محترم چودھری عبدالمجید طالب صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 3؍نومبر 2000ء میں مکرم شیخ طاہر احمد نصیر صاحب محترم چودھری عبدالمجید طالب صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ 1914ء میں جالندھر سے تین میل دُور واقع گاؤں وڈالہ میں پیدا ہوئے۔ 1929ء میں میٹرک کیا۔ اس دوران آپ کے بڑے بھائی محترم عبدالحمید صاحب نے احمدیت قبول کرلی تھی اور وہ گھر میں حضرت مسیح موعودؑ کی کتب لایا کرتے تھے۔ چونکہ آپ کو مطالعہ کا شوق تھا اس لئے آپ اُن کتب کو پڑھتے اور آخر 1930ء میں قادیان جاکر حضرت مصلح موعودؓ کے ہاتھ پر بیعت کی سعادت پالی۔ 1934ء میں پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی میں بی۔اے آنرز کرلیا۔ اسی دوران آپ کے علاقہ میں احمدیت کی مخالفت اس قدر بڑھ گئی کہ الفضل میں اس کی مکمل رپورٹ شائع ہوئی جس میں احمدیوں کے نام اور کوائف بھی درج تھے۔ اُس وقت محترم منشی غلام نبی صاحب الفضل کے ایڈیٹر تھے۔ انہوں نے آپ کو لکھا کہ اگر صحافت سے کوئی دلچسپی ہے تو ایک مضمون لکھ کر بھیجو۔ آپ نے ایک مضمون بھجوایا جس کی اشاعت کے ساتھ ہی انہوں نے آپ کو الفضل میں شمولیت کی دعوت دی اور اس طرح 1935ء میں آپ کا تقرر بطور اسسٹنٹ ایڈیٹر الفضل ہوگیا۔
قادیان میں قیام کے دوران آپ نے کئی تقریری مقابلوں اور مباحثوں میں حصہ لیا جو وہاں مجلس ارشاد کے تحت ہوتے تھے اور جن کی رپورٹ اخبار میں شائع ہوتی تھی۔ آپ 1938ء تک اسسٹنٹ ایڈیٹر رہے۔ اس دوران بڑی تعداد میں مضامین لکھے اور حضرت مصلح موعودؓ کی بعض تقاریر کو قلمبند کرنے کی سعادت بھی حاصل کی۔ 1938ء میں الفضل کے اسسٹنٹ مینجر بنادیئے گئے۔ آپ کو عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر نومبر 1942ء میں ساٹھ روپے انعام سے نوازا گیا اور دسمبر 1942ء میں مینجر بنادیا گیا۔ 1945ء تک اس عہدہ پر خدمت کی سعادت پائی۔
1945ء میں محکمہ اطلاعات حکومت ہند سے بطور اسسٹنٹ جرنلسٹ وابستہ ہوکر دہلی چلے گئے۔ 1947ء میں پاکستان آگئے اور محکمہ اطلاعات و نشریات میں مختلف حیثیتوں سے کام کیا۔ 1964ء میں پیرس سے فرنچ زبان میں آنرز ڈپلومہ حاصل کیا۔ یکم جنوری 1973ء کو انفارمیشن افسر کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے۔ آپ اردو، فارسی، عربی اور فرانسیسی بہت عمدہ جانتے تھے اور ان زبانوں میں بے شمار اشعار آپ کو یاد تھے۔ 17؍جون 2000ء کو کراچی میں وفات پائی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/JZhxN]

اپنا تبصرہ بھیجیں