1903ء … ماموریت کا 22واں سال

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍ اور 27؍ جنوری 2003ء میں 1903ء کے اہم واقعات اور جماعتی ترقیات کا مختصر تذکرہ (مرتبہ مکرم حبیب الرحمن زیروی صاحب) شامل اشاعت ہے۔
یکم جنوری 1903ء کو عید کا دن تھا۔ اس روز صبح 5 بجے حضرت مسیح موعودؑ نے کشفاً دیکھا کہ آپؑ نے ایک لباس فاخرہ پہنا ہوا تھا اور چہرہ چمک رہا ہے پھر یہ وحی ہوئی: (ترجمہ) خدا جو رحمن ہے تری سچائی کو ظاہر کرنے کے لئے کچھ ظہور میں لائے گا۔ خدا کا امر آ رہا ہے، تم جلدی نہ کرو۔ یہ ایک خوشخبری ہے۔
حضورؑ فرماتے ہیں کہ یہ ہدیۂ عید ہے جو میرے خدا نے مجھے بھیجا ہے۔
اُس روز حضورؑ نے میٹھے چاول تیار کروائے جو صبح احباب نے کھائے۔ قریباً گیارہ بجے آپؑ مسجد اقصیٰ میں چوغہ زیب تن فرمائے ہوئے تشریف لائے تو حضرت حکیم نورالدین صاحبؓ نے عید کی نماز پڑھائی۔ پھر جب ظہر کے وقت حضورؑ مسجد میں تشریف لائے تو کمر کے گرد ایک صافہ لپٹا ہوا تھا۔ فرمایا کہ کچھ شکایت درد گردہ کی ہورہی ہے۔ غنودگی میں الہام ہوا ہے: ’’تاعود صحت‘‘۔ صحت تو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے جب تک وہ ارادہ نہ کرے، کیا ہوسکتا ہے۔
مولوی کرم دین بھیں کی طرف سے دائرکردہ مقدمہ کی تاریخ 17؍جنوری مقرر تھی، چنانچہ حضورؑ 15؍جنوری کو قادیان سے روانہ ہوئے اور امرتسر سے بذریعہ گاڑی لاہور پہنچے۔ رات میاں چراغ دین صاحب رئیس لاہور کے ہاں گزاری جہاں الہام ہوا: ’’میں تجھے ہر ایک پہلو سے برکتیں دوں گا‘‘۔ یہاں قریباً چالیس افراد نے بیعت کی۔ 16؍جنوری کو بذریعہ ٹرین جہلم روانگی ہوئی۔ کئی سٹیشنوں پر ہزاروں افراد کا ہجوم تھا۔ دو بجے گاڑی جہلم پہنچی۔ ہزاروں افراد زیارت کے لئے سٹیشن پر اور راستہ میں کھڑے تھے۔ قیامگاہ پر بھی ہجوم تھا جن کی درخواست پر آپؑ کچھ دیر کے لئے کوٹھے پر تشریف لے گئے اور کرسی پر رونق افروز ہوئے۔
17؍جنوری کو حضورؑ عدالت میں پیش ہوئے تو لالہ سنسار چند مجسٹریٹ درجہ اوّل تعظیماً کھڑا ہوگیا۔ کچہری سے واپسی پر سینکڑوں مردوں اور عورتوں نے بیعت کی۔ اگلے روز بھی وقفہ وقفہ سے مردوں اور عورتوں کے گروہ بیعت کرتے رہے۔ 19؍جنوری کو قادیان تشریف آوری ہوئی۔ اور اُسی روز عدالت نے آپؑ کو بری قرار دیدیا۔
23؍جنوری کو ایک عرب نے خط میں لکھا کہ اگر آپ ایک ہزار روپیہ میں مجھے اپنا وکیل مقرر کردیں تو مَیں آپ کے مشن کی اشاعت کروں گا۔ آپؑ نے لکھوایا کہ ہمارا ایک ہی وکیل ہے جو عرصہ بائیس سال سے اشاعت کرر ہا ہے اور اُس کے ہوتے ہوئے کسی اَور کی کیا ضرورت ہے۔
28؍جنوری کو مولوی کرم دین نے دوسرا مقدمہ آپؑ کے خلاف کردیا۔
30؍جنوری کو زارِ روس کا عطا ملنے کی بشارت آپؑ کو دی گئی۔
31؍جنوری کو آپؑ کو ایک نافلہ (پوتا) کی پیدائش کی بشارت دی گئی۔
13؍مارچ بروز جمعہ کو حضورؑ نے بیت الفکر کے ساتھ ایک کمرہ کی بنیاد رکھی جس کا نام بیت الدعا تجویز فرمایا۔ اسی روز منارۃالمسیح کی بنیادی اینٹ بھی رکھی گئی۔ اینٹ پر حضورؑ نے دعا کی اور پھر آپؑ نے جس جگہ کی نشاندہی فرمائی وہاں حضرت فضل الٰہی صاحب لاہوری نے وہ اینٹ رکھ دی۔ 8؍مئی کو منار کی تعمیر کے خلاف ہندوؤں کی شکایت پر تحصیلدار صاحب قادیان آئے۔ 16؍مئی کو ہندوؤں کا مقدمہ ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے خارج کردیا۔
مئی میں الہام ہوا: ’’جے تو میرا ہورہیں، سب جگ تیرا ہو‘‘۔
28؍مئی کو تعلیم الاسلا م کالج کی بنیاد رکھی گئی۔ افتتاحی تقریب کی صدارت حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ نے کی۔ حضورؑ بیماری کے سبب تشریف نہیں لائے لیکن اُس وقت بیت الدعا میں جاکر کالج کے لئے دعا کی۔ حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ پہلے پرنسپل مقرر ہوئے۔
14؍جولائی کو کابل میں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی شہادت کا دردناک واقعہ ہوا۔ جس کے فوراً بعد کابل میں خوفناک آندھی کا طوفان اٹھا اور اگلے روز ہیضہ کی وبا پھوٹ پڑی جس میں سردار نصراللہ خان کی بیوی اور ایک بیٹا، شاہی خاندان کے کئی افراد اور ہزاروں باشندے لقمہ اجل بنے۔ 16؍اکتوبر کو حضورؑ نے اس بارہ میں کتاب ’’تذکرۃالشہادتین‘‘ بھی تصنیف فرمائی۔
23؍اگست کو حضورؑ نے ایک اشتہار میں پگٹ اور ڈوئی کے متعلق پیشگوئیاں تحریر فرمائیں۔
ستمبر میں رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے دس ہزار خریدار بنانے کی تحریک فرمائی۔
اکتوبر 1903ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحبؓ کی شادی حضرت سیدہ امّ ناصر صاحبہؓ سے ہوئی۔
ہندوؤں کے ایک اشتہار کے جواب میں حضورؑ نے کتاب ’’نسیم دعوت‘‘ تحریر فرمائی نیز ہندوؤں کے لئے ایک رسالہ ’’سناتن دھرم‘‘ بھی شائع فرمایا۔ اسی طرح عربی زبان میں ایک رسالہ ’’سیرۃالابدال‘‘ بھی تحریر فرمایا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں