نونہالانِ جماعت مجھے کچھ کہنا ہے (نمبر14)

نونہالانِ جماعت مجھے کچھ کہنا ہے (نمبر14)
(کاوش: فرخ سلطان محمود)

سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے واقفین نو بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے مختلف پہلوؤں سے اُن کی راہنمائی کا سلسلہ جاری فرمایا ہوا ہے۔ اس میں اجتماعات اور اجلاسات سے خطابات، پیغامات کے ذریعہ ہدایات، رسائل کا اجراء اور وقف نو کلاسوں کا انعقاد بھی شامل ہے۔ مستقبل کے احمدی نونہالوں کی تعلیم و تربیت کا یہ سلسلہ اُس وقت بھی جاری رہتا ہے جب حضور انور کسی ملک کے دورہ پر تشریف لے جاتے ہیں۔ وہاں کے واقفین نو بھی یہ سعادت حاصل کرتے ہیں کہ براہ راست حضور انور کی رہنمائی سے فیض حاصل کرسکیں۔ ان واقفین نو کو کلاسوں کے دوران حضورانور جن نہایت اہم نصائح سے نوازتے ہیں اور جو زرّیں ہدایات ارشاد فرماتے ہیں وہ دراصل دنیا بھر میں پھیلے ہوئے واقفین نو کے لئے بیش بہا رہنمائی کے خزانے رکھتی ہیں۔ حضور انور کی واقفین نو کے ساتھ کلاسوں میں سے ایسے چند حصے آئندہ صفحات میں پیش کئے جارہے ہیں جنہیں واقفین نو کو ہمیشہ پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
(مطبوعہ رسالہ اسماعیل جنوری تا مارچ 2014ء)

سپین میں واقفین نو بچوں کی کلاس
(منعقدہ 31مارچ 2013ء بمقام مسجد بیت الرحمن ویلنسیا)

پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم اور آیات کریمہ کے اردو اور سپینش ترجمہ سے ہوا۔ بعد ازاں آنحضرت ﷺ کی یہ حدیث مع سپینش ترجمہ پیش کی گئی کہ ’’حضرت عثمان بن عفانؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی خاطر مسجد تعمیر کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ بھی اس کے لئے جنت میں ایسا گھر تعمیر کرتا ہے‘‘۔
اس کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عربی قصیدہ میں سے چند اشعار خوش الحانی کے ساتھ پیش کئے۔ بعد ازاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے درج ذیل دو اقتباسات پیش کئے۔
٭ ’’اس کی توحید زمین میں پھیلانے کے لئے اپنی طاقت سے کوشش کرو اور اس کے بندوں پر رحم کرو اور ان پر زبان یا ہاتھ یا کسی تدبیر سے ظلم نہ کرو اور مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو‘‘۔ (کشتی نوح)
٭ ’’اس وقت ہماری جماعت کو مساجد کی بڑی ضرورت ہے۔ یہ خانہ خدا ہوتا ہے۔ جس گاؤں یا شہر میں ہماری جماعت کی مسجد قائم ہوگئی تو سمجھو جماعت کی ترقی کی بنیاد پڑ گئی۔ اگر کوئی ایسا گاؤں یا شہر جہاں مسلمان کم ہوں یا نہ ہوں اور وہاں اسلام کی ترقی کرنی ہو تو مسجد بنا دینی چاہئے۔ پھر خدا خود مسلمانوں کو کھینچ لاوے گا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ قیام مسجد میں نیت بہ اخلاص ہو۔ محض للہ اسے کیا جاوے۔ نفسانی اغراض یا کسی شر کو ہرگز دخل نہ ہو تب خدا برکت دے گا‘‘۔ (ملفوظات جلد 4 صفحہ 93)
اس کے بعد ایک Presentation دی گئی جس کا عنوان تھا: “The Expulsion of the Moorish From Spain” یعنی :
مسلمانوں کا سپین سے خروج
قریباً چار سو سال قبل مسلمانوں کو سپین کی سرزمین سے نکلنے پر مجبور کیا گیا۔ مسلمانوں کے سپین سے انخلاء کے بعد سپین کی سرزمین پر کوئی بھی ایسا شخص نہیں تھا جس نے کیتھولک مذہب اختیار نہ کیا ہو۔ سب سے پہلے بالنسیا میں سے مسلمانوں کو نکالا گیا۔ لیکن ان کے خروج کی وجوہات بیان کرنے سے قبل یہ بتانا ضروری ہے کہ مسلمان کون لوگ تھے اور وہ سپین میں کس طرح رہے۔
1492ء میں کیتھولک مونارکس (Catholic Monarchs) کی فوج نے غرناطہ پر حملہ کیا اور غرناطہ پر قبضہ کرلیا۔ اس حملہ کے بعد عیسائی حاکم کے زیر تسلّط جو مسلمان غرناطہ میں موجود رہے انہیں Mudejar کہا جاتا ہے۔ غرناطہ پر حملہ کے بعد کچھ عرصہ تک تو مسلمانوں کے مذہبی عقائد اور رسوم رواج کا خیال رکھا جاتا رہا لیکن 1520ء تا 1525ء کے درمیان مسلمانوں کو زبردستی عیسائیت اختیار کرنے پر مجبور کیا جانے لگا یہاں تک کہ سب مسلمانوں کو عیسائی ہونا پڑا۔ اس کے بعد ایسے مسلمانوں کو Morrish (مورِش) کہا جانے لگا جو کہ بظاہر تو عیسائی ہوگئے تھے مگر دل سے مسلمان ہی تھے۔
سولہویں صدی کے نصف دوم اور سترھویں صدی کے آغاز میں اندازاً تین لاکھ بیس ہزار (320,000) مسلمان سپین میں موجود تھے۔ انہیں New Christians بھی کہا جاتا تھا۔ ان مسلمانوں کی بڑی تعداد غرناطہ اور بالنسیا میں موجود تھی۔ ان میں بعض کا تعلق تجارت سے بھی تھا لیکن اکثریت سادہ لوح مسلمان تھے جن میں بعض دیہاتوں میں رہنے والے کسان تھے اور معمولی کھیتی باڑی کرتے تھے اور بعضوں کے جانوروں کے چھوٹے چھوٹے ریوڑ تھے۔ ایک طرف تو ان کو سٹیٹ ٹیکس ادا کرنا پڑتا اور دوسری طرف حکومت اور چرچ کی طرف سے اپنے عقائد کو چھوڑنے کا بھی دباؤ تھا۔
ایک عرصہ تک مسلمان اپنے گھروں میں چھپ کر عبادتیں کرتے تھے اور اسلامی روایات جس میں روزہ اور نماز وغیرہ شامل تھیں کا اہتمام کرتے تھے۔ جس طرح بظاہر مسلمانوں کے دو مذاہب تھے اسی طرح ان کے نام بھی دو تھے۔ ایک وہ نام جو ان کے آباؤاجداد نے رکھا تھا اور دوسرا عیسائی نام جو کہ بپتسمہ لینے کے بعد چرچ کی طرف سے دیا جاتا تھا۔ یہ آپس میں ہسپانوی عربی بولتے اور عیسائیوں کے ساتھ بالنسیا میں بولی جانے والی Valenciano زبان میں بات کرتے تھے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو سپین کے باسی ہی تصور کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان کا سپین سے مختلف علاقوں کی طرف انخلاء ہوا تو انہوں نے اپنے آپ کو اندلسی ہی کہا۔
چرچ کی طرف سے کئی تحریکات چلائی گئیں جن کا مقصد مسلمانوں کو پکّے عیسائی بنانا تھا۔ ان تحریکات میں بعض ایسی ظالمانہ تحریکات تھیں کہ ان کی وجہ سے مسلمانوں کو ملک سے بھاگنا پڑا۔ اُس وقت زیادہ تر مسلمانوں نے شمالی افریقہ کی طرف ہجرت کی۔
اس عرصہ میں مسلمانوں کی طرف سے ایک مرتبہ شدید احتجاج بھی کیا گیا۔ غرناطہ کے قریب ایک پہاڑی مقام Alpujarras میں احتجاج کا یہ سلسلہ 1568ء سے شروع ہوا اور 1570ء تک جاری رہا۔ حکومت کی طرف سے اس احتجاج کو مکمل طور پر دبا دیا گیا جس کے بعد مسلمان ملک کے دوسرے حصوں میں بکھر گئے۔
فلپ سوئم کے زمانہ میں جب چرچ کی طرف سے چلائی گئی تحریکات ناکام ہوگئیں تو مسلمانوں کو سپین سے باہر نکالنے کے حوالہ سے ایک معاہدہ کیا گیا۔ فلپ سوئم نے اس معاہدہ پر 19ستمبر 1609ء کو دستخط کئے اور بالنسیا سے سب سے پہلے مسلمانوں کو نکلنا پڑا۔
اس سال ستمبر اور اگلے سال جنوری کے درمیان ایک لاکھ سے زائد مسلمان Denia, Alicante اور Valencia کی بندرگاہوں سے روانہ ہوئے۔ ان میں سے اکثر کو الجیریا اور تیونس لے جایا گیا لیکن ان میں سے سب اپنی منزل تک نہ پہنچ سکے اور بہت سے راستے میں ہی ہلاک ہوگئے۔
Laguar Valley
گو کہ مسلمانوں کو اپنے آباؤاجداد کی زمین چھوڑنے کا انتہائی افسوس تھا تاہم ابتدا میں مسلمانوں نے اپنے خروج کو پُرامن انداز میں تسلیم کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے اس خیال سے بڑی خوشی سے سرِ تسلیم خم کرلیا کہ وہ دیگر علاقوں میں جہاں ان کے ہم مسلک افراد ہوں گے، زیادہ عزت اور آزادی کی زندگی گزار سکیں گے۔ لیکن جلد ہی انہیں الجیریا پہنچنے والوں کی بدحالی کی خبریں موصول ہوئیں اور اس بات نے پیچھے رہ جانے والوںمیں ایک بغاوت کی لہر دوڑادی۔ اور اس جلاوطنی سے بچنے کے لئے ہزاروں مسلمان بیک وقت دو وادیوں یعنی Muelas de Cortes (Ayora Valley) اور Laguar Valley میں جمع ہوگئے۔ Laugar Valley میں جو کہ Alicante سے قریبی وادی ہے، بیس ہزار مسلمان پناہ گزین جمع ہوئے اور Mellini نامی شخص کو اپنا لیڈر بنالیا۔ ان پناہ گزین مسلمانوں میں بہت سی خواتین، بچے اور عمررسیدہ افراد شامل تھے۔ یہ تمام مسلمان اس خوبصورت وادی میں اپنی بچی کھچی املاک اور مویشیوں کے ساتھ جمع ہوگئے۔ اس وادی میں Caballo Verde (یعنی سبز گھوڑا)نامی پہاڑی سلسلہ ہے ۔ پرانی روایت کے مطابق کہا جاتا ہے کہ یہاں ایک عظیم الشان مسلمان سالار روپوش ہے جو کہ صدیوں سے اس پہاڑی سے آنے والے عیسائی حملہ آوروں کے مقابلہ پر مسلمانوں کی حفاظت کر رہا ہے۔
16 نومبر کو عیسائی افواج اس وادی میں داخل ہوئیں۔ ان کا مقصد یہاں پناہ گزین مسلمانوں کو نکال باہر کرنا تھا۔ مسلمان قلعہ Azabares کی باقیات پر قابض تھے۔ یہ قلعہ اس وادی کے شروع میں واقع ہے۔ یہاں جو جنگ و جدل کا سماں بندھا وہ یقینا قتل و غارت گری کا نمونہ تھا۔ ہر طرح سے لیس کئی ہزار فوجی ایک صبح Caballo Verde کے پہاڑی سلسلہ پر نمودار ہوئے۔ لٹے پٹے مسلمانوں کے پاس صرف غلیلیں اور Crossbows تھیں، اُن کو قتل کرنے اور پیچھے جانے پر مجبور کیا گیا۔ مسلمانوں نے اس کسمپرسی کے باوجود بھرپور دفاع کیا۔ لیکن آخرکار ہزاروں مسلمان Caballo Verde کی بلند ترین چوٹی کی طرف نکلنے پر مجبور ہوگئے جہاں کہا جاتا ہے کہ de Pop نامی ناقابل تسخیر قلعہ کی باقیات موجود ہیں۔ نکلتے ہوئے بھی تقریباً دو ہزار مسلمان بڑی بے دردی سے قتل کردیئے گئے۔ Mellini جو مسلمانوں کا رہنما تھا، بھی بڑی جرأت سے لڑتا ہوا شہید ہوگیا۔
Caballo Verde کی بلند ترین چوٹی پر بھی عیسائیوں نے مسلمانوں کا پیچھا نہ چھوڑا اور 9 دن تک ہزاروں مسلمان اس چوٹی پر عیسائی فوج کے محاصرہ میں قید رہے۔ انہیں پانی اور خوراک تک کی رسائی نہ دی گئی۔ رات کو چھپ کر پانی حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے مسلمان کو قتل کردیا جاتا یا قید کرلیا جاتا۔ چند ایک جو کہ کسی طرح فرار ہوگئے، باقی 13 ہزار افراد نے بھوک اور پیاس سے مجبور ہوکر 29 نومبر کو عیسائیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔
مسلمان بچے
Luguar Valley سے تقریباً ایک ہزار بچے یرغمال بنالئے گئے۔ دیگر 1400 بطور نوکر اور غلام رکھے گئے۔ ان بچوں کو مختلف مقامات پر لے جایا گیا۔ اعدادوشمار کے مطابق بالنسیا میں 492 ، Denia میں 200 اور Alicante صوبہ کے مختلف شہروں میں 1136 بچے لے جائے گئے۔ لوکل چرچ کمیونٹی کے ریکارڈ کے مطابق جب یہ بچے بڑے ہوئے تو ان بچوں نے مسلمانوں میں ہی شادیاں کیں۔
22 ستمبر 1609ء میں معاہدہ خروج طے پایا تو فیصلہ ہوا کہ چار سال سے کم عمر مسلمان بچے سپین میں ہی رہیں۔ مگر عملاً بہت سے ایسے بچے بھی اپنے والدین کے ساتھ دیگر ممالک میں نکل گئے۔ Laguar Valley اور Muela de Cortes کے غدر کے بعد سپین میں رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ جو والدین اپنے بچوں کو سپین میں چھوڑ کر جاتے وہ انہیں ایسے معمر عیسائیوں کے ذمہ کر جاتے جن پر انہیں اعتبار ہوتا۔ یہ بھی مشہور ہے کہ والدین جاتے ہوئے اپنے بچوںپر پوشیدہ نشان بھی لگا دیتے تاکہ کبھی دوبارہ ملنے کا موقع بنے تو پہچان میں آسانی ہو۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ ان میں سے زیادہ تر بچے اُن کی یا والدین کی مرضی سے نہیں چھوڑے گئے تھے بلکہ انہیں یرغمال بنالیا گیا تھا۔
افریقہ
سپین سے خروج کے بعد افریقہ کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کی آمد ہوئی۔ ان میں اکثر الجیریا اور تیونس میں آکر آباد ہوئے۔ الجیریا کے دارالحکومت میں ایک مقام Les Andalousies کے نام سے موسوم ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں نسبتاً مالدار مسلمان آباد ہوئے تھے۔ تیونس میں بھی بہت سے مقامات سپین کے علاقوں کے ناموں سے موسوم ہیں۔ ان میں واضح ترین Alancanti ہے جو کہ بالنسیا کے جنوب میں ایک علاقہ کا نام ہے۔
1979ء میں بالنسیا میں جماعت احمدیہ کا آغاز ہوا اور 29 مارچ 2013ء کو حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یہاں سپین کی دوسری احمدیہ مسجد کا افتتاح فرمایا ہے۔
………………………
بعد ازاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے منظوم کلام

حمد و ثنا اُسی کو جو ذات جاودانی
ہمسر نہیں ہے اس کا کوئی نہ کوئی ثانی

میں سے منتخب اشعار خوش الحانی سے پڑھ کر سنائے گئے۔ اور پھر وقف نو کے حوالہ سے ایک کوئز پروگرام ہوا۔ چند سوالات (جواب بریکٹ میں) یہ تھے:

٭ وقف نو سکیم کب جاری ہوئی؟ (3؍اپریل 1987ء کو)۔
٭ کس نے وقف نو سکیم جاری فرمائی تھی؟ (حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ)۔
٭ شروع میں وقف نو سکیم کتنی مدّت کے لئے جاری ہوئی؟ (2 سال)۔
٭ پھر وقف نو سکیم کو کتنی مدّت کے لئے بڑھایا گیا؟ (مزید 2 سال)۔
٭ وقف نو سکیم کو کس سال سے مستقل کردیا گیا؟ (1991ء سے)۔
٭ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے 18 جنوری 2013ء کے خطبہ میں حضور نے کس عمر کے واقفین نو بچوں کو اُن کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی؟ (12 سے 13 سال اور 15 سال کے بچوں کو)۔
٭ حضور انور ایدہ اللہ نے 18 جنوری 2013ء کے خطبہ جمعہ میں کونسی سورتوں کی آیات تلاوت فرمائیں؟ (آل عمران، التوبہ، الصّافات)۔
٭ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ماں باپ کے عہد سے پیچھے نہ ہٹنے والے واقفین نو بچوں کو کس نام سے پکارا؟ (امّت محمدیہ کے باوفا لوگ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امّت میں ہونے کا حق ادا کرنے والے)۔
٭ حضور انور ایدہ اللہ نے خطبہ جمعہ میں دنیا کو ہلاکت سے بچانے کے لئے کونسے علوم حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی؟ (دین اور قرآن کریم کا علم)۔
٭ حضور انور نے واقفین نو بچوں کو قرآن مجید اور احادیث کے علاوہ کونسی کتب پڑھنے کی تلقین فرمائی؟ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب)۔
٭ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے واقفین نو بچوں کو والدین کے احسان کا ذکر کرتے ہوئے کونسی دعا کے لئے فرمایا؟ (اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے)۔
٭ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے واقفین نو بچوں کو کڑے حالات میں بھی کونسا عہد پورا کرنے کی تلقین فرمائی؟ (والدین کے وقف نو کے بارہ میں عہد کو)۔
٭ حضور انور نے واقفین نو بچوں میں قربانی کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے کون سے نبی کی قربانی کا ذکر فرمایا؟ (حضرت اسماعیل علیہ السلام)۔
حضور انور ایدہ اللہ کی ہدایات و نصائح
=… اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ے واقفین نو سے دریافت فرمایا کہ جامعہ میں جانے کا کس کس کا ارادہ ہے۔ اس پر چار طلباء نے ہاتھ کھڑے کئے تو حضور انور نے خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ: انشاء اللہ۔
=…حضور انور کے دریافت فرمانے پر ایک واقف نو نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر بن رہے ہیں۔ دو سال باقی رہ گئے ہیں۔ حضور انور نے انہیں ہدایت فرمائی کہ جنرل سرجری میں سپیشلائز کریں اس کی افریقہ میں ہمیں بہت ضرورت ہے۔
=… حضور انور نے ایک طالبعلم سے فرمایا: آپ تو انجینئر بن رہے ہیں۔ کس فیلڈ میں جانا ہے؟ نیز فرمایا کہ construction کے شعبہ میں چلے جائیں۔ ایک اور نوجوان سے حضور انور نے فرمایا کہ آپ تو انجینئر بن کر فیلڈ میں چلے گئے ہیں۔ ایک نوجوان کو فرمایا کہ سپینش زبان سیکھیں اور اس میں سپیشلائزیشن کریں۔
=…ایک واقف نو نے کہا کہ مَیں نے مربی صاحب بننا ہے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا صاحب نہ بننا، صرف مربی بننا۔ صاحب بن گئے تو پھر کام نہیں ہوگا۔
حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ اصل چیز ’’وفا‘‘ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارہ میں قرآن کریم کا ارشاد ہے وَ اِبرَاھِیمَ الّذِیْ وَفّٰی ۔ تو اصل چیز وفا ہے اور اپنے عہد کو پورا کرنا ہے۔ پس یہ وفا ہی ہے جو تم کو آگے بڑھائے گی۔ اصل بات یہی ہے کہ وفا کے ساتھ اپنے عہد پر قائم رہیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جامعہ احمدیہ میں جانے والے واقفین نو کو مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ آپ کو جو ملے گا اُسی پر آپ نے گزارہ کرنا ہے۔ جنگلوں میں رہنا پڑے تو رہنا ہے۔ جیسے یہاں ویلنسیا کے علاقہ میں مسلمان (Moorish لوگ) ایک لمبا عرصہ پہاڑوں کے اندر رہتے رہے ہیں۔ تکالیف برداشت کیں لیکن اپنے ایمان پر قائم رہے۔
پھر فرمایا جب یہ جامعہ سے مربی بن کر نکلیں گے تو اُس وقت اہل سپین کو صحیح رنگ میں اسلام کا پیغام پہنچے گا اور یہاں اسلام احمدیت کی ترقی ہوگی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/Mvq0M]

اپنا تبصرہ بھیجیں