تعارف کتاب: ’’یادوں کے جگنو‘‘

اَنصار ڈائجسٹ- فرخ سلطان محمود
(مطبوعہ انصارالدین نومبر و دسمبر 2013ء)

’’یادوں کے جگنو‘‘

مجھے اکثر یہ احساس ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہر زبان میں (اور بلاشبہ ہر زمانہ میں بھی) شاعر ی (جیسی نازک اور لطیف ادبی صنف) میں صنف نازک کی اجارہ داری صنف کثیف (…!) نے کبھی قائم ہی نہیں ہونے دی۔ چنانچہ اس صورتحال کے پیش نظر جب کبھی کسی خاتون کے قلم سے نکلے ہوئے اشعار نظر سے گزرتے ہیں تو یہ امر اس پہلو سے خوشی کا باعث ہوتا ہے کہ ادب کی اس نازک شاخ میں طبع نازک بھی طبع آزمائی کی کامیاب سعی کرنے کے تجربات سے گزر رہی ہے۔ امرواقعہ یہ ہے کہ ’’یادوں کے جگنو‘‘ کا مطالعہ بھی ایک ایسی ہی خوشگوار حیرت اور مسرت کا باعث بنا۔ اور زمین کے ایک کنارہ (ناروے) میں بسنے والی نبیلہ رفیق کا نام شعروادب کی دنیا میں (بعض حوالوں سے) ایک منفرد اضافہ نظر آیا۔
یہ کتاب جس کا انتساب موصوفہ نے اپنے مرحوم شوہر جناب رفیق فوزی کے نام کیا ہے، A5 سائز کے ڈیڑھ صد صفحات پر مشتمل ہے اور ظاہری طور پر بھی خوبصورتی کا ایک مرقّع ہے۔ اس کی خطاطی، کاغذ اور طباعت کا معیار بہت اعلیٰ ہے۔ اگرچہ اس مجلّد کتاب کے رنگین سرورق میں تو نسوانیت کی جھلک نمایاں ہے ہی لیکن کلام کا بہت سا حصہ بھی صنف نازک کے ایسے ہی نازک جذبات کو عیاں کررہا ہے جو شاعری کے اسرار سے الجھنے والوں کے لئے ہی مخصوص ہیں۔ اگرچہ کتاب کے آغاز میں شاعرہ نے فراخ دلی سے اعتراف کیا ہے کہ اِس میدان میں اُن کا سفر گنتی کے چند سالوں سے زیادہ پرانا نہیں ہے تاہم اس اعتراف کے بعد جب ہم اُن کے رشحات قلم پر نظر ڈالتے ہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ جتنا بھی لکھا ہے، اچھا لکھا ہے اور امید ہے کہ یہ سفر اب زیادہ سرعت اور رفعت کے ساتھ جاری رہے گا۔
’’یادوں کے جگنو‘‘ میں نظموں اور غزلوں کی کُل تعداد 60 ہے جن میں شامل ایک طویل نظم ’’شور‘‘ دل کے تاروں پر مضراب کا سا اثر رکھتی ہے۔ شاعر یا شاعرہ کا اصل تعارف چونکہ اُس کا کلام ہی ہوتا ہے اس لئے اس کتاب میں سے چند اشعار نمونۃً ہدیۂ قارئین ہیں:

خدایا مجھے اپنی بانہوں میں لے لے
محبت کی گہری گھٹاؤں میں لے لے
مرض  لاشفا  ہے  میری معصیت کا
تُو شافی ہے اپنی شفاؤں میں لے لے
…………………
تُو وہ کہ ڈال دیتا ہے جھولی میں سب کی خیر
میری طرف بھی ڈال لے رحمت کی اِک نظر
دھندلاگیا ہے آئینہ میرے نصیب کا
اُمڈا ہوا طوفان ہے رستہ ہے پُرخطر
اپنے کرم سے بخش دے تُو عافیت کا دَر
رستہ نہ بھول جاؤں مَیں پُرپیچ ہے سفر
…………………
تُو فلک کا سرِّ مبین ہے تُو طلسم دونوں جہان کا
جو بھی عرش پاک سے مَے ملی وہی جام جام لٹا دیا
تیری نوکری میں ہے سروری تیری چاکری میں سرور ہے
ترے سحر خیز وجود نے مرا روم روم جگادیا
…………………
یونہی سروری ہاتھ آئی نہیں تھی
دیوں کو لہو سے جلانا پڑا تھا
طنابیں کلیسا کی ٹوٹی نہ ہوتیں
زمیں پر فلک کو جھکانا پڑا تھا
صدائے اذاں قُرطبہ نے سُنی پر
ملّاحوں کو بیڑا جلانا پڑا تھا
یونہی محفلِ عید سجتی نہیں ہے
پسر کو زمیں پر لٹانا پڑا تھا
…………………
انگور چڑھا نہ کیکر پر
ہر شاخ وہاں دو دھاری تھی
کہنے کو بہت کچھ تھا دل میں
پر بات لبوں پر بھاری تھی
…………………
کبھی خود سے نظریں ملا کر تو دیکھو
قرض اُلفتوں کا چُکا کر تو دیکھو
حقائق نظر میں اُلجھ سے گئے ہیں
نگاہوں کی مستی ہٹا کر تو دیکھو
…………………
سوکھی فصلوں پہ لرزہ طاری ہے
لوگ کہتے ہیں لہلہاتی ہیں
…………………
آتشِ عشق جلی ہے اسے مدھم کردو
اپنے حرفوں سے مرے سوز کو کچھ کم کردو
یہ نہ کہنا کہ ترے پاس نہیں میری دوا
بس برستے ہوئے آؤ مجھے پُرنم کردو
گر تُو سمجھے کہ یہ فریاد نہیں دھوکہ ہے
آزمانے چلے آؤ مجھے نادم کردو
…٭٭…٭٭…٭٭…

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں