محمد علی – عظیم باکسر

ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ اگست 2007ء میں بھی محمد علی کے بارہ میں ایک مضمون شامل ہے جس میں دی گئی اضافی معلومات یہ ہیں کہ
1960ء میں اولمپک گولڈ میڈل حاصل کرکے جب وہ امریکہ آئے تو ایک ریستوران میں داخل ہونے سے انہیں اس وجہ سے روک دیا گیا کہ وہ ریستوران صرف گورے لوگوں کے لئے مخصوص تھا۔ اس توہین کا انہیں اس قدر صدمہ ہوا کہ انہوں نے اپنا اولمپک میڈل دریا میں پھینک دیا کہ اگر معاشرہ میں عزت ہی نہیں تو پھر اس میڈل کی کیا اہمیت ہے۔
جب انہوں نے اسلام قبول کر کے اپنا نام محمد علی رکھ لیا تو انہیں اگر اُن کے پُرانے نام سے پکارا جاتا تو وہ کبھی جواب نہ دیتے۔
وہ ایسے باکسر تھے جو شاعری بھی کرتے تھے اور اپنی شان میں قصیدے پڑھ کر اپنے حریف کو طیش میں لایا کرتے تھے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/ooHL3]

اپنا تبصرہ بھیجیں