مری جاں آزمانا گو تمہیں کیا کیا نہ آتا ہے – نظم

ماہنامہ ’’تحریک جدید‘‘ ربوہ جولائی 2009ء میں شامل اشاعت مکرمہ صاحبزادی امۃالقدوس بیگم صاحبہ کی ایک طویل نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

مری جاں آزمانا گو تمہیں کیا کیا نہ آتا ہے
ہمیں بھی پیش کرنا نفس کا نذرانہ آتا ہے
جو بن پائے تو اس کو روک لے تو واعظا بڑھ کے
وہ آتا ہے مرے گھر اور بے باکانہ آتا ہے
رقیبوں کو مرے میری وجہ سے مل گئی شہرت
کہ میری داستاں میں ان کا بھی افسانہ آتا ہے
اٹھاتا ناز ہے کہ خود بھی مردِ عشق پیشہ ہے
وہ دلبر بھی ہے اس کو ناز بھی فرمانا آتا ہے
جو نادم ہو اُسی پہ تو نگاہِ لطف پڑتی ہے
وہی یاں فیض پاتا ہے جسے پچھتانا آتا ہے
یہ دنیا جال سے اپنے نکلنے ہی نہیں دیتی
خیالِ بے ثباتی تو ہمیں روزانہ آتا ہے

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/5cta4]

اپنا تبصرہ بھیجیں