مکرم ضیاء الدین حمید ضیاء صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 3؍دسمبر 2007ء میں مکرمہ ط۔- شکیل صاحبہ اپنے والد محترم ضیاء الدین حمید ضیاء صاحب کی زندگی سے چند اہم واقعات پیش کرتی ہیں۔
محترم ضیاء الدین صاحب 12؍ جولائی 1927ء کو یاری پورہ کشمیر میں حضرت حکیم نظام الدین صاحبؓ (سابق مربی کشمیر) کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ احمدیہ قادیان میں حاصل کی۔ جنگ عظیم دوم کے دوران حضرت مصلح موعودؓ کی تحریک پر فوج میں بھرتی ہوگئے۔ ٹریننگ کے بعد آپ دارجیلنگ (بنگال) میں مقامی افسر خرید مقرر ہوئے۔ یہاں پہلے سے پانچ چھ احمدی گھرانے آباد تھے۔ آپ کے ذریعہ نماز کا مرکز بھی قائم ہوا لیکن مسلسل بارش کے باعث احباب جمعہ کے لئے بھی نہ آسکتے تھے۔ چنانچہ آپ کی تحریک پر ایک جمعہ کے روز تمام احمدی دوستوں نے اجتماعی دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جمعہ کے وقت تین گھنٹہ کیلئے بارش روک دیا کرے۔ یہ دعا قبول ہوئی اور پھر ہر جمعہ کی دوپہر بادل چھٹ جاتے اور سورج نکل آتا۔
جب آپ کی دارجیلنگ میں تعیناتی ہوئی تو وہاں بدعنوانی کا بازار گرم تھا۔ آپ کو بھی نو ہزار روپے ماہانہ تک کی پیشکش ہوئی لیکن آپ نے ردّ کردی۔ پھر بدعنوان افسر نے آپ کو بلاکر کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ آپ رشوت نہیں لیتے لیکن دوسروں کو تنگ نہ کریں۔ آپ نے کہا کہ ٹھیک ہے، لیکن مَیں بری الذّمہ ہوں۔ بعد میں آپ کی نیک شہرت وہاں پھیل گئی اور افسران بالا بھی آپ کا احترام کرنے لگے۔ بدعنوانی کی شکایات پر ایک بریگیڈیئر صاحب کو تحقیقات کے لئے وہاں بھجوایا گیا تو وہ آپ کے کام سے اتنے خوش ہوئے کہ ایک دوسرے علاقے گھوم کے ملٹری فارمز کی چیکنگ کی ڈیوٹی آپ کی لگادی گئی۔ اُن فارمز کا افسر ایک انگریز میجر تھا۔ آپ نے مختلف طریقوں سے چیکنگ کی اور رپورٹ لکھی کہ نہ صرف فوج کو سپلائی کم آرہی ہے بلکہ فارم پر جتنے مزدور کام کرتے ہیں، اُن سے دوگنے کی تنخواہ لی جارہی ہے۔ پھر آپ کو دارجیلنگ، گھوم اور کالم پانگ کے سینٹرز کا انچاج بنادیا گیا۔ جب جنگ ختم ہوگئی تو آپ کو سزا دینے کے لئے ایک ہندوستانی مسلمان افسر نے انگریز افسروں کے ساتھ مل کر ایک کیس بنادیا اور آپ کا کوٹ مارشل کردیا گیا۔ یہ مقدمہ چھ ماہ تک چلتا رہا جس کی باقاعدہ اطلاع آپ حضرت مصلح موعودؓ کو بغرض دعا دیتے رہے۔ فیصلہ میں نہ صرف آپ کو بری کردیا گیا بلکہ مخالفین کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔ اس پر مخالفین نے اپنے ایک عزیز سے مدد مانگی جو بریگیڈیئر تھے۔ لیکن یہ وہی بریگیڈیئر نکلے جو دارجیلنگ میں آپ سے ملے تھے۔ چنانچہ انہوں نے آپ کو مبارک باد دی اور پھر آپ کی خواہش پر انہوں نے آپ کو فوج سے ریلیز کرواکر قادیان کا ریل کا ٹکٹ لے دیا۔
قادیان میں آپ نے تحریک جدید کے تحت شعبہ تجارت میں زندگی وقف کردی اور آپ کو ممبئی بھجوادیا گیا۔ بطور درویش بھی آپ کو حفاظت مرکز کی سعادت ملی۔ نومبر 1947ء کو آپ کو لاہور جانے کا ارشاد ہوا۔ یہاں آپ کو کہا گیا کہ فی الحال کہیں ملازمت کرلیں، ضرورت پڑنے پر بلالیا جائے گا۔ چنانچہ آپ بطور پٹواری بھرتی ہوگئے اور ملتان میں تعینات ہوئے۔ اپنی دیانت اور زیرک ہونے کی وجہ سے آپ تحصیلدار کے بہت قریب ہوگئے۔ لیکن پھر یہ نوکری پسند نہ ہونے کی وجہ سے آپ نے استعفیٰ دیدیا۔ اگرچہ تحصیلدار صاحب نے بہت اصرار کیا کہ آپ ملازمت نہ چھوڑیں تو جلد ہی ترقیاں دی جاتی رہیں گی۔ لیکن آپ کا دل اُچاٹ ہوچکا تھا۔چنانچہ آپ لاہور آکر فوج کے محکمہ صحت میں ملازم ہوگئے۔
فوج کی ملازمت میں کئی ایمان افروز واقعات ہوئے۔ جب آپ بنوں میں تھے تو ایک مولوی صاحب نے خطبہ جمعہ میں آپ کو اور حضرت مسیح موعودؑ کو بُرابھلا کہا۔ لیکن ایک رات جب وہ اپنی بیوی کی شدید تکلیف سے پریشان ہوکر آپ کے دروازہ پر آئے تو آپ کے حسن سلوک سے متأثر ہوکر اگلے روز انہوں نے معافی مانگی۔ آپ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور آئندہ خطبہ میں یہ کہہ دیں کہ وہ باتیں غلط تھیں۔ مولوی صاحب اتنے جرأت مند نکلے کہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اگلے خطبہ میں ہی آپ سے معافی مانگی۔
ایک بار جنرل عتیق الرحمن نے آپ کی ڈسپنسری کی انسپیکشن کی تو اس بات پر آپ کو بیٹھکیں نکالنے کی سزا دی کہ آپ نے غلط پاؤں اٹھاکر سیلوٹ کیا تھا۔ آپ نے کہا کہ جنرل صاحب! آپ کو میرا پاؤں تو نظر آگیا لیکن پتلون نظر نہیں آئی جو مَیں نے ٹانگوں کی تکلیف کی وجہ سے شدید گرم موسم میں بھی اتنی موٹی پہنی ہوئی ہے۔ اس پر جنرل صاحب نے واپس جاکر آرڈر بھجوائے کہ آئندہ آپ کو میڈیکل آفیسر کے برابر اختیارات حاصل ہوں گے اور کوئی آپ کے کام میں مداخلت نہیں کرے گا۔
بنوں میں فوج اور عوام میں آپ اتنے مقبول تھے کہ جب آپ کی تبدیلی ایبٹ آباد ہوئی تو آپ کو الوداع کہنے والوں میں قبائلیوں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی جن میں سے کئی رو رہے تھے۔ پھر آپ تبدیل ہوکر لاہور آگئے۔ یہاں ایک وارڈ میں ایک میجر صاحب نے کہا کہ مَیں چالیس روز سے بخار میں مبتلا ہوں، لگتا ہے کہ آخری وقت آگیا ہے، مجھے میرے علاقہ کے ہسپتال میں بھجوادیں۔ آپ نے پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ مریض کنسلٹنٹ کے زیرعلاج ہے اس وجہ سے آپ اُس کا علاج نہیں کرسکتے۔ اس پر آپ نے رات کو بہت دعا کی۔ اگلے روز پتہ چلا کہ کنسلٹنٹ دس روز کی چھٹی پر چلے گئے ہیں۔ چنانچہ آپ نے دعا کے ساتھ علاج شروع کیا تو دوسرے ہی روز مریض کا بخار ٹوٹ گیا۔
پھر آپ کو میڈیکل سٹور میں لگادیا گیا۔ آپ کی نیک شہرت ایسی تھی کہ آپ کے کرنل افسر نے اپنے افسرانِ بالا کے پوچھنے پر کہ ہسپتال سے سامان کی سمگلنگ کیسے روکی جائے، یہ مشورہ دیا کہ کسی احمدی کو وہاں پر لگادیں۔ چنانچہ ایک احمدی افسر سردار خان صاحب کو وہاں تعینات کردیا گیا۔
لاہور میں ہی ایک شام حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ہسپتال میں کسی کی عیادت کے لئے تشریف لائے تو فرمایا کہ ضیاء صاحب! آپ کو تو ربوہ میں ہونا چاہئے۔ جب حضرت میاں صاحبؓ بیمار ہوئے تو بھی انہوں نے آپ سے دوبارہ اسی خواہش کا اظہار فرمایا۔ آپ نے عرض کیا کہ ابھی تو بہت مشکل نظر آتا ہے لیکن آپ خاص دعا کریں۔ حضرت میاں صاحبؓ کی وفات کے بعد آپ نے اُن کو خواب میں دیکھاتو انہوں نے فرمایا: آپ لیفٹیننٹ بن جائیں گے لیکن آپ کے لئے ربوہ جانا فوج سے بہتر ہے۔ اس خواب کے بعد آپ نے اصرار کرکے فوج سے فراغت حاصل کرلی اگرچہ آپ کو کہا گیا کہ صرف ایک ماہ بعد آپ کو کمیشن دے کر لیفٹیننٹ بنایا جارہا ہے اس لئے سوچ لیں۔ لیکن آپ فیصلہ کرچکے تھے چنانچہ فراغت حاصل کرکے ربوہ آگئے۔
ربوہ میں جب آپ نے حضرت مرزا منور احمد صاحب سے حالات بیا ن کئے تو انہوں نے فرمایا کہ ہسپتال میں تو کوئی آسامی ہی خالی نہیں۔ چنانچہ آپ نے لالیاں میں کلینک کھول لیا۔ لیکن طبیعت میں بے چینی تھی چنانچہ بہت الحاح کے ساتھ دعا میں لگ گئے کہ یہی کام کرنا تھا تو فوج کی ملازمت کیوں چھوڑتا۔ ایک روز حضرت میاں صاحب نے آپ کو دوبارہ بلوایا اور فرمایا کہ افسوس کہ ہسپتال میں کوئی جگہ نہیں ہے لیکن حضرت مصلح موعودؓ کے لئے ایک فزیوتھراپسٹ کی ضرورت ہے اس لئے آپ آجائیں۔ آپ نے کہا کہ مجھے فزیوتھراپی کا تجربہ نہیں ہے لیکن انہوں نے کہا کہ آپ حضورؓ کے معالج ڈاکٹر صاحب سے کراچی جاکر مل لیں۔ چنانچہ آپ کراچی آکر اس خدمت پر مامور ہوگئے۔ اکتوبر 1965ء میں حضرت میاں صاحب نے آپ سے پوچھا کہ کیا حضورؓ اس سال جلسہ سالانہ پر تشریف لاسکیں گے؟ تو آپ نے جواب دیا کہ جس حساب سے حضورؓ کی صحت بہتر ہورہی ہے، اس حساب سے تو انشاء اللہ تشریف لاسکیں گے۔ لیکن دوسری طرف آپ نے خواب میں دیکھا کہ حضرت امّ ناصر صاحبہؓ آکر حضورؓ کو ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئی ہیں۔ چنانچہ نومبر میں ہی حضورؓ کی وفات ہوگئی۔
محترم ضیاء الدین صاحب کو ربوہ میں اپنے محلہ کے صدر جماعت کے طور پر بھی خدمت کا موقع ملا اور جرمنی میں بھی اپنی جماعت کے صدر ہیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/Bcqeo]

اپنا تبصرہ بھیجیں