مناجات سلیمان

جامعہ احمدیہ ربوہ کے خلافت سووینئر میں واقعہ صلیب سیل کی طرف سے ایک تحقیقی مضمون ’’مناجات سلیمان‘‘(The Odes of Solomon) شامل اشاعت ہے۔ یہ مناجات دراصل ابتدائی عیسائیوں کی وہ دستاویز ہے جس کو عیسائی بڑے اہتمام سے پڑھا کرتے تھے اور اپنے اجلاسات میں سنایا کرتے تھے۔ یہ مناجات حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف منسوب کی جاتی ہیں۔ ابتداء میں ان غزلوں میں سے ایک یا دو غزلیں یا غزلوں کے کچھ حصے ہی محفوظ تھے لیکن 1909ء میں برطانیہ کے ایک عظیم سکالر John Rendel Harris نے ان غزلوں کا ایک بہت بڑا نسخہ دریافت کیا جو کہ سریانی زبان میں تھا اور 42 غزلوں پر مشتمل تھا۔ صاحب موصوف نے ہی اس نسخہ کا نام The Odes of Solomon رکھا اور اس کا متن اور انگریزی ترجمہ شائع کیا۔
مناجات سلیمان کے سلسلہ میں جماعت احمدیہ میں سب سے پہلے محترم شیخ عبد القادر صاحب محقق عیسائیت نے محترم میر محمود احمد صاحب ناصر پرنسپل جامعہ احمدیہ کے کہنے پر تحقیق کی تھی۔ گزشتہ سال محترم میر صاحب اس موضوع پرمزید تحقیق کی غرض سے انگلینڈ کی بعض لائبریریوں میں گئے اور ان غزلوں کے قلمی نسخہ جات کی تلاش کی۔ مزید دو کتب ان غزلات کے بارہ میں انگلینڈ سے منگوائی گئیں لیکن ان کا قلمی نسخہ کسی بھی لائبریری سے دستیاب نہیں ہوسکا۔ شعبہ ہذا میں ان غزلوں کے سریانی متن پر مزید کام ہورہا ہے۔ بعض غزلوں میں حیرت انگیز مضامین پائے جاتے ہیں جن کا مختصر تذکرہ درج ذیل ہے۔
٭ غزل4 میں خدا کے ایک اوّلین گھر کا ذکر ہے۔ البیت العتیق کی فضیلت اس لئے ہے کہ وہ اس وقت بنایا گیا جب دوسرے شعائر نہیں تھے۔ اور جو بڑا ہے وہ مقدّم ہے۔ اس کی عزت وحرمت دوسرے شعائر کی طرف منسوب نہیں ہوسکتی۔
انگریز محققین سمجھتے ہیں کہ مصر کے کسی معبد کا اس غزل میں ذکر ہے حالانکہ اس میں ’’اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُضِعََ لِلنَّاسِ‘‘ والا مضمون ہے۔ حدیث میں ہے کہ جب حضرت مسیحؑ حج بیت اللہ کے لئے تشریف لائے تو انہوں نے تلبیہ کے خاص الفاظ دہرائے۔ اسی طرح حدیث میں ہے کہ حواریان مسیح حج کے لئے آئے تو ارض حرم میں برہنہ پا چلے۔
٭ غزل 10 کے اوپر علماء نے نوٹ دیدیا ہے کہ اس میں حضرت مسیحؑ خود بول رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیںکہ جو لوگ قید میں ہیں ان کو چھڑانا میرا مشن ہے۔ باہر کے لوگ جو کہ دوسرے ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں میرے اردگرد جمع ہوگئے اور بلند جگہوں پر انہوں نے مجھے قبول کیا۔ اس میں حضرت مسیحؑ کے اس قول کی طرف اشارہ ہے: ’’میری اَور بھی بھیڑیں ہیں جو اس بھیڑ خانہ کی نہیں مجھے ان کو لانا ضرور ہے اور وہ میری آواز سنیں گی، پھر ایک ہی گلہ اور ایک ہی چرواہا ہوگا‘‘ (یوحنا 10/16)۔
٭ غزل 11: حضرت مسیحؑ ہمکلام ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اپنی چادر میں سمیٹ لیا اور نئی زندگی عطا کی۔ وہ مجھے اپنی فردوس میں لے گیا۔ اس میں مَیں نے لوگوں کو پودوں کی شکل میں لگایا۔ کڑوے درخت مٹھاس میں بدل گئے۔ فردوس سے مراد حضرت مسیحؑ کا دین اور مرکز روحانی ہے۔
٭ غزل نمبر 15: موت اور پاتال ہرگز گزند نہیں پہنچاسکے۔ موت آئی لیکن میرے سامنے خود برباد ہوگئی۔
٭ غزل 17: جن لوگوں نے مجھے دیکھا وہ حیران رہ گئے (کیونکہ وہ اپنی دانست میں مجھے مار چکے تھے) اور میں اپنے قیدیوں کے پاس ان کو رہائی دینے کے لئے پہنچا۔ میں نے قلوب کی زمین میں اپنے ثمرات کی کاشت کی۔
٭ غزل نمبر 23 میں خاتم الکتب کے بارہ میں ایک کشفی نظارہ ہے۔ اس میں آسمانی خط کے نزول کا ذکر ہے جس سے مراد ایک ایسی کتاب ہے ’’جس کا ہر ہر لفظ خدائے بزرگ و برتر کی انگلی نے لکھا ہے‘‘۔ صاحب کتاب کے متعلق لکھا ہے کہ اس نے ساری دنیا کو فتح کر لیا۔ حق غالب آگیا اور باطل اس کے سامنے جھک گیا۔ پھر آسمانی کتاب کو وراثت میں پانے والے ایک فرزند ِ حق کا ذکر ہے جس سے مراد مسیح موعود ؑ ہے۔
٭ غزل 28 میں حضرت مسیحؑ نے فرمایا: ’’جو لوگ مجھے دیکھتے ہیں وہ حیران رہ جاتے ہیں کیونکہ مجھے نشانہ تعذیب بنایا گیا۔ یہاں تک کہ لوگوں نے سمجھا میں مُردہ ہوں حالانکہ میں زندہ ہوں۔ میں ان کی نظروں میں مشابہ بموت ہوگیا۔ وہ مجھے مارنا چاہتے تھے۔ لیکن اس میں کامیاب نہ ہوئے‘‘۔ اس غزل میں ’’وَمَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہ لَھُمْ‘‘ والا مضمون ہے۔
٭ غزل 33کے اسرار کو علماء سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اس میں ذکر ہے کہ فرستادۂ خدا ایک بلند چوٹی پر کھڑا ہوگیا۔ اس نے چاروں کونٹ میں منادی کی۔ لوگ کشاں کشاں اس کے پاس جمع ہوگئے۔ اس بلندی پر ایک بے عیب بتولہ بھی تھی، وہ کھڑی ہوگئی، اس نے کہا میں تمہارے باطن میں داخل ہوکر تمہیں تباہی سے بچالوں گی۔ اس طرح تم میرے واسطہ سے نجات پاؤ گے۔ اس غزل میں سورۃ المومنون اور سورۃ التحریم والا مضمون ہے۔ بلند چوٹی سے مراد رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنہے۔ سورۃ تحریم کے آخر میں ہے کہ مرد مومن کی مثال مریم سے ہے۔ مریمی صفات پیدا کرو، فلاح پاؤگے۔
٭ غزل 42 میں حضرت مسیحؑ کی زبانی پہلے موت سے نجات کا ذکر ہے۔ پھر یہ ذکر ہے کہ جو لوگ روحانی لحاظ سے مردہ ہیں میں ان لوگوں کے پاس گیا اور ان کے اندر زندہ لوگوں کی ایک جماعت بنا دی۔ اور میں نے ان سے زندہ ہونٹوں سے کلام کیا۔
پس ابتدائی عیسائیوں کی 42 غزلیں عظیم الشان اسرار کا مرقع ہیں۔ قرآن و حدیث سے یہ عقدے وا ہوتے ہیں اور اسرار کھلتے ہیں جبکہ علماء کے لئے یہ نظمیں سرّ مکتوم ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں