نظام خلافت کی عظمت

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ کے خلافت نمبر میں مکرم حبیب الرحمن زیروی صاحب کا مرتّبہ ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں نظام خلافت کی عظمت اور اس کی برکات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
ذیل میں حضورؒ کے چند ایسے ارشادات نقل کئے جارہے ہیں جو ہمیشہ ہر احمدی کے پیش نظر رہنے چاہئیں:
٭ ’’خلافتِ احمدیہ کی طاقت کا راز دو باتوں میں ہے۔ ایک خلیفۂ وقت کے اپنے تقویٰ میں اور ایک جماعت احمدیہ کے مجموعی تقویٰ میں۔ جماعت کا تنا تقویٰ من حیث الجماعت بڑھے گا، احمدیت میں اتنی ہی زیادہ عظمت اور قوت پیدا ہوگی۔ خلیفۂ وقت کا ذاتی تقویٰ جتنا ترقی کرے گا اتنی ہی اچھی سیادت اور قیادت جماعت کو نصیب ہوگی‘‘۔ (خطبہ جمعہ فرمودہ 25؍جون 1982ء)
٭ ’’خدا نے منصب خلافت پر مجھے مقرر فرمایا اور اس منصب کی خاطر لوگ مجھے دعا کے لئے لکھتے ہیں۔ اُن کو بتانا چاہتا ہوں کہ مَیں نے پہلے بھی یہی دیکھا تھا اور آئندہ بھی یہی ہوگا کہ اگر کسی احمدی کو منصب خلافت کا احترام نہیں ہے، اس سے سچا پیار نہیں ہے، اس سے عشق اور وارفتگی کا تعلق نہیں ہے اور صرف اپنی ضرورت کے وقت وہ دعا کے لئے حاضر ہوتا ہے تو اُس کی دعائیں یعنی خلیفۂ وقت کی دعائیں اس کے لئے قبول نہیں کی جائیں گی۔ اُسی کے لئے قبول کی جائیں گی جو خاص اخلاص کے ساتھ دعا کے لئے لکھتا ہے اور اس کا عمل ثابت کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے اس عہد پر قائم ہے کہ جو نیک کام مجھے فرمائیں گے، اُن میں آپ کی اطاعت کروں گا۔ ایسے مطیع بندوں کے لئے تو بعض دفعہ ہم نے یہ نظارے دیکھے، ایک دفعہ نہیں بسااوقات، یہ نظارے دیکھے کہ وہاں پہنچی بھی نہیں دعا، اور پھر بھی قبول ہوگئی۔ ابھی لکھی جا رہی تھی دعا، تو اللہ تعالیٰ اس پر پیار کی نظر ڈال رہا تھا اور دعا قبول ہورہی تھی‘‘۔ (خطبہ جمعہ فرمودہ 16؍جولائی 1982ء)
٭ ’’اللہ تعالیٰ جب بھی کوئی تحریک جماعت کے کسی بھی خلیفہ کے دل میں ڈالتا ہے تو اس کے متعلق آپ کو پوری طرح مطمئن ہونا چاہئے کہ ضرور کوئی الٰہی اشارے ایسے ہیں جو مستقبل کی خوش آئند باتوں کا پتہ دے رہے ہیں اور وہ تحریک جو بظاہر معمولی سی آواز سے اٹھتی نظر آتی ہے، ایک عظیم الشان عمارت میں تبدیل ہوجایا کرتی ہے‘‘۔ (خدام الاحمدیہ کے یورپین اجتماع 1984ء سے خطاب)
٭ ’’جہاں تک احمدیوں اور خلیفۃالمسیح کے رشتہ کا تعلق ہے، کوئی احمدی جتنے خطوط چاہے خلیفۃالمسیح کی خدمت میں لکھ سکتا ہے، اس بارہ میں کوئی روک نہیں۔ لیکن اگر آپ کسی اَور شخص کے منفی رویہ کے بارہ میں اطلاع دے رہے ہیں تو پھر اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ آپ کا فرض ہے کہ اس شخص کو بھی مطلع کریں ورنہ یہ غیبت شمار ہوگی‘‘۔ (خطبہ جمعہ فرمودہ 8؍اکتوبر 1982ء)
٭ ’’خلیفہ اور جماعت دو الگ وجود نہیں بلکہ ایک ہی وجود کی دو حیثیتیں اور دو نام ہیں۔ اس لئے صرف میرے لئے نہیں بلکہ ہم سب پر اللہ تعالیٰ کا شکر واجب ہے‘‘۔ (خطبہ جمعہ فرمودہ 14؍اکتوبر 1983ء)
٭ ’’مَیں آپ کو خوب کھول کر بتانا چاہتا ہوں کہ گناہ کبیرہ جو انسان یعنی فرد کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں وہ اپنی جگہ پر خطرناک ہیں۔ میرا تجربہ ہے جماعت کے اُن لوگوں پر نظر ڈال کر جنہوں نے بڑے بڑے گناہ کئے وہ بھی نیک انجام پاگئے۔ لیکن خلافت کے خلاف بے ادبی کرنے والوں کا کبھی مَیں نے نیک انجام ہوتے نہیں دیکھا، وہ بھی تباہ ہوئے اور اُن کی اولادیں بھی تباہ ہوئیں… اس لئے کہ خلافت وہ خدائی رسّی ہے جس کے ساتھ دنیا نے بندھنا ہے، جس کے ساتھ خدا کے ساتھ تعلق قائم ہونا ہے۔ یہ حبل اللہ ہے۔‘‘ (22ویں سالانہ اجتماع انصاراللہ مرکزیہ سے صدارتی خطاب)

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں