محترم ڈاکٹر غلام مصطفی صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8 جنوری 2011ء میں مکرم محمد ادریس چودھری صاحب کے قلم سے حضرت مصلح موعودؓ کے طبّی مشیر محترم ڈاکٹر غلام مصطفی صاحب کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
محترم ڈاکٹر غلام مصطفی صاحب کے والد حضرت میاں محمد الدین صاحبؓ (واصلباقی نویس) موضع کہیکا نزد کھاریاں کے رہائشی تھے۔ اکتوبر 1894ء میں بیعت کی اور 5جون 1895ء کو قادیان آکر زیارت کی سعادت پائی۔ آپؓ کا نام حضرت مسیح موعودؑ کے 313 صحابہ میں تیسرے نمبر پر مندرج ہے۔ تقسیم ہند کے بعد قادیان میں درویشی کی زندگی اختیار کرلی۔ وہیں یکم نومبر1951ء کو وفات پاکر بہشتی مقبرہ میں مدفون ہوئے۔ آپؓ کی اولاد میں سب سے بڑے بیٹے حضرت صوفی غلام محمد صاحبؓ تھے جو تعلیم الاسلام ہائی سکول میں لمبا عرصہ سائنس ٹیچر رہنے کے بعد صدر انجمن احمدیہ ربوہ میں ناظر مال اور پھر ناظر اعلیٰ ثانی رہے۔ دوسرے بیٹے محترم ڈاکٹر غلام مصطفی صاحب تھے جو مختلف مقامات میں محکمہ صحت کے ہسپتالوں کے انچارج رہے۔ بعد میں ربوہ ٹاؤن کمیٹی کے میڈیکل آفیسر مقرر ہوئے۔ سرکاری ملازمت کے دوران اور بعد میں بھی حضرت مصلح موعودؓ کے طبی مشیر تھے۔ تیسرے بیٹے محترم چوہدری غلام مرتضیٰ صاحب (بارایٹ لاء) مشیر قانونی صدر انجمن احمدیہ پھر وکیل القانون تحریک جدید ربوہ رہے۔ چوتھے بیٹے محترم چوہدری غلام یٰسین صاحب مربی سلسلہ امریکہ و فلپائن تھے۔ نیز تین بیٹیاں بھی تھیں جن میں سے ایک محترم حاجی محمد ابراہیم صاحب خلیل مربی اٹلی و افریقہ کی اہلیہ تھیں۔
حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے وقت محترم ڈاکٹر غلام مصطفی صاحب کی عمر تین چار سال تھی لیکن آپ چونکہ باقاعدہ مسجد جایا کرتے تھے اس طرح سے حضرت مسیح موعود کی شبیہ مبارک کی پہچان اخذ کر چکے تھے۔
جب ڈاکٹر صاحب امرتسر میں تعینات تھے تو ایک بار حضرت مصلح موعودؓ قادیان سے لاہور کے لئے عازم ہوئے۔ امرتسر پہنچ کر اپنی کار محترم ڈاکٹر صاحب کے مکان پر چھوڑ گئے اور باقی سفر ریل گاڑی سے طے کیا۔ لاہور سے قادیان واپسی بھی ریل گاڑی سے ہوئی۔ وہ گاڑی ایسے وقت میں امرتسر سے گزرتی تھی کہ محترم ڈاکٹر صاحب کو حضورؓ کی اجازت سے کھانا پیش کرنے کی سعادت ملی۔
جب محترم ڈاکٹرصاحب لاہور میں تعینات تھے تو احمدیہ ہاسٹل کے وارڈن بھی رہے۔ حضرت مصلح موعودؓ بھی لاہور تشریف لاتے تو احمدیہ ہوسٹل میں قیام فرما ہوا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ یہاں پر رہ کر مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے قادیان میں ہی رہ رہا ہوں۔ حضرت ام طاہرؓ کی آخری علالت میں بھی محترم ڈاکٹرصاحب کو اُن کی خدمت کا وافر موقع ملا۔ اس لئے حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ بھی آپ سے محبت کا خاص سلوک فرماتے تھے۔
قیام پاکستان کے بعد جب مہاجرین کے قافلے لاہور آرہے تھے تب محترم ڈاکٹر صاحب میوہسپتال لاہور میں تعینات تھے۔ ایک دن ہسپتال پہنچے تو ایک چھوٹی سی بچی ابّا کہہ کر آپ کی ٹانگوں سے لپٹ گئی۔ لوگوں سے پوچھا لیکن کوئی اس کا والی وارث نہ نکلا۔ چنانچہ ہسپتال کے عملہ کو بتاکر اُسے اپنے گھر لے گئے۔ چند دن بعد اُس بچی کا باپ ڈھونڈتا ڈھونڈتا وہاں پہنچا اور بچی کو لے گیا۔ محترم ڈاکٹر صاحب بڑے رقیق القلب تھے۔ ہر ضرورتمند کی مدد کرنی فرض سمجھتے۔ ہسپتال میں پگڑی والا ڈاکٹر مشہور تھے۔ لالیاں میں بھی تعینات رہے جہاں نمازیں آپ کے گھر پر ادا کی جاتی تھیں اور آپ ہی امام ہوتے۔
1958ء میں ایک بار محترم ڈاکٹر صاحب کے ہاں دعوت پر بعض بزرگ آئے جن میں حضرت مرزا طاہر احمد صاحب بھی شامل تھے۔ کھانے کے بعد مَیں مہمانوں کے ہاتھ دھلوارہا تھا۔ جب حضرت میاں صاحب ہاتھ دھونے کے لئے آگے بڑھے تو ڈاکٹر صاحب نے میرے ہاتھ سے لوٹا اور تولیہ پکڑلیا۔ بعد میں میرے شکوہ کرنے پر مجھے فرمانے لگے: تمہیں تو خود بھی پتہ نہیں ہے کہ خداتعالیٰ ان کا رتبہ جماعت میں کس قدر بلند کرنے والا ہے جس سے لوگ حیران رہ جائیں گے۔
1977ء میں محترم ڈاکٹر صاحب کی وفات ربوہ میں ہوئی۔ سابق صدر پاکستان چودھری فضل الٰہی صاحب محترم ڈاکٹر صاحب کے بچپن کے دوست تھے۔ اُنہوں نے بھی اپنا تعزیتی پیغام بھجوایا جس میں لکھا کہ ہم سب ایک بزرگ کی دعاؤں سے محروم ہو گئے۔
حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ جب کسی سفر پر جاتے تھے تو محترم ڈاکٹر صاحب بھی کئی دفعہ ہمرکاب ہوتے تھے۔ چنانچہ نخلہ اور مری بھی بارہا گئے اور حضورؓ جب حضرت سید احمد بریلوی شہید کے مقبرہ کی زیارت کے لئے بالاکوٹ تشریف لے گئے توبھی ڈاکٹر صاحب ہمراہ تھے۔ مری میں قیام کے دوران ہی حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر آپ نے ہی مولانا ظفرعلی خان صاحب کا علاج کیا تھا۔
محترم ڈاکٹر صاحب کو مطالعہ کا بہت شوق تھا۔ وسیع ذاتی لائبریری بنارکھی تھی۔ اخبارات و رسائل میں آپ کے مضامین شائع ہوتے تھے۔
مہمان نوازی اور ہمدردی خلائق آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھیں۔ امرتسر میں ایک دن یہ کہتے ہوئے خدا کا شکر ادا کررہے تھے کہ پچھلی رات میرے صحن میں 22مہمانوں کی چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں۔ ربوہ میں آپ ہسپتال سے دُور ایک ڈسپنسری چلاتے تھے جہاں مریضوں کو کئی دفعہ اپنی جیب سے دوائیاں خرید کر دیتے اور بسا اوقات گھر سے کھانا کھلاتے۔ آپ کی باتیں پندو نصائح پر منتج ہوا کرتی تھیں۔ اکثر کہا کرتے کہ یہ دنیا عارضی اور بے ثبات ہے اور آخرت کو نہیں بھولنا چاہئے۔ آپ نے دو بیٹوں اور پانچ بیٹیوں کی اعلیٰ تربیت کی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

ur اردو
X