محترم چودھری محمدانور حسین صاحب کی خلافت احمدیہ کے ساتھ والہانہ عقیدت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 15؍اپریل 2010ء میں مکرم محمود مجیب اصغر صاحب کے قلم سے محترم چودھری محمد انور حسین صاحب سابق امیر ضلع شیخوپورہ کی خلافت احمدیہ سے والہانہ محبت کے بارہ میں ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
محترم چوہدری محمد انور حسین صاحب ربوہ تو اکثر آتے جاتے تھے لیکن خلیفۂ وقت جہاں بھی تشریف لے جاتے تھے وہاں بھی آپ اکثر پہنچ جایا کرتے تھے۔ بلکہ حضرت خلیفۃ المسیح کے بیرون از پاکستان دوروں میں بھی اپنے خرچ پر جایا کرتے تھے۔ خلافت ثالثہ کے نصف آخر میں مرکز میں وفود کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا تو سب سے زیادہ آپ ہی کے ذریعے لوگ آپ کے ضلع سے مرکز آتے تھے جس کے بڑے مثبت نتائج نکلے۔ محترم چودھری صاحب کے بیان کردہ بعض ایمان افروز واقعات بھی اس مضمون کا حصہ ہیں جن میں سے انتخاب پیش ہے:۔
٭ آپ بیان کرتے تھے کہ راحت جیولرز والوں کے خاندان میں رمضان صاحب اور غلام نبی صاحب نے بیعت کرلی اور گھروالوں کو تبلیغ کرنے لگے۔ ان کے بھائی غلام احمد صاحب خوب مقابلہ کرتے رہے اور بیعت پر آمادہ ہرگز نہ ہوتے۔ ایک دفعہ اسلام آباد سے واپسی پر کار چلا رہے تھے کہ اونگھ آگئی اور دیکھا کہ حضورؒ فرماتے ہیں کہ ’’غلام احمد! تم جتنا مرضی دوڑو آخر تم نے واپس ہمارے پاس ہی آنا ہے!‘‘ جب آنکھ کھلی تو دیکھا کہ حادثہ سے بال بال بچے ہیں۔ گاڑی سڑک پر لڑھکنے ہی والی تھی۔ شیخوپورہ پہنچے توسیدھے میرے پاس کچہری آئے اور بیعت فارم پُر کرنے کے بعد واپس گھر آ گئے۔ پھر ایک شب ان کی والدہ محترمہ نے اٹھ کر کہا کہ میری بیعت کروا دو! بیٹوں نے کہا کہ اماں! صبح تو ہو لینے دو۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابھی نظارہ دیکھا کہ جیسے پٹی کی صورت میں سورۃ فاتحہ اتر رہی ہے اور آواز آئی کہ تمہارے بیٹے صراط مستقیم پر ہیں۔
٭ ایک دفعہ راحت جیولرز والوں کے غلام سرور صاحب کو مخاطب ہوتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ دیکھو اگر ابلتے ہوئے پانی کی دیگ میں ایک دو قطرے ٹھنڈے پانی کے ملا دئیے جائیں تو سیکنڈ کے ہزارویں حصہ میں وہ بھی اس کا حصہ بن جائیں گے۔ یعنی بیعت کے بعد اجنبیت نہیں رہتی اور بہت جلد تم جماعت میں گھل مل جاؤ گے اور ایسا ہی ہوا۔
٭ ایک دفعہ پانچ چھ افراد ہمارے ساتھ ربوہ گئے۔ اتنے متعصب تھے کہ نہ کہیں سے کھائیں نہ پئیں۔ آخر ملاقات کا وقت آ گیا۔ حضور پُرنور سے ملاقات کے بعد کہنے لگے واہ جی واہ! اتنی فریب کاری کہ جو باتیں ہمارے دل میں تھیں ان سب کا جواب ہمیںمل گیا۔ ہمارے دوستوں نے بتایا کہ کسی نے کوئی بات حضور کو نہیں بیان کی لیکن وہ مُصر تھے کہ میں نے ضرور قبل از وقت حضور کو یہ باتیں بتائی ہوں گی؟
٭ ہر ہفتہ ہم ملاقات کے لئے حاضر ہوتے تھے بعض افراد تو ہمارے ساتھ کئی کئی دفعہ جاتے۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ کسی نے پہلے ہی فیصلہ کر لیا کہ اگر حضور ہم سے گلے ملے تو بیعت کر لیں گے پھر ملاقات کے وقت ایسا ہوتا کہ حضور صرف انہیں سے گلے ملتے؟ اسی طرح بعض کہتے کہ اگر ہم سے مصافحہ کیا تو بیعت نہیں کریں گے۔ پھر ایسے ہوتا کہ حضور ان سے مصافحہ نہ فرماتے غرض جو کوئی دل میں معیار مقرر کرتا بسا اوقات اسی کے مطابق دیکھتا اور بیعت کر لیتا۔
٭ صادق چٹھہ صاحب نے جب حضورؒ سے متأثر ہو کر بیعت کر لی تو اُن کی اہلیہ نے بول چال بند کر دی اور ان کی چارپائی اٹھا کر الگ کمرہ میں کر دی۔ ہفتہ عشرہ کے بعد ایک رات اہلیہ کے کمرہ سے چیخوں کی آواز آئی اور صبح اہلیہ کا رویہ بدلا ہوا تھا۔ پوچھنے پر اہلیہ نے بتایا کہ میں نے دیکھا کہ دو شخص آئے تھے اور وہ مجھے مارنے لگے کہ تم کیوں نہیں مانتیں جبکہ تمہارا خاوند سچا ہے!۔ پھر اس نے جسم پر سونٹوں سے پڑے لاسوں کے نشانوں دکھائے۔
٭ 1974ء کے واقعات رونما ہونے پر حضورؒ نے ایک کمیٹی مقرر فرمائی جس کا مجھے (یعنی مکرم چودھری انور حسین صاحب کو) صدر اور مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب کو سیکرٹری بنایا۔ کمیٹی نے غور و فکر کیا اور میں نے حاضر ہو کر عرض کی کہ ہمارا اندازہ بارہ لاکھ روپے کا ہے تاکہ ہونے والے نقصانات کی تلافی ہوسکے۔ تجویز یہ پیش کی کہ رقم بعض ضلعی جماعتوں سے جمع کی جائے گی۔ تجویز سن کر حضور نے فرمایا کہ یہ رقم میں دے دیتا ہوں۔ آپ کام کریں۔
٭ حضرت صاحب مجھے کئی دفعہ علاج کرانے کا ارشاد فرماتے لیکن میں ہمیشہ کترا جاتا۔ ایک دفعہ حضور نے ایک میٹنگ رکھی۔ میں بھی حاضر ہوا۔ اس میں بعض دیگر اضلاع کے امراء بھی تھے۔ میں گیا تو حیران ہوا کہ ایک ڈاکٹر کو بھی میرا معائنہ کرنے کے لئے بلوایا گیا ہے۔
٭ میری بیٹی کے اعلان نکاح کے لئے از راہ شفقت حضورؒ تشریف لائے تو اعلان کے وقت عجیب طرح سے کمال شفقت کا اظہار فرمایا۔ ایجاب کے وقت پوچھا کیا آپ کو اپنی اور میری بیٹی کا نکاح اتنے حق مہر پر منظور ہے۔
٭ شیخوپورہ میں ایک ہیڈ کانسٹیبل نے بھی بیعت کی تھی۔ دراصل وہ حضور کو دیکھتے ہی آپ کے چہرہ سے انتہائی طور پر متأثر ہو گیا تھا کہ یہ چہرہ کسی غلط آدمی کانہیں ہوسکتا۔ بعد میں اس کی ڈیوٹی راوی کے پل پر لگی اور اس نے ایک ٹرک پکڑا اور ترقی حاصل کی۔ اسی نے ایک دفعہ حضور کے قافلہ کو چوک میں روک کر ملاقات بھی کی تھی۔ اب وہ فوت ہو چکا ہے۔
٭ ایک دفعہ حضور اسلام آباد سے واپسی پر سکھیکی کے راستہ ربوہ تشریف لے جا رہے تھے۔ ہمیں اطلاع مل گئی تھی چنانچہ بشیر احمد (بیٹے) نے دس بارہ تیتر روسٹ کروا کے ساتھ رکھ لئے۔ ہم حضورؒ کے استقبال کے لئے ریسٹ ہاؤس چلے گئے۔ جونہی حضور کی موٹر رکی۔ السلام علیکم کے بعد حضور نے فرمایا تیتر لائے ہونا! عرض کی کہ حضور آپ کوکس نے بتا دیا؟ فرمانے لگے بتانے والے نے بتا دیا۔
٭ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی شخصیت کے بارہ میں چوہدری صاحب نے جو تأثر دیا ہے وہ ان الفاظ میں ہے۔ ’’ایک طویل عرصہ کی رفاقت ، حسن تعلق، قرابت اور مختلف حیثیتوں میںملاقاتوں، روح پرور مجالس کے نتیجہ میں مجموعی تاثر کے لحاظ سے آپ کی شخصیت پر کشفی رنگ غالب تھا۔ آپ کا وجود جذب کرنے والا تھا۔ قریب پہنچنے والا اس جذب کو واضح طور پر محسوس کرتا۔ جذب و کشف کی کیفیت میں ہمہ وقت عملی و قولی طور پر اپنے تئیں لاشیٔ محض بیان فرماتے‘‘۔
جس طرح چوہدری محمدانور حسین صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کا قرب حاصل کیا اسی طرح یہ سلسلہ خلافت رابعہ میں بھی خوب سے خوب تر ہو کر جاری رہا۔ چنانچہ چوہدری انور حسین صاحب کی وفات 24 دسمبر 1995ء کے بعد کے خطبہ جمعہ یعنی 29 دسمبر 1995ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؓ نے فرمایا:
’’مکرم و محترم چوہدری محمدانور حسین صاحب امیر جماعت شیخوپورہ کا مختصر ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ بہت ہی مخلص اور فدائی انسان تھے اور خداتعالیٰ نے ان کو بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا۔ ایسی ہر دلعزیز شخصیت تھی کہ اپنے کیا اور غیر کیا جو بھی ان کے قریب آتا تھا اس کا دل موہ لیتے تھے اور کسی جگہ میں نے کسی امیر ضلع کو اتنا ہر دلعزیز نہیں دیکھا جتنا چوہدری انور حسین صاحب کو شیخوپورہ ہی میں نہیں اس کے گردو پیش میں بھی دیکھا ہے۔ جب وہاں کبھی میں جاتا تھا تو دعوت دیا کرتے تھے وہاں کے دانشوروں کو، حکومت کے افسر، غیر افسر، وکیل، زمیندار سب کشاں کشاں چلے آتے تھے۔ کبھی کسی نے اس بارہ میں خوف محسوس نہیں کیا کہ احمدیت کی تبلیغ ہونی ہے وہاں سوال و جواب ہوں گے ہم کیوں شامل ہوں، سارے آیا کرتے تھے اور بے حد عزت تھی چوہدری صاحب کی ان کے دلوں میں۔ اپنی ساری برادری پر بہت اثر رکھتے تھے اور ان کا مختصر تعارف یہ ہے کہ ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جو احمدیت کا سخت مخالف تھا۔ ان کے بہنوئی رئیس احرار افضل حق تھے۔ ایک عبدالرحمن صاحب تھے جوپنجاب اسمبلی کے ممبر تھے اور چوٹی کے جماعت کے مخالفین۔ اور احمدی کب ہوئے چودہ سال کی عمر میں۔ 1918ء میں پیدا ہوئے اور 1932ء میںاحمدی ہو گئے۔ وہ چھوٹا سا بچہ چودہ سال کا ایسی مصیبت میں مبتلا ہوا کہ قیامت برپا ہو گئی اس خاندان پر، دُور دُور سے چوٹی کے ہندوستان کے علماء کو بلایا گیا، ان کے ساتھ مجالس لگائی گئیں کہ اس کو توبہ کرادو۔ جب وہ کامیاب نہیں ہوئیں کوششیں اور چوہدری صاحب کو جو اللہ تعالیٰ نے غیرمعمولی ذہانت عطا فرمائی تھی اس سے چوہدری صاحب ہر ایک کا منہ بند کر دیتے رہے تو پھر پیروں فقیروں کے پاس لے گئے اور کہا اس پر جنتر منتر کرو، کوئی دعائیں پڑھو۔ چوہدری صاحب واقعات سنایا کرتے تھے بعض پیروں نے کہا کہ نہیں اس پر کسی کا جادو نہیںچل سکتا یہ بڑی سخت ہڈی ہے۔ تو اسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا بڑی تبلیغ کی توفیق ملی۔ اپنے خاندان میں، غیروںمیں، ہر جگہ احمدیت کے لئے ایک تو غیرت میں ننگی تلوار اور تبلیغ کے لحاظ سے ایسا میٹھا رس تھے جو دلوں کی گہرائی تک اترتا تھا۔
1974ء میں جو جماعت کے خلاف شور اٹھا ہے اس کے پس منظر میں وہ کامیاب تبلیغ تھی جماعت کی … اس میں چوہدری صاحب کا ضلع سب سے آگے تھا۔ ضلع شیخوپورہ سے سب سے بڑے وفد آیا کرتے تھے ہر ہفتے اور اللہ کے فضل سے رونقیں لگ جاتی تھیں۔ تو چوہدری صاحب نے اس مہم میں سب سے زیادہ مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ احمدیت کے عاشق، مسیح موعود کے عاشق، خلافت کے عاشق اور ایسی طبیعت مزے کی کہ باتیں کرتے تھے تو پھول جھڑتے تھے۔ لطائف کا بہت پیارا ذوق تھا اور حاضر جوابی تو درجہ کمال کو پہنچی ہوئی تھی۔ کئی لوگ چوہدری صاحب کی حاضر جوابی کی وجہ سے سوچ سوچ کر، سکیمیں بنا بنا کر آتے تھے کہ یہاں ہم ان کو پچھاڑ دیں گے اور بات کرتے کرتے چوہدری صاحب ایسا جواب دیتے تھے کہ الٹے پاؤں ان کو بھاگنا پڑتا تھا۔ کبھی آج تک میں نے یہ حاضر جوابی کے مقابلے میں چوہدری صاحب کو کسی سے شکست کھاتے نہیں دیکھا۔ غیروں کے مقابل پر بھی یہی حال تھا احمدیت کے دلائل کے تعلق میں بھی یہی حال تھا تو بہت ہی پیارا وجود تھا۔ حضرت مصلح موعود کے بہت پیارے تھے، حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کو بہت پیارے تھے اور مجھے بہت ہی پیارے تھے۔ بہرحال اللہ جو بلانے والا ہے وہ سب سے پیارا ہے …‘‘۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں