مطالعہ سمندر

سمندر اگرچہ زمین کے تین چوتھائی حصہ کو ڈھانپے ہوئے ہے لیکن اس کا حجم زمین کے کل حجم کا 1250؍واں اور وزن زمین کے کل وزن کا 240؍واں حصہ ہے۔ سمندری راستوں کی ابتدائی تحقیق کرنے والوں میں سے کپتان بارتھو لیمو ڈیاز نے راس امید کے گرد 1488ء میں چکر لگایا۔ 1489ء سے 1497ء کے دوران واسکوڈے گاما ہندوستان کا بحری راستہ معلوم کرنے کے لئے راس امید سے آگے بڑھا اور عربوں کی مدد سے ساحل مالابار تک پہنچ گیا۔ عرب ان راستوں سے جو بحر ہند، بحیرہ عرب اور بحر اوقیانوس کو ملاتے تھے ، خوب واقف تھے۔ کیپٹن جیمز کک نے 79۔1769ء کے دوران تین بڑے سفر کئے۔ اپنے پہلے سفر میں آسٹریلیا دریافت کیا جبکہ تیسرے سفر میں جزیرہ ہوائی کے مقامی افراد کے ہاتھوں مارا گیا۔ بحری معلومات کی پہلی کتاب امریکی بحریہ کے ایک ملازم میتھو فائٹین نے 1825ء میں شائع کی۔
سمندری تحقیق کا سائنسی آغاز 1872ء میں ہوا جب 23 ہزار ٹن وزنی ایک برطانوی جہاز ’’چیلنجر‘‘ کو 240؍ افراد کے عملہ کے ساتھ Portsmouth سے روانہ کیا گیا اور تین سال بعد اس جہاز کے عملہ کی کارگزاری کی 29500 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی گئی جو 23 سال کے عرصہ میں 50 جلدوں میں شائع ہوئی۔ اس جہاز نے دیگر امور کے علاوہ 4717 نئے سمندری جانوروں کو پکڑ کر ان کی جماعت بندی کی۔
یہ دلچسپ مضمون مکرم پروفیسر حبیب اللہ خان صاحب کے قلم سے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 30؍نومبر 1995ء میں شامل اشاعت ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں