مکرم ماسٹر نعمت اللہ لون صاحب آف آسنور

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، الفضل انٹرنیشنل 21 اگست 2020ء)

مجلس خدام الاحمدیہ بھارت کے ماہنامہ ’’مشکوٰۃ‘‘ قادیان ستمبر 2012ء میں مکرم عبدالقیوم لون صاحب کے قلم سے اُن کے والد محترم ماسٹر نعمت اللہ لون صاحب کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے جوسرینگر کے ایک ہسپتال میں 20 جون 2012ء کو 65 سال کی عمر میں وفات پاکر بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہوئے۔ مرحوم نے بیوہ کے علاوہ چار بیٹے پیچھے چھوڑے ہیں جن میں سے ایک بیٹا واقف زندگی ہے۔
مکرم ماسٹر نعمت اللہ لون صاحب کے دادا حضرت مولوی حبیب اللہ لون صاحبؓ اور نانا حضرت خواجہ عبدالرحمان ڈار صاحبؓ تھے۔ یعنی آپ حضرت حاجی عمر ڈار صاحبؓ کے نواسے تھے جنہیں 1894ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی سعادت حاصل ہوئی، 1914ء میں آپ نے وفات پائی اورآسنورمیں واقع اپنے باغ میں دفن کیے گئے۔آپؓ کی بدولت آسنور کا سارا گاؤں احمدیت کی آغوش میں آیا اور اب تک وہاں فعّال جماعت موجود ہے۔
مکرم ماسٹر نعمت اللہ صاحب کے والد مکرم محمد عبداللہ لون صاحب فاضل کو 1947ء کے فسادات کے دوران جموں میں شہید کردیا گیا تھا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے شہداء کے ذکر پر مشتمل خطبات میں ان کا بھی ذکر فرمایا۔ مکرم ماسٹر صاحب نے یتیمی کی حالت میں اپنی والدہ کی تربیت میں رہتے ہوئے دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کی۔ آپ نہایت شریف النفس، صابر، شاکر، غریب پرور اور عبادت گزار وجود تھے۔ خدمت دین میں پیش پیش رہے۔ انیس سال تک جماعت احمدیہ آسنور کے صدر کے طور پر اور قبل ازیں قائد مجلس خدام الاحمدیہ، زعیم انصاراللہ اور دو سال تک صوبائی قاضی کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔تعلیم الاسلام احمدیہ پبلک سکول آسنور میں پرنسپل بھی رہے۔ بوقت وفات امین اور سیکرٹری وصایا تھے۔
مرحوم علاقے بھر میں شرافت، امانت داری اور صدق گوئی میں معروف تھے۔جس جس علاقے میں بھی آپ نے ملازمت کی وہاں عزت کی نگاہ سے دیکھے گئے۔
مالی قربانی میں السابقون الاوّلون میں شمار ہوتے تھے۔ محکمہ تعلیم میں ملازمت کے دوران تنخواہ ملتے ہی لازمی چندے ادا کرتے۔ دیگر چندے بھی بروقت ادا کرتے۔ 4؍نومبر 2011ء کو تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان کرتے ہوئے حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے جن احباب کی مالی قربانیوں کا ذکر کیا اُن میں ماسٹر صاحب مرحوم بھی شامل تھے۔ حضورانور نے تحریک جدید کے نمائندے کی رپورٹ کے حوالے سے مرحوم کے جذبات کا ذکر اُنہی کے الفاظ میں یوں فرمایا کہ
’’جب تک مَیں زندہ ہوں خلیفہ وقت کے فرمان پر لبّیک کہتا رہوں گا۔ یہ کہتے ہی اُن کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے کہا کہ جب خدا نے میرا دنیاوی ادویات کا بجٹ بڑھا دیا ہے تو مَیں آخرت کے بجٹ میں کیوں کمی کردوں۔ چنانچہ ان کے ارشاد کی تعمیل میں موصوف نے نہ صرف بجٹ میں اضافہ کیا بلکہ اپنا نصف چندہ اُسی وقت ادا بھی کردیا۔‘‘

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/Rh6H0]

اپنا تبصرہ بھیجیں