مکرم صوفی محمد صدیق صاحب

روزنامہ الفضل ربوہ 5 مارچ 2012ء میں مکرم سیف اللہ وڑائچ صاحب نے اپنے مضمون میں محترم صوفی محمد صدیق صاحب آف سعدﷲ پور (ضلع منڈی بہاؤالدین) کا ذکرخیر کیا ہے۔
مکرم صوفی محمد صدیق صاحب1934ء میں بستی پٹھاناں میں محمداسما عیل آرائیں کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کے نانا بڑے زمیندار اور نمبردار تھے۔ صوفی صاحب نے قرآن اور حدیث کی تعلیم حاصل کی اور ابھی میٹرک میں تھے کہ تقسیم ملک ہوگئی تو آپ کے خاندان کا ایک حصہ سعدﷲ پور آ کر آباد ہو گیا۔ یہاں آپ نے اپنے ایک بھائی کے ساتھ زمینداری کے ساتھ ساتھ کریانہ کی دکان شروع کرلی۔
صوفی صاحب بڑے نرم مزاج، شفیق اور ایثار کرنے والے انسان تھے۔ آپ کی خوش مزاجی اور ہردلعزیزی کی وجہ سے دکان خوب چلتی تھی۔ ایک پڑھے لکھے اور صاحب علم درویش صفت انسان تھے۔ چند احمدی دکانداروں سے آپ کی علمی بحث جاری رہتی۔ لٹریچر کا مطالعہ بھی کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ حق آشکار ہوگیا اور آپ نے 1954ء میں احمدیت قبول کرلی۔
آپ کے احمدی ہونے پر برادری نے آپ کا بائیکاٹ کرکے آپ کو گھر سے نکال دیا۔ اور آپ کی بیوی غفوراں بیگم صاحبہ کو اُن کے ایک اپاہج بیٹے کی وجہ سے گھر میں ایک چارپائی دے کر باقی سب کچھ چھین لیا گیا۔ چنانچہ صوفی صاحب اپنا زیادہ وقت مسجد میں یا دکان پر گزارنے لگے۔ اکثر مسجد میں ہی سو جاتے، بیوی چوری چھپے کچھ کھانے پینے کو دے دیتی ورنہ اکثر بھوکے ہی سو جاتے۔ جب آپ کے سسرال کو آپ کے احمدی ہونے کا علم ہوا تو وہ اپنی بیٹی کو ساتھ لے گئے اور طلاق کا مطالبہ کردیا لیکن بیٹی نے طلاق لینے سے انکار کردیا۔
صوفی صاحب کی جماعت میں شمولیت کے بعد خدا نے کاروبار میں خوب برکت ڈالی اور دن دگنی رات چوگنی ترقی ہونے لگی۔ آپ تبلیغ بھی خوب کرتے۔ آخر آٹھ سال کا عرصہ گزرا تو ماں باپ نے بائیکاٹ میں نرمی کردی۔ اگرچہ سسرال نے سخت دلی کا مظاہرہ جاری رکھا لیکن آپ کی اہلیہ نے فیصلہ کُن انداز میں کہہ دیا کہ اگر میں نے رہنا ہے تو صوفی صدیق کے ساتھ ہی رہنا ہے ۔ آخر گھر والے مجبور ہو گئے اور غفوراں بیگم سعدﷲ پور آگئی۔ پھر خدا نے چار بیٹے اور ایک بیٹی عطا کئے۔ سارے بچے خدا کے فضل سے تندرست پیدا ہوئے اور بیوی بھی احمدی ہو گئی۔
صوفی صاحب ایک ہمدرد دوست، شفیق باپ اور مخلص خاوند تھے۔ آپ کی اہلیہ بڑی قربانی دینے والی دعاگو خاتون ہیں۔ احمدیت کی برکت سے سب بچے خوشحال ہیں اور کاروبار کرتے ہیں۔
ایک بار صوفی صاحب کو بس کے سفر کے دوران کسی نے دھوکہ دے کر نشہ آور چیز کھلادی اور پھر اُن کی رقم اور دیگر اشیاء ہتھیا کراُنہیں سول ہسپتال گوجرانوالہ چھوڑ آئے۔ اس واقعہ کے بعد آپ کی صحت دن بدن خراب ہوتی گئی۔ تاہم جب بھی موقع ملتا، آپ ربوہ چلے جاتے اور کئی کئی دن وہاں رہتے۔ گاؤں میں ہوتے تو بچوں کو قرآن مجید پڑھاتے اور اکثر مسجد میں ہی قیام ہوتا۔ دنیاداری سے بالکل لاتعلق ہو گئے تھے۔ رمضان میں سارا مہینہ مسجد میں رہتے تھے اور کھانا بھی وہیں پہنچا دیا جاتا۔ قرآن کی قراءت بڑی خوش الحانی سے کرتے تھے۔ حدیث پر بھی دسترس تھی۔ مربیان سے بڑی علمی گفتگو کرتے۔
4 جنوری 2011ء کو آپ نے وفات پائی۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/SMxdU]

اپنا تبصرہ بھیجیں