موبائل فون کے فوائد اور نقصانات – جدید تحقیق کی روشنی میں

موبائل فون کے فوائد اور نقصانات – جدید تحقیق کی روشنی میں
(فرخ سلطان محمود)

موبائل فون کے استعمال کے بارے میں کئی حقائق اور بے شمار تواہمات سننے میں آتے رہتے ہیں- اس حوالہ سے چند رپورٹس ملاحظہ کیجئے- لیکن یہ یاد رکھیں کسی بھی چیز کا غیرضروری یا انتہائی استعمال اس کے اثرات تبدیل کرسکتا ہے-
٭ سویڈن اور امریکہ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے بعد بتایا گیا ہے کہ سونے سے قبل موبائل فون پر بات چیت کرنا شب بیداری اور کمزور نیند کا سبب بنتا ہے کیونکہ موبائل فون سے خارج ہونے والی ریڈی ایشنز سے نیند کی کمی، سر درد اور تفکر یعنی سوچ بچار کی قوت میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں سائنسدانوں نے ایسے 35 مردوں اور 36 خواتین کا جائزہ لیا جن کی عمریں 28 سے 45 سال کے درمیان تھیں۔ ان افراد میں سے بعض کو موبائل فون سے خارج ہونے والی شعاؤں کے برابر طاقت والی شعاؤں یعنی 884 میگاہرٹز کے ساتھ رکھا گیا جبکہ دیگر افراد کو صرف کمزور شعاؤں کے سامنے رکھا گیا۔ جن افراد کو موبائل فون کی شعاؤں کے برابر طاقت والی شعاؤں کا سامنا تھا، اُنہیں نہ صرف سر درد کی شکایت پیدا ہوئی بلکہ سونے کے معمولات میں تاخیر اور نیند میں کمزوری بھی واقع ہوئی۔
٭ برٹش جرنل آف کینسر میں جاپانی ماہرین کی طرف سے کی جانے والی اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق کے نتائج شائع ہوئے ہیں جس میں موبائل فون کی تابکاری کے انسانی دماغ کے مختلف حصوں پر اثرات کا مشاہدہ کیا گیا۔ اس تحقیق نے اس بات کو مسترد کردیا کہ موبائل فون کے استعمال کے نتیجے میں دماغ میں رسولیوں کے پیدا ہونے کے امکانات میں کوئی اضافہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین نے موبائل فون کے استعمال اور برین ٹیومرز کی پیدائش میں کسی بھی تعلق کو مسترد کرتے ہوئے تحقیق کے نتائج میں بتایا ہے کہ روزانہ موبائل فون استعمال کرنے والوں کو دماغی سرطان کی تین بڑی اقسام میں سے کسی ایک کے بھی لاحق ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اس تحقیق کے دوران دماغی کینسر میں مبتلا 322مریضوں اور 683 صحتمند افراد کا موازنہ کیا گیا جس میں اُن کے موبائل فون کے استعمال کی ہسٹری کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ادوار میں کی جانے والی تمام تحقیقات کے دوران یہ امر خصوصیت سے پیش نظر رہا ہے کہ دماغ کے مختلف حصوں پر موبائل فون کے ممکنہ منفی اثرات کی بالکل درست پیمائش کس طرح کی جاسکتی ہے۔ اس وقت موجود نئے اور جدید آلات کی مدد سے ماہرین کو ایسا کوئی سراغ نہیں ملا کہ موبائل فون کی تابکاری اور دماغی کینسر کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی تعلق موجود ہونے کا ثبوت مل سکے۔
٭ ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ موبائل فون استعمال کرنے والے وہ صارفین جو زیادہ دیر تک ہینڈ فری آلہ استعمال کرتے ہیں اُن کے کانوں میں خارش کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ دراصل اس آلے کے سپیکر سے خارج ہونے والی آواز کی لہریں کان کے درمیانی حصے میں ارتعاش پیدا کرکے خارش کی علامات پیدا کردیتی ہیں۔ بھارت کے ایک میڈیکل کالج میں ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہینڈ فری آلات استعمال کرنے والے صارفین کو اپنا االہ کسی دوسرے فرد کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے کیونکہ ایسا کرنے سے کانوں کی بیماریوں کے جراثیم بھی منتقل ہو سکتے ہیں۔ اس جائزے کے دوران یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آئی پوڈز اور ایم پی تھری میوزک سننے والوں کی زیادہ تر تعداد کانوں کی انفیکشن کا شکار ہوچکی ہے۔
٭ موبائل فون کے حوالے سے یہ خیال عام ہے کہ اس سے خارج ہونے والی تابکاری شعاعیں انسانی دماغ اور صحت کے لئے نقصان کا باعث ہوسکتی ہیں۔ لیکن سائنسی جریدے ’’جرنل آف الزائمر‘‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ریاست فلوریڈا میں سائنسدانوں نے معلوم کیا ہے کہ موبائل فون سے پیدا ہونے والی تابکاری الزائمر کے مرض سے تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔ ماہرین نے چوہوں پر کئے جانے والے ایک تجربے میں دیکھا کہ فون کی تابکاری سے اُن چوہوں کے حافظے کو فائدہ ہوا جو الزائمر کے مرض میں مبتلا تھے۔ اس تجربے میں 96 چوہے شامل تھے جن میں سے بیشتر میں اس نوعیت کی جینیاتی تبدیلیاں کی گئی تھیں کہ اُن کے دماغوں میں الزائمر ہونے کا رجحان ہو۔ ان چوہوں کو سات سے نو مہینے تک روزانہ دو گھنٹے تک موبائل فون کی تابکاری سے گزارا گیا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف الزائمر میں مبتلا چوہوں اور صحت مند چوہوں کی حافظے کی کارکردگی ایک جیسی پائی گئی بلکہ حیران کُن بات یہ تھی کہ جن چوہوں کو بھولنے کی بیماری لاحق ہوچکی تھی، تابکاری کے اثرات میں وقت گزارنے کے بعد اُن کی کارکردگی بھی بہتر ہوگئی۔ ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ الزائمر کے مریضوں کے علاج میں بھی الیکٹرو میگنیٹک فیلڈ کا استعمال مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ بلکہ اُن فوجیوں کو بھی اِس تابکاری علاج سے فائدہ ہوسکتا ہے جنہیں سر پر گہرے زخم آئے ہوں اور اُن کا دماغ بھی متأثر ہوچکا ہو۔
اگرچہ رپورٹ میں تحقیقاتی ٹیم نے تسلیم کیا ہے کہ ماضی کے تجربات سے معلوم ہوا تھا کہ Low Frequency Electro-magnetic لہروں سے انسانی صحت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے اور یہ وہ لہریں ہیں جو بجلی اور ٹیلیفون لائنوں سے پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن چونکہ موبائل فون کی الیکٹرو میگنیٹک لہروں کی شدت مختلف ہوتی ہے اور وہ ہائی فریکوئنسی ہوتی ہیں اس لئے اِن کے اثرات توقع کے برعکس نکلے ہیں۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/JiGOQ]

اپنا تبصرہ بھیجیں