پمپائے (Pompeii)

ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق پمپائے کا شمار اہم ترین آثار قدیمہ میں ہوتا ہے۔قریباً دو ہزار سال پہلے 79ء میں ایک آتش فشاں کی زد میں آکر مٹی میں دب کر منجمد ہونے سے قبل ایک کامیاب شہر تھا۔
پمپائے کی بنیاد روم سے ڈیڑھ سو میل جنوب مغرب میں آٹھویں صدی قبل مسیح میں Oscans نے رکھی تھی جو کسانوں اور چرواہوں کا ایک قبیلہ تھا۔ دو سو سال تک یہ علاقہ یونانی اثرات کے اندر آچکا تھا اور مزید دو سو سال بعد (چوتھی صدی قبل مسیح) میں اس کو Samnites نے فتح کرلیا۔ پھر روم نے اسے 89قبل مسیح میں فتح کیا اور 80 قبل مسیح میں اسے اپنی کالونی کا درجہ دیا۔ اُس وقت یہ شہر 160 ایکڑ پر پھیلا ہوا تھا اور قریباً بیس ہزار آبادی کا شہر تھا۔
پیالے کی شکل کا دہانہ رکھنے والا مشہور آتش فشاں پہاڑ وے زووہ (Vesuvius)پمپائے سے چھ سے دس کلومیٹر دُور ہے۔ آجکل یہ بظاہر پُرسکون ہے اور آخری مرتبہ یہ پہاڑ 1944ء میں پھٹا تھا۔ تاہم 24؍اگست 79ء کی آتش فشانی اس کی وجۂ شہرت ہے جس میں دو شہر تَباہ ہوگئے یعنی پمپائے اور ہرکولینیم (Herculaneum)۔ اس زلزلہ میں اس پہاڑ کی چوٹی اُڑ گئی اور پہاڑ نے اپنا آدھا حصہ فضا میں اُگل دیا۔ لاوا ایک فوارہ اور پھر ستون کی شکل میں بیس کلومیٹر سے زیادہ بلندی تک پہنچا جس میں آتش فشانی راکھ، گیسیں اور پتھر شامل تھے۔ ایک تیز آندھی نے یہ لاوا پمپائے کے اوپر انڈیل دیا۔ لاوے کی بارش اگلے روز صبح تک جاری رہی۔ پھر زہریلی گیسوں اور راکھ کی بارش ہوئی جس سے مزید دو ہزار لوگ جل کر مر گئے۔ چند دن کے اندر ہی چھ میٹر موٹی سفید تہہ نے ہر چیز کو ڈھانپ لیا۔ زلزلہ سے پہلے کوئی خاص علامات ظاہر ہونے کا پتہ نہیں چلتا تاہم یہ علم ہوتا ہے کہ دس روز پہلے کنوئیں اچانک خشک ہوگئے تھے اور پہاڑ پر چرنے والی گائیوں کا رویہ بھی عجیب سا ہوگیا تھا۔
یہ تاریخ میں ریکارڈ کیا جانے والا پہلا شدید ترین زلزلہ تھا۔ اس سانحہ کی عینی شہادت بھی تاریخ میں محفوظ رہی۔ یہ ایک خط ہے جو تاریخ دان Tacitus کو Pliny, the Younger کی طرف سے موصول ہوا جو سمندر کے دوسرے کنارے پر کھڑا یہ نظارہ دیکھ رہا تھا۔ اُس نے پہاڑ کے اوپر ایک گہرا تاریک بادل دیکھا جو دہانے سے پھوٹ رہا تھا۔ وہ بادل پھر تیزی سے نیچے آنا شروع ہوا اور اُس نے ہر چیز کو ڈھانپ دیا۔ اس دوران بے شمار زمینی جھٹکے محسوس کئے گئے جس کے بعد زمین تیزی کے ساتھ گھومی، سمندر خشک ہوگیا اور پھر ایک جھٹکے کے ساتھ واپس آیا (اسے ماہر اراضیات سونامی کہتے ہیں)۔ اُس کا چچا Pliny the Elder اس واقعہ کی تفتیش کے لئے کئی جہازوں سے رابطہ کرچکا تھا۔ وہ سمندر کے دوسرے کنارے پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کی زیادتی کے باعث 56 سال کی عمر میں مرگیا۔ وہ پہاڑ سے انیس میل کے فاصلہ پر رہتا تھا۔ اُس دَور کے اکثر لوگ بعد میں زہرآلود ہوا اور گرمی کی لہروں سے جلد مرگئے۔ ملنے والے ڈھانچوں سے اُن لوگوں کی سخت ذہنی کوفت کے آثار ملتے ہیں۔
سانحہ سے ایک روز پہلے (23اگست کو) روم کے شہریوں نے دیوتا Vulcan کا دن منایا تھا جو کہ زیرزمین آگ کا دیوتا ہے۔ یہ شہنشاہ سیئزر آگسٹس کی سالگرہ کا دن بھی تھا جس نے روم پر 27 قبل مسیح سے 14ء تک حکومت کی تھی۔ روم اُس دَور کی سپرپاور تھا۔ یہ آفت بادشاہ Titus کے خزانے پر ایک مصیبت بن کر ٹوٹی جس کو اپنے باپ کے بعد تخت پر بیٹھے صرف تین ماہ ہوئے تھے۔ یہود کا کہنا تھا کہ یہ خدا کی طرف سے سزا ہے کیونکہ Titus نے نو سال پہلے یروشلم کو تباہ کیا تھا۔
پمپائے 1748ء میں دوبارہ دریافت ہوا۔ اس وقت سمندر شہر کے آثار سے ایک کلومیٹر دُور ہے جبکہ پہلے بہت نزدیک تھا۔ ماہرین کے مطابق جب لاوا پہاڑ کے دہانہ سے نکلا تو اس کا درجہ حرات 850سنٹی گریڈ تھا جبکہ شہر پر جب یہ گرا تو اس کا درجہ حرارت 350 سنٹی گریڈ ہوچکا تھا۔ کچھ علاقوں میں یہ درجہ حرارت 180 سنٹی گریڈ بھی پایا گیا۔ ملبہ میں ایسے لوگوں کی آخری لمحات کی حرکات بھی محفوظ ہیں جو زندگی بچانے کی کوششوں میں شاید کئی گھنٹے مصروف رہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/6t3xI]

اپنا تبصرہ بھیجیں