Svalbard میں دعوت الی اللہ

ماہنامہ ’’النور‘‘ ناروے دسمبر 2009ء میں مکرم چودھری شاہد محمود کاہلوں صاحب کے قلم سے ایک تبلیغی سفر کی سرگزشت بیان ہوئی ہے۔ یہ سفر Svalbard کے علاقہ کا تھا جو ناروے کی ملکیت شمار ہوتا ہے۔ 63ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا یہ علاقہ دس جزائر پر مشتمل ہے جو برف پوش پہاڑوں سے اٹا پڑا ہے۔ ان میں سب سے بڑا جزیرہ Longyearbyen ہے جس کی آبادی 2175 نفوس پر مشتمل ہے۔ آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا جزیرہ Barentsoya ہے جس کی آبادی پانچ سو روسی کان کنوں پر مشتمل ہے۔ یہاں کوئلے کی قریباً چار سو کانیں ہیں۔ دیگر معدنیات بھی وافر ملتی ہیں۔ باقی جزیروں پر آبادی بہت کم ہے۔ مثلاً ایک جزیرے پر صرف آٹھ افراد ہیں جو تحقیقی کام میں مصروف ہیں۔ ایک اَور جزیرے پر چار افراد پر مشتمل ایک ڈینش فیملی آباد ہے۔ جبکہ ایک جزیرے پر گزشتہ تیس سال سے صرف ایک شخص مقیم ہے۔ ان تمام افراد کو سال میں ایک بار بحری جہاز کے ذریعے اشیائے خورونوش پہنچائی جاتی ہیں اور کسی مشکل صورتحال سے نمٹنے کے لئے اُن کے ساتھ وائرلیس رابطہ رکھا جاتا ہے۔ Svalbard کے گورنر سال میں ایک بار ہیلی کاپٹر کے ذریعہ اپنی رعایا سے ملاقات کرتے ہیں۔
1920ء تک Svalbard کا علاقہ کئی ممالک کا مشترکہ علاقہ شمار کیا جاتا تھا اور یہاں کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا تھا۔ جب یہاں سے کوئلہ نکالنے کا کام شروع کیا گیا تو یہاں قانون لاگو کرنے کے لئے اس علاقہ کو بعض شرائط کے ساتھ ناروے کے سپرد کردیا گیا۔
یہاں برفانی ریچھ کثرت سے پائے جاتے ہیں جنہیں دیکھنے کے لئے سیاحوں کی بڑی تعداد (قریباً تین لاکھ) یہاں آتی ہے۔ چونکہ کاریں بہت کم ہیں اس لئے سڑکوں کے ساتھ ٹریفک کو کنٹرول کرنے والی علامات کی جگہ یہ انتباہ درج نظر آتا ہے کہ برفانی ریچھ سے محتاط رہیں اور کار سے باہر نکلتے وقت گن اپنے پاس رکھیں۔ یہ گن کرایہ پر حاصل کی جاسکتی ہے۔
قطب شمالی کے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں گرمیوں میں طویل دن اور سردیوں میں طویل راتیں آتی ہیں۔ بہت سے سیاح گرمیوں میں آدھی رات کا سورج اور سردیوں میں ناردرن لائٹس کا نظارہ کرنے آتے ہیں۔ یہ لائٹس سورج کی کرنوں اور قطب شمالی پر موجود برقی مقناطیسیت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔
Svalbard میں پہلی بار دعوت الی اللہ کرنے کی خاطر ہم نے یکم جون 2008ء کو یہاں کا سفر کیا۔ مکرم زرتشت منیر احمد خان صاحب امیر جماعت ناروے، مکرم چودھری مقصود احمد ورک صاحب اور خاکسار اوسلو سے اڑہائی گھنٹے کی پرواز کے ذریعے یہاں پہنچے اور یہاں کے میئر، لائبریرین، چرچ کے پادری اور اوسلو یونیورسٹی میں جیالوجی کے سربراہ سے ملاقات کی۔ لائبریری میں نمائش کا اہتمام کیا اور ایک سیمینار کیا جس میں میئر بھی شامل ہوئے۔ بعد ازاں میئر نے ہمیں اپنی کار پر دونوں بڑے جزائر کی سیر کروائی اور ریڈار سٹیشن، کوئلے سے پتھر الگ کرنے کی مشین، ابتدائی کان کنی کا طریقہ اور جیالوجیکل میوزیم وغیرہ دکھائے۔ روسی کان کنوں کو بھی اسلام کا پیغام پہنچانے کی توفیق ملی اور 6؍جون کو ہماری واپسی ہوئی۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں