ممنوعہ شہر

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 2؍ ستمبر 2022ء)

روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ 22؍جولائی 2013ء میں چین کے دارالحکومت بیجنگ کے وسط میں واقع عظیم الشان عمارتوں کے ایک ایسے مجموعے کے بارے میں ایک معلوماتی مضمون شامل اشاعت ہےجسے ’’ممنوعہ شہر‘‘ کہاجاتا ہے۔
ممنوعہ شہر کی تعمیر کا آغاز 1406ء میں ہوا اور چودہ سال میں اس کی تکمیل ہوئی۔ دس لاکھ کاریگروں اور مزدوروں نے یہاں کام کیا۔ شاہی محلّات سمیت آٹھ صد عمارتوں کے 9999 کمروں پر مشتمل یہ کمپلیکس دنیا میں اپنی نوعیت کا منفرد شہر ہے۔ قدیم چینیوں کے عقیدے کے مطابق ایک ہزار کا ہندسہ الوہی اکملیت کو ظاہر کرتا ہے اسی لیے یہاں کے کمروں کی تعداد ایک ہزار سے ایک کم رکھی گئی ہے۔ پانچ صدیوں تک یہ محلّات ملک کے انتظامی امور کا مرکز رہے۔ اُس وقت اس شہر میں عام لوگوں کو داخلے کی اجازت نہیں تھی۔
74؍ایکڑ رقبے پر مشتمل اس شہر کے گرد ایک دس میٹر اونچی دیوار بنائی گئی تھی۔ دیوار کے چاروں کونوں پر مینار کھڑے ہیں۔ اس کمپلیکس کی تعمیر روایتی چینی طرز کے مطابق ہوئی۔ لکڑی کے فریم چھتوں کو سہارا دیتے ہیں۔ لکڑی کے بکثرت استعمال کی وجہ سے کئی بار یہاں آگ لگنے سے تباہی بھی ہوئی لیکن ہر بار اس کی تعمیرِنَو کا کام اصل شکل و صورت کو برقرار رکھتے ہوئے کیا گیا۔
1925ء میں اس ممنوعہ شہر کو میوزیم میں تبدیل کردیا گیا اور یہ پیلس میوزیم کہلانے لگا۔ 1987ء میں یونیسکو نے اسے دنیا کا عظیم ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ یہاں چینی آرٹ کے نادر خزانے موجود ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

ur اردو
X