نمائندہ سمجھ کر ان کی ضروریات کا خیال رکھیں۔ اسی جذبہ کے تحت آپ اپنی اہلیہ محترمہ کے ساتھ قادیان آئے اور ہر گھر میں جاکر ذاتی طور پر جائزہ لینے کے بعد اپنی طرف سے چار ماہ کی گندم دینے کی پیشکش تین سال کے لئے کی اور یہ سلسلہ پھر جاری رہا۔ اسی طرح کلکتہ اور مدراس کی مساجد کے لئے گراں قدر عطایا۔ ترجمۃالقرآن ہندی اور تعمیر لنگرخانہ قادیان کے جملہ اخراجات، نصرت گرلز سکول قادیان کی چھوٹی بچیوں کو یونیفارم اور نوجوان بچیوں کو برقعے مہیا کرنا۔ مدرسہ احمدیہ کے طلبا کے لئے اعلیٰ وظائف، قادیان کی مساجد میں بجلی کے پنکھے لگوانا، لڑکوں اور لڑکیوں کے سکولوں میں پنکھے لگوانا اور پورا فرنیچر مہیا کرنا۔ مریضوں کے علاج کے علاوہ غرباء ناداروں اور بیوگان کی امداد کرنا۔ گرم پارچات اور کمبل دینا۔ پھر مسجد اقصیٰ ربوہ کی تعمیر کے کُل اخراجات حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی اجازت سے آپ نے بانشراح صدر ادا کئے۔ منارۃ المسیح کی سفیدی کے لئے ایک خطیر رقم مرکز میںجمع کروا دی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی طرف سے آپ کو صدر انجمن احمدیہ قادیان کی رکنیت کا شرف عطا ہوا جو آپ کی وفات تک قائم رہا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/1kvkV]

اپنا تبصرہ بھیجیں