مکرمہ نعیمہ سعید صاحبہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ یکم ستمبر 2010ء میں مکرم ملک سعید احمد رشید صاحب اپنی اہلیہ مکرمہ نعیمہ سعید صاحبہ (بنت مکرم شریف احمد صدیقی صاحب) کا ذکرخیر کیا ہے۔
حضرت منشی عبدالرحمن صاحبؓ کپورتھلوی (صحابی از 313) نہایت عبادت گزار اور ولی اللہ بزرگ تھے۔ ’’براہین احمدیہ‘‘ کا مطالعہ کرنے کے بعد قادیان جاکر حضرت مسیح موعودؑ کی زیارت کی اور پھر بار بار قادیان جانے لگے۔ جب حضورؑ کی طرف سے اشتہار شائع ہوا کہ ’استخارہ مسنونہ کے بعد اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے بیعت کے لئے اِذن ہو تو لدھیانہ آجائیں ورنہ نہ آئیں‘۔ تو آپ نے بڑے الحاح اور سوزوگداز سے استخارہ کیا تو آوازآئی ’’عبدالرحمن آ جا‘‘۔ چنانچہ 23مارچ 1889ء کو آپؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کے دست مبارک پر بیعت کرنے کا شرف حاصل کیا۔ حضورؑ نے آپ کو روزانہ دو سو مرتبہ درود شریف پڑھنے کا ارشاد فرمایا جس پر آپ نے تاوفات عمل کیا۔ حضورؑ نے اپنی کتب ’ازالہ اوہام‘، ’آسمانی فیصلہ‘، ’آئینہ کمالات اسلام‘، ’تحفہ قیصریہ‘ ، ’سراج منیر‘ ، ’کتاب البریہ‘ اور بعض ارشادات (ملفوظات) میں اپنے خاص محبوں میں ، جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والے ، چندہ دہندگان اور پُرامن جماعت کے ضمن میں آپؓ کا ذکر فرمایا ہے۔ آپؓ کی اکلوتی اولاد حضرت ڈاکٹر منشی عبدالسمیع صاحبؓ تھے جو خود بھی بزرگ ہستی تھے اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔ مکرمہ نعیمہ سعید صاحبہ ان کی پوتی تھیں جو 4اور 5 جون 2007ء کی درمیانی شب لمبی بیماری کا صبر وہمت سے مقابلہ کرتے ہوئے وفات پاگئیں۔
مکرمہ نعیمہ سعید صاحبہ نے قریباً 25سال کا عرصہ میری رفاقت میں گزارا۔ بہت صابر وشاکر تھیں۔ کبھی تنگی ترشی کے حالات کا شکوہ زبان پر نہ لائیں۔ نہایت صاف گو تھیں۔ مزاج شناس تھیں۔ مہمانوں کی ضروریات، خواہشات کا خیال رکھتیں۔ صفائی ستھرائی کا بہت خیال رکھتیں۔ غریبوں کا بہت خیال رکھتیں اور صدقہ وخیرات بکثرت کرتیں ۔
اللہ تعالیٰ پر توکل بہت تھا۔ میری بڑی بچی کی پیدائش کا موقع تھا۔ آپریشن ہونا تھا۔ فارم پر دستخط کرنے کے لئے ڈاکٹر نے مجھے دیا۔ میں کچھ متردد ہوا تو فوراً کہنے لگیں۔ اللہ پر توکل کر کے دستخط کردیں۔ اکثر میں نے دیکھا کہ خدا پر توکل کرنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ان کا مان رکھتا اور خواہش کو پورا فرماتا۔
جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے پہلی مرتبہ بیعتوں کا ٹارگٹ مقرر فرمایا تو اس وقت ہم چکوال میں تھے۔ مرحومہ اکثر دعوت الی اللہ کے لئے جاتیں اور خدا کے فضل سے بیعتیں بھی کروائیں۔ جب ربوہ شفٹ ہوئیں تو یہاں بھی دعوت الی اللہ ٹیم کے ساتھ باقاعدہ قریبی دیہات میں جاتیں اور خدمت خلق بھی کرتیں۔ دیہات میں فری میڈیکل کیمپ لگاتیں اور ہومیو دوائیں بھی دیتیں۔ جمعہ کے دن مسجد اقصیٰ میں بھی ضرورتمندوں کو طبّی امداد دینے کے لئے ڈیوٹی دیتیں۔ جب حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کے ارشاد پر محترمہ آپا طاہرہ صدیقہ صاحبہ نے ’نصرت جہاں ہومیو کلینک‘ جاری کیا تو مرحومہ نے اس کے لئے اپنی زندگی وقف کردی۔ شروع میں گھر سے دوائیاں لے جاتیں اور کلینک میں رکھتیں ۔ نہایت ایثار و قربانی سے کام لیتیں۔ اپنے بچوں سے بھی کلینک کے لئے چندہ دلواتیں ۔ دوسروں کو بھی تحریک کرتیں۔ کلینک کی مستحق اور غریب کارکنات کا بھی بہت خیال رکھتیں۔ کلینک کی انچارج مقرر ہوئیں تو بہت محنت اور ذمہ داری سے اپنے فرائض ادا کرتیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہ شفقت آپ کا جنازہ غائب پڑھایا اور خطبہ جمعہ میں آپ کے جنازہ کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا: ’’دوسرا جنازہ نعیمہ سعید صاحبہ اہلیہ ملک سعید احمد رشید صاحب مربی سلسلہ کا ہے۔ ان کے دادا ، پڑدادا یہ سب صحابہ تھے۔ … علاوہ واقف زندگی کی بیوی ہونے کے ان کی لجنہ میں بھی کافی خدمات ہیں ۔ لجنہ ہومیو کلینک انہوں نے بڑی اچھی طرح چلایا اور اپنی بیماری کے باوجود بڑی ہمت اور محنت سے کام کرتی رہیں۔ ان کی تقریباً جوانی کی ہی عمر تھی ۔ یہ 49سال کی عمر میں فوت ہوگئیں۔ ان کے بچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان بچوں کو بھی صبر دے اور ان کی دعائیں اپنے بچوں کیلئے قبول فرمائے ۔ان کا ہمیشہ حافظ وناصر رہے۔‘‘
مرحومہ نے اپنی یادگار دو بیٹیاں اور ایک بیٹا چھوڑے ہیں۔ اپنے بچوں کی تربیت بہت اعلیٰ رنگ میں کی۔ انہیں ترجمۃالقرآن سکھایا اور زمانہ کی اونچ نیچ سے واقف کیا۔ بیٹا عزیزم عامر سعید احمد واقف نو ہے جامعہ احمدیہ میں طالب علم ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/Bbf7Z]

اپنا تبصرہ بھیجیں