وٹامنز صحت کے لئے مفید یا باعثَ نقصان؟ – جدید تحقیق کی روشنی میں

وٹامنز صحت کے لئے مفید یا باعثَ نقصان؟ – جدید تحقیق کی روشنی میں
(اطہر ملک)

دنیا بھر میں جب سے انسانی صحت کا شعور اُجاگر ہوا ہے تب سے ’’پرہیز علاج سے بہتر ہے‘‘ کے مصداق بیماریوں سے دُور رہنے کی کوشش کرنے میں انسانی کاوشوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ اسی طرح کی کوششوں میں سے ایک مختلف وٹامن اور دیگر قوت بخش ادویات کا استعمال بھی ہے۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ ایسی وٹامن گولیوں کا استعمال اکیسویں صدی کی طرزِزندگی کا ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔ تاہم حال ہی میں امریکن نیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ کے ایک جائزے میں ماہرین نے بتایا ہے کہ وہ مرد حضرات جو روزانہ ایک سے زیادہ ملٹی وٹامن کی گولیاں استعمال کرتے ہیں، اُن میں اڈوانسڈ پروسٹیٹ کینسر ہونے کا امکان بتیس فیصد بڑھ جاتا ہے۔ اس بیماری کے سبب اُن افراد کی موت کا خطرہ بھی، اُن لوگوں کے مقابلے میں، جو ملٹی وٹامن کی گولیاں نہیں لیتے، تقریباً دُگنا دیکھا گیا ہے۔ چند سال پہلے برطانیہ کی فوڈ سٹینڈرڈز ایجنسی نے بھی وٹامنز کی بھاری خوراکیں استعمال کرنے کے رجحان سے خبردار کرتے ہوئے اِن وٹامنز کے استعمال کے لئے محفوظ حدود مقرر کی تھیں۔ ماہرین خوراک کے مطابق روزانہ وٹامن C کی خوراک ایک ہزار mg، وٹامن k کی 540mg جبکہ بیٹاکروٹین کی 7mg سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ اسی طرح دیگر سپلیمنٹس کی حدود بھی مقرر کی گئی ہیں۔
ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ کے میڈیکل اینڈ سائنٹفک ایڈوائزر نے لوگوں کو سرطان کے خطرے میں کمی کے لئے وٹامن سپلیمنٹس پر انحصار نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ کچھ سپلیمنٹس فائدے سے زیادہ نقصان کا باعث بن رہے ہیں اس لئے خوراک خصوصاً پھل اور سبزیوں کو سپلیمنٹس پر ترجیح دی جانی چاہئے۔ پروفیسر مارٹن نے عوام کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بہت سارے لوگ اس خیال کے حامی ہیں کہ سپلیمنٹس کا استعمال دیگر خوراک سے زیادہ اہم ہے لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں کیونکہ سپلیمنٹس جو سرطان کے خطرے کو دُور کرنے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں، ہمیں اُن کے نقصانات کا بھی علم ہونا چاہئے اور فوائد کے ساتھ ساتھ اُن کے نقصان پر بھی غور کیا جانا چاہئے۔ اُنہوں نے کہا کہ سپلیمنٹس علاج نہیں ہیں بلکہ خوراک میں پائی جانے والی کمی کو دُور کرنے کیلئے ہیں۔
٭ گزشتہ چند سال سے مسلسل یہ تحقیق جاری ہے جس سے معلوم ہورہا ہے کہ وٹامنز کی جسم میں زیادتی کئی بیماریوں اور جسمانی خطرناک تبدیلیوں کا باعث بنتی ہے۔ ایک تحقیق میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ وٹامنز کے استعمال سے لوگوں کی عمر نہیں بڑھتی بلکہ عمر میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ یہ مطالعاتی تحقیق جو ڈنمارک کی کوپن ہیگن یونیورسٹی کے محققین نے وٹامنز کا استعمال کرنے والے دو لاکھ 33ہزار ایسے افراد پر کی ہے جو بیمار ہونے کی حالت میں یا صحتمند ہونے کے باوجود مختلف وٹامنز کا استعمال کررہے ہیں۔ محققین نے ماضی میں اِس سلسلے میں ہونے والی سڑسٹھ تحقیقات کا جائزہ لینے کے بعد یہ کہا ہے کہ کہیں یہ ثبوت نہیں ملتا کہ وٹامنز کے استعمال سے زندگی دراز ہوتی ہے۔ بلکہ وٹامنز A اور E تو جسم کے فطری دفاعی نظام میں غیرضروری مداخلت بھی کرتے ہیں جبکہ بیٹاکورٹین کے بارے میں خیال ہے کہ یہ جسم کے چربی کے استعمال کے نظام میں مداخلت کرتی ہے۔ اگرچہ یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ بعض وٹامنز کا استعمال جسم کے خلیات کو ایسے نقصان سے بچاتا ہے جس کی وجہ سے بعض بڑی بیماریاں جن میں کینسر اور دل کی بیماریاں شامل ہیں، ہوسکتی ہیں۔
حالیہ تحقیق میں محققین نے کئی عوامل کو مدّنظر رکھتے ہوئے اور بیس تحقیقات کو ردّ کرنے کے بعد وٹامنز کے استعمال کو صحت اور زندگی کے لئے انتہائی خطرناک قرار دیا بلکہ وٹامن A کے استعمال کو 16 فیصد، بیٹاکورٹین کو 7 فیصد اور وٹامن E کو چارفیصد تک جلد موت لانے کے ساتھ منسلک کیا۔ تاہم وٹامن C کے کوئی مضر یا عمدہ اثرات سامنے نہیں آئے اور سائنسدانوں نے اس پر مزید تحقیق کی ضروررت پر زور دیا ہے۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ لوگوں کو دواؤں کی بجائے اپنی خوراک سے وٹامنز حاصل کرنی چاہئیں۔
٭ ایک رپورٹ میں ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ وٹامن بی کمپلیکس کھانے سے عارضۂ قلب سے متعلق بیماریوں کو دُور کرنے میں مدد نہیں ملتی۔ اس ضمن میں پائے جانے والے تمام مفروضے تحقیق کے دوران غلط ثابت ہوچکے ہیں۔ آرٹرو مارتی کاروجیل نامی ادارے کی تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ وٹامن بی کمپلیکس کے دیگر مثبت اثرات اپنی جگہ برقرار ہیں لیکن ہارٹ اٹیک، شریانوں کی تنگی اور عارضۂ قلب کے دیگر پہلوؤں کے متعلق اس کے مثبت اثرات سامنے نہیں آسکے۔ اس تحقیق کے دوران 8 مختلف تجربات میں وٹامن بی سپلیمنٹ کے اثرات کو 24ہزار 210 افراد پر چیک کیا گیا تھا جن میں دل کے مریضوں کے علاوہ صحت مند افراد کو بھی شامل کیا گیا تھا۔
٭ امریکہ میں شائع کی جانے والی ایک طبّی رپورٹ میں اِس دیرینہ خیال کی تردید کی گئی ہے کہ وٹامن سی یا وٹامن ای قلب کی شریانوں کے امراض بشمول قلب پر حملے کے خطرے میں کمی کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کئی لوگ پرانی بیماریوں سے چھٹکارا پانے کے لئے بھی وٹامنز کا استعمال کرتے ہیں جو فائدے کی بجائے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین نے یہ معلوم کرنے کے لئے کہ آیا وٹامنز کا استعمال دل کے امراض دُور کرنے کا باعث بنتا ہے یا نہیں، 16641 ؍افراد میں سے بعض کو وٹامن سی یا وٹامن ای استعمال کروائی اور بعض کو اِن وٹامنز کی ڈمّی گولی استعمال کروائی گئی۔ اس تجربے میں شامل افراد کی اوسط عمر 64سال تھی اور اِن کا وٹامنز کا استعمال اوسطاً 8 سال تک جاری رہا۔ تاہم پہلے تجربات کے برعکس جن میں وٹامن ای،سی اور دیگر اینٹی آکسیڈینٹس ایک ساتھ دئیے جاتے تھے، حالیہ تحقیق میں صرف دو وٹامنز کے استعمال کے بارے میں انفرادی تحقیق کی گئی۔ اور اس تحقیق کے نتائج سے اس اتفاق رائے کو تقویت پہنچی کہ وٹامن سی اور وٹامن ای میں دل کی شریانوں کے تحفظ کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔ ماہرین نے مشاہدہ کیا کہ جن افراد نے وٹامنز استعمال کئے تھے، اُن کی حالت ڈمّی گولیاں استعمال کرنے والوں سے زیادہ بہتر نہیں تھی۔ چنانچہ برگہیم اور بوسٹن کے ہسپتال برائے خواتین کے ماہرین نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ وٹامن سی اور وٹامن ای ایسے اینٹی آکسیڈنٹس ہیں جن کے بارے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ آزاد ریڈیکلز کی وجہ سے ہونے والے نقصان سے جسم کو محفوظ رکھتے ہیں لیکن اِن وٹامنز کو استعمال کرتے ہوئے یہ بھی یاد رکھنا رہنا چاہئے کہ یہ وٹامنز جسمانی خلیوں، ریشوں اور دیگر اعضاء کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔ جبکہ ایسے پھل اور سبزیاں جو ان وٹامنز سے مالامال ہوتے ہیں، اُن کو استعمال کرنے سے اِن وٹامنز کا فائدہ کئی گُنا بڑھ گیا اور کوئی نقصان مشاہدے میں نہیں آیا۔ چنانچہ اس بات کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہ جو لوگ نباتاتی غذا کثیر مقدار میں استعمال کرتے ہیں، انہیں امراض قلب، کینسر اور دیگر امراض کے لاحق ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ اسی لئے لوگوں کو وٹامنز کی گولیوں کے استعمال کی بجائے صحت بخش غذا کے استعمال پر توجہ جاری رکھنی چاہئے اور باقاعدہ ورزش کرنی چاہئے تاکہ خطرناک عناصر پر کنٹرول کرسکیں۔ ان خطرناک عناصر میں کولیسٹرول کی زیادتی اور ہائی بلڈپریشر شامل ہیں جن سے قلب کی شریانوں کا مرض لاحق ہوسکتا ہے۔
٭ ایک دوسری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیٹاکروٹین، وٹامن سی اور وٹامن ای پر مشتمل سپلیمنٹس کینسر کے خطرات کو کم کرنے میں معاون نہیں ہوتے۔ رپورٹ کے مطابق جدید تحقیق نے ان امکانات کی نفی کردی ہے جس کے مطابق یہ تصور کیا جاتا تھا کہ ان اشیا پر مبنی غذا کے استعمال سے کینسر کے مرض سے بچا جاسکتا ہے۔ نیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ کے جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق نے قبل ازیں اس حوالے سے ہونے والی دو تحقیقوں کے نتائج کی تائید کی ہے کہ متعدد اینٹی آکسیڈنٹس مرکبات کینسر سے بچاؤ میں معاون ثابت نہیں ہوتے۔ اس تحقیق کے مطابق اگرچہ پھلوں اور سبزیوں پر مشتمل غذا کے استعمال سے کینسر کے خطرات میں کمی واقع ہوجاتی ہے لیکن اس خوراک کے برابر فوائد چند وٹامنز پر مشتمل سپلیمنٹس سے حاصل نہیں کئے جاسکتے۔ یہ تحقیق بھی امریکہ میں ہی ہوئی ہے جس میں ڈاکٹر جون مینس آف ویمن ہاسپٹل اور ہاورڈ میڈیکل سکول بوسٹن نے اوسطاً 60برس کی عمر کی حامل 7627 خواتین پر یہ تجربات کرنے کے بعد بتایا ہے کہ کچھ خواتین کو یومیہ 500 ملی گرام وٹامن سی، اور ہر دوسرے روز وٹامن ای کی 600 آئی یو مقدار یا بیٹا کروٹین یا ان تینوں سپلیمنٹس پر مشتمل متعدد مرکبات ساڑھے نو برس تک استعمال کروائے جاتے رہے۔ جبکہ خواتین کے ایک دوسرے گروپ کو صرف ڈمّی یا غیرمؤثر ادویات استعمال کرائی گئیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ خواتین کے دونوں گروپوں میں کینسر اور اموات کی شرح برابر رہی۔ اگرچہ اس تحقیق سے یہ نتیجہ بھی سامنے آیا ہے کہ وٹامن ای سپلیمنٹ کینسر رسک میں کمی کا سبب بنتا ہے لیکن بیٹا کروٹین سپلیمنٹ پھیپھڑوں کے سرطان کے خطرات کو بڑھادیتا ہے۔
پس بہتر یہی ہے کہ وٹامنز سپلیمنٹس لینے کی بجائے براہ راست غذا سے یہ مفید مرکبات حاصل کئے جائیں- یہی طریقہ محفوظ ترین اور قدرت کے قریب ترین ہے-

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/Ecz2H]

اپنا تبصرہ بھیجیں