پینٹا گون

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 9 اپریل 2012ء میں گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے حوالہ سے دنیا کی سب سے بڑی دفتری عمارت پینٹاگون کا تعارف شامل اشاعت ہے۔ یہ وسیع و عریض بلڈنگ ریاست ورجینیا کے شہر آرلنگٹن میں دریائے پوٹومیک کے کنارے واقع ہے اور امریکی محکمہ دفاع کا ہیڈ کوارٹر ہے۔
پینٹاگون کا تصور ایک امریکی جنرل بیریہن سمرویل نے پیش کیا۔ امریکی محکمہ دفاع ، آرمی ، نیوی اور ائیر فورس کا یہ مشترکہ ہیڈ کوارٹر صرف 16ماہ کی قلیل مدت میں تعمیر کیا گیا تھا۔
پینٹاگون کی عمارت 5مساوی حصوں پر مشتمل ہے جن میں سے ہر حصہ 281میٹر طویل ہے۔ اس 5منزلہ عمارت کا مجموعی زمینی رقبہ 6لاکھ 4ہزار مربع میٹر بنتا ہے۔ چنانچہ پینٹاگون عملاً خود ایک شہر کی سی حیثیت رکھتا ہے جہاں قریباً 29ہزار ملازمین (فوجی اور سویلین) اپنے ملک کے دفاع کی منصوبہ بندی میں حصہ لیتے ہیں۔
پینٹاگون کی عمارت سے ملحقہ لان 200ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس بلڈنگ میں 131سیڑھیاں اور 19لفٹیں ہیں جو 37لاکھ 5ہزار 793مربع فٹ جگہ پر تعمیر کی گئی ہیں۔ عمارت میں 45ہزار ٹیلی فون لائنیں ہیں جن سے روزانہ تقریباً دو لاکھ فون کا لیں کی جاتی ہیں جو ایک لاکھ میل طویل ٹیلی فون کی تاروں سے منسلک ہیں۔ ڈیفنس پوسٹ آفس ماہا نہ 12لاکھ کی تعداد میں ڈاک تقسیم کرتا ہے۔ سٹاف اور دیگر ملازمین کے تحقیقی کاموں میں مدد کے لئے کئی لائبریریاں موجود ہیں۔ صرف ایک آرمی لائبریری میں ہی مختلف زبانوں کی تین لاکھ مطبوعات موجود ہیں۔
پینٹاگون کے برآمدوں کی کُل لمبائی ساڑھے سترہ میل بنتی ہے لیکن انہیں اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ عمارت میں کسی بھی مقام سے دوسرے کسی بھی مقام تک پیدل پہنچنے کے لئے صرف 7منٹ درکار ہیں۔
دراصل پینٹاگون کی تعمیر کے ذریعے امریکی وار (War) ڈیپارٹمنٹ کی 17عمارتوں کو ایک چھت کے نیچے جمع کر دیا گیا ہے۔ پینٹاگون کے تعمیراتی کام کا آغاز ستمبر1941ء میں ہوا جس کے شیڈول کی نہایت سختی سے پابندی کی گئی۔ چنانچہ 1300کارکنوں نے دن رات مختلف شفٹوں میں ہفتے کے سات دن کام کیا۔ ایک ہزار آرکیٹیکٹ انجینئر اس پر اس کے مختلف حصے ڈیزائن کرنے میں مسلسل کام کرتے رہے۔ اس عظیم عمارت تک نقل و حمل کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے اور عمارت کو دیگر بڑی سڑکوں سے جوڑنے کے لئے 48کلومیٹر طویل اضافی سڑکیں تعمیر کی گئیں۔ 15جنوری 1943ء کو اس عمارت کی تعمیر مکمل ہوئی۔ اس کی اپنی پولیس اور فائر فائٹنگ فورس ہے۔ پانی اور سیوریج کا نظام مکمل طو رپر اس بلڈنگ کے لئے علیحدہ تعمیر کیا گیا۔ 1956ء میں یہاں ایک ہیلی پورٹ کا بھی اضافہ کیا گیا اور بعدازاں یہاں ٹیکسی اور بس ٹرمینل بھی قائم کئے گئے۔
11ستمبر 2011ء کو اُس وقت یہ عظیم عمارت ایک بڑے المیے سے دوچار ہوگئی جب ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی کے ساتھ ہی مبیّنہ طور پر اغوا ء شدہ ایک کمرشل طیارہ اس عمارت سے بھی ٹکرایا۔ اس حادثہ میں نہ صرف عمارت کاایک حصہ تباہ ہوا بلکہ 189افراد بھی ہلاک ہوئے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/X241q]

اپنا تبصرہ بھیجیں