کشش ثقل

اس وقت معلوم شدہ چار قوتوں میں سے کشش ثقل سب سے زیادہ معروف لیکن سب سے کم سمجھی جانے والی طاقت ہے۔ چاند کا زمین کے گرد اور زمین کا چاند کو ہمراہ لے کر سورج کے گرد محو گردش ہونا کشش ثقل کا ہی نتیجہ ہے۔ آئیزک نیوٹن وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے تین صدیاں پہلے کائنات میں موجود اجسام کے درمیان اس قوت (کشش ثقل) کی موجودگی کا خیال ظاہر کیا تھا۔
تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ کشش ثقل دیگر قوتوں کے مقابلہ میں کروڑوں گنا کمزور طاقت ہے۔ حتی کہ ایک معمولی سے مقناطیس کی وہ کشش بھی، جو وہ چند انچ کے فاصلہ تک رکھتا ہے ، پوری زمین کی کشش ثقل سے زیادہ طاقتور ہے۔ زمین کی کشش ثقل اتنی کمزور ہے کہ ایک چھوٹا سا پرندہ بھی اسے باآسانی زیر کرلیتا ہے۔ تاہم دوسری طرف یہ ایک ایسی زبردست طاقت ہے جس پر انسان کا کوئی بس نہیں چلتا اور یہ ہر چیز پر پوری طرح حاوی ہے خواہ وہ چیز کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو۔
کشش ثقل کی منفرد خصوصیات یہ بھی ہیں کہ اس کو کم، زیادہ، منسوخ یا تبدیل نہیں کیا جاسکتا اور اس کی سمت کا رُخ بھی تبدیل نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ دوسری قوتوں کو کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ کشش ثقل کو روک دینا ناممکن ہے۔
کشش ثقل کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ ہمیشہ اپنی طرف کھینچتی ہے اور کبھی بھی اپنے سے دور نہیں پھینکتی۔ آئن سٹائن کے مطابق کشش ثقل کو قوت نہیں کہا جاسکتا بلکہ یہ بڑے اجسام کا ایک طرز عمل ہے جو Fourth Dimension یعنی وقت کے اندر ہی شامل ہے۔
اگر آپ کشش ثقل سے باہر نکل جائیں تو آپ کا وزن ختم ہو جائے گا لیکن حجم باقی رہے گا۔ جبکہ ’’بلیک ہول‘‘ (جہاں حجم کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ وہاں) کی کشش ثقل سے نکلنے کیلئے کسی بھی جسم کو روشنی کی رفتار سے سفر کرنا ہوگا۔
نیوٹن، آئن سٹائن اور ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی تحقیقات کے نتیجہ میں اب کشش ثقل کی پیمائش کی جاسکتی ہے لیکن یہ بات معلوم نہیں ہوسکی کہ اس کشش کی موجودگی کی وجہ کیا ہے۔ البتہ یہ واضح ہے کہ اسی کشش کی وجہ سے ساری کائنات میں اربوں نوری سال کے فاصلہ تک پھیلے ہوئے اجسام ایک نظام کے تحت حرکت کر رہے ہیں اور اُن کی اس حرکت کا ذکر قرآن کریم نے بھی کیا ہے۔
چاند پر کشش ثقل زمین کی نسبت چھ گنا کم ہے لیکن بڑے سیاروں مثلاً مشتری پر یہ تین سو اٹھارہ گنا زیادہ ہے۔ زمین کی سطح پر بھی زمین کے مرکز سے فاصلہ اور خشکی کی موٹائی میں فرق کی وجہ سے کشش ثقل مختلف ہوگی۔ چنانچہ ہمالیہ پہاڑ کے اوپر یہ طاقت زیادہ ہے اور بحرہند کی سطح پر نسبتاً کم ہے۔ آجکل کشش ثقل کی بالکل درست پیمائش کرنے والے پیمانے دستیاب ہیں۔
1985ء سے ایک پانچویں قوت کی موجودگی کا خیال بھی ظاہر کیا جاتا رہا ہے جس کی موجودگی مختلف تجربات کے دوران سامنے آتی رہی ہے۔ تاہم ابھی تک اُس کے بارہ میں کوئی حتمی ثبوت نہیں مل سکا۔
کشش ثقل کے بارہ میں یہ معلوماتی مضمون مکرم مرزا مقصود احمد صاحب کے قلم سے انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف احمدی آرکیٹیکٹس و انجینئرز کے ٹیکنیکل میگزین 1999ء میں شامل اشاعت ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/E6GUR]

اپنا تبصرہ بھیجیں